ایک الف لیلوی سانپ اور بابا مھندہ

بابے مھندے میں اور بہت سی نیک عادتوں کے علاوہ ایک خصلت یہ تھی کہ اپنی دشمنی کبھی دوستی میں نہ بدلتا۔ کسی کے ساتھ ایک بار پھڈا ہو گیا تو ساری عمر اُسی میں کاٹ دیتا تھا۔ اُس کا سبب صاف تھا، یعنی سانپوں سے اُس کا یارانہ تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں دیکھا تو ایک نہایت زرد رنگ کا سانپ  نمودار ہو گیا۔ یہ سانپ مشکل سے ڈیڑھ فٹ کا ہوگا اور آدھا انچ موٹا تھا۔ سورج آسمان پر صاف چمک  رہا تھا اور یہ سانپ اُس کی کرنوں میں اتنا سنہرا تھا کہ یوں لگتا سونا پھیلا ہوا ہے۔(تصویر: پکسا بے)

ہمارے گاؤں میں ایک بابا محمد علی تھا، 125 سال کا ہو کر 2010 میں فوت ہوا۔ ہمارے گھر کے پاس ہی اُس کا مکان تھا۔ ہم اُسے بابا مھندہ کہتے تھے۔ بابے مھندے میں اور بہت سی نیک عادتوں کے علاوہ ایک خصلت یہ تھی کہ اپنی دشمنی کبھی دوستی میں نہ بدلتا۔ کسی کے ساتھ ایک بار پھڈا ہو گیا تو ساری عمر اُسی میں کاٹ دیتا تھا۔  اُس کا سبب صاف تھا، یعنی سانپوں سے اُس کا یارانہ تھا۔ دُور دُور سے سانپ کے ڈسے  آتے تھے اور اُس سے شفا پاتے تھے۔

اُس کے دونوں ہاتھوں پر سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے داغ تھے، ہر سال اپنے ہاتھوں اور جسم پر جونکیں لگواتا تھا اور کئی پاؤ خون نچڑواتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی دور میں ایک خطرناک سانپ نے اُسے کاٹ لیا تھا اور مدتیں گزرنے کے بعد بھی اُسے اپنا خون نکلوانا پڑتا تھا۔

میں چھوٹا سا تھا، تب تو کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ کیا خوفناک عمل کرتا ہے مگر جب بڑے ہوتے گئے تو پتہ چلتا گیا۔ بابے مھندے کو سینکڑوں قسم کے سانپوں سے واسطہ پڑا اور فتح پائی۔ اُس نے جو کہانیاں اپنی زندگی کی سنائی ہیں وہ میں اپنی خودنوشت میں لکھوں گا کہ بہت دلچسپ ہیں لیکن آج یہاں اُس کا ایک واقعہ اپنی آنکھوں دیکھا سنا دوں۔

ہم چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے۔ ہمارے گاؤں کے جنوب میں ایک مربع میل کا چھوٹا سا صحرا یا ریت کے ٹیلے کہہ لیں، وہ تھے۔ کسی وقت یہاں سے دریائے بیاس نکلتا تھا اور اب صرف ریت نکلتی تھی۔  صحرا کے خشک پودے یعنی عک اور دوسری جھاڑیاں بکثرت ہوتی تھیں  اور ہم لڑکے بالوں کی ڈیوٹی ہوتی تھی کہ گھر کا چولہا جلانے کے واسطے وہ عک اور جھاڑیاں کاٹ کے لاؤ۔

ہم سکول سے فارغ ہوتے، گھر آتے، روٹی کھاتے اور چچازادوں سے مل کر سیدھے اِن ٹیلوں پر پہنچ جاتے۔ یہ ٹیلے کھیل کود میں بہت سہولت کار تھے۔ خرگوش، چوہے، سیہہ، سانپ اور دوسری ہزاروں بلیات یہاں ہوتی تھیں، جن کا شکار ہم کرتے پھرتے تھے اور ایندھن سمیٹتے تھے۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہم دو بھائی، علی اصغر (یہ 23 سال کی عمر میں ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گیا تھا) اور میں اپنے دو چچا زادوں علی ارشد اور علی اختر کے ساتھ اِن ٹیلوں پر اودھم مچا رہے تھے اور ایک عک کے پودے کی جڑیں ریت سے نکال رہے تھے۔ یہ عک کی جڑیں سوکھ  کر دوزخ کے ایندھن کی طرح جلتی ہیں اور بہت آگ دیتی ہیں۔

یہ جگہ ایک بڑے سے ریت کے ٹیلے کی چوٹی تھی۔ ہم ریت کھود کھود کر ہاتھوں سے اور لوہے کے رنبے سے نکالے جاتے تھے کہ ایک دم ایک شُوک سی ریت میں سے اُٹھی۔ ہم فوراً ڈر کر ایک جھٹکے کے ساتھ پیچھے ہٹے۔ تب ہماری عمریں دس سے 12 سال تھیں۔ شوک اتنی تیز اور ہولناک تھی کہ ہم باوجود روزانہ کی بلیات اور سانپ دیکھنے والے اُس وقت کانپ کے رہ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تھوڑی ہی دیر میں دیکھا تو ایک نہایت زرد رنگ کا سانپ اُس میں سے نمودار ہو گیا۔ یہ سانپ مشکل سے ڈیڑھ فٹ کا ہوگا اور آدھا انچ موٹا تھا، لیکن اتنا سنہرا تھا کہ اللہ اللہ۔ سورج آسمان پر صاف چمک  رہا تھا اور یہ سانپ اُس کی کرنوں میں اتنا سنہرا تھا کہ یوں لگتا سونا پھیلا ہوا ہے۔ سونے کے علاوہ اِس کا کوئی دوسرا رنگ نہیں تھا۔ ہم اِس سے کافی دُور ہو کر کھڑے ہوگئے۔  اِس طرح کا سانپ چونکہ پہلی بار دیکھا تھا اِس لیے حیران بہت ہوئے۔ اب سوچا  کہ چلو اِسے مارتے ہیں۔ مَیں نے دُور سے ایک لکڑی اُٹھائی اور جونہی سانپ کی طرف بڑھا وہ ایسے اُوپر کی طرف اٹھا جیسے زمین پر نیزہ گاڑ دیا گیا ہو۔ اُس کی زردی میں پہلے سے بھی اضافہ ہو گیا۔ سانپ کی آنکھیں اُبل کر باہر کو نکل آئیں۔ یہ آنکھیں اتنی خوفناک تھیں کہ کبھی ایسی  نہ دیکھی تھیں۔ مَیں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا اور اندازہ لگا لیا کہ سانپ ہم سے کہیں زیادہ طاقتور اور تیز ہے لہذا اِس سے دُور ہی رہا جائے اور اِسے اِسی حالت میں چھوڑ دیا جائے۔

ہماری آنکھیں اُس سے دوچار نہیں ہو رہی تھیں۔ ہم نے سب کام وہیں چھوڑا اور گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ مگر دل میں ہمارے ایک خوف بیٹھ گیا کہ اب اِس سانپ کے یہاں ہوتے ہوئے ٹیلے ہم سے چھوٹ جائیں گے۔ خالی ہاتھ گھر پہنچے تو والدہ نے ڈانٹا کہ ایندھن لے کر کیوں نہیں آئے۔ ہم نے سب واقعہ دوگنا بڑھا چڑھا کر سنایا، تب والدہ نے کانوں پر ہاتھ رکھوائے کہ آئندہ وہاں نہ جائیں۔ لیکن ہمیں چین کہاں پڑتی تھی ۔ ہمارے ٹیلے ہم سے چھُٹنا اچھا شگن نہیں تھا۔  اُسی وقت بھاگے بھاگے گئے، بابا مھندہ اپنی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ اُس کی چارپائی پربہت صاف اور سفید چادر بچھی ہوتی تھی، تکیہ بھی سفید تھا اوریہ سب دودھ کی طرح روشن ہوتا تھا۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً تمام واردات بابے مھندے کو سنا دی۔ بابے مھندے نے تمام واردات غور سے سُنی اور مجھ سے بار بار پوچھا، واقعی وہ بالکل سنہرا سانپ تھا اور دوسرا کوئی رنگ اُس میں شامل نہیں تھا؟ مَیں نے کہا: ’بابا جی مجھے تو کوئی اور رنگ اُس میں نظر نہیں آیا‘ اور میرے چچا زادوں نے بھی اِس بات کی تصدیق کی۔

بابا مھندہ اُسی وقت چارپائی سے اُٹھا، اپنے بیٹے دُلے کو جو اُس وقت خود بھی بوڑھا ہو چکا تھا اور ہمیں اور خود کو ایک گدھی ریڑھی پر بٹھایا اور فوراً ٹیلوں کی طرف چل پڑے۔ ہم نے کہا بابا جی وہ بہت خوفناک تھا، ہم تو قریب نہیں جائیں گے۔ اُس نے کہا: ’بس مجھے وہ جگہ دکھا دینا جہاں تم نے اُسے دیکھا تھا۔‘ لیجیے جناب تھوڑی دیر بعد ہی ہم سب وہاں موجود تھے لیکن اب یہ حوصلہ تھا کہ بابا مھندہ ہمارے ساتھ ہے۔

ہم نے دور ہی سے اُس جگہ کی طرف اشارہ کر دیا کہ اُس جگہ وہ بلا تھی مگر اب نظر نہیں آرہی تھی۔ بابے مھندے نے وہاں پہنچ کر اپنی چھڑی سے کوئی پانچ سو مربع فٹ جگہ پر لکیر کھینچ دی اور دُلے سے کہا کہ  اپنے دونوں پاؤں پر اوپر تک کپڑا باندھ لو اور اِس دائرے میں کھڑی تمام جھاڑیاں اپنی کلہاڑی سے کاٹ دو اور صاف میدان بنا دو۔ اُس نے پہلے اپنا صافہ پھاڑ کر دونوں پاؤں کے گرد گھٹنوں تک لپیٹ لیا اورجھاڑیاں کاٹنے لگا۔ اِس عمل میں اُسے ایک گھنٹہ لگا۔ یہ سہ پہر سے آگے کا وقت تھا اور شام قریب تھی۔  لیکن تمام جھاڑیاں کاٹنے کے باوجود سانپ نظر نہیں آیا۔ بابا مھندہ تھوڑا پریشان ہو گیا۔ ہم نے کہا بابا جی سانپ کہیں دور نکل گیا ہوگا۔ اُس نے پھر مجھ سے تصدیق کی کہ واقعی وہ سنہرا سانپ تھا، جب مَیں نے ہاں کہا، تو اُس نے کہا: ’پھر یہ اِس جگہ سے دور نہیں جا سکتا، ہر حالت میں یہیں ہے۔‘

اتنے میں شام ہوگئی ۔ اب بابے مھندے نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنا شروع کیا اور اُس کے بعد دوبارہ اپنی چھڑی سے ایک دائرہ کھینچ کر ہمیں کہا: ’اب گھر چلیں کل صبح پھر آئیں گے۔ اب جب تک اِسے ڈھونڈ نہ لوں چین نہیں آئے گا۔ اِس کا تلاش کرنا اِس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر خدا نخواستہ اِس نے کسی کو ڈس لیا تو وہ تو فوراً مرے گا ہی لیکن اِس کے منہ کو بھی انسانی خون لگ جائے گا، پھر اِسے عادت ہو جائے گی اور یہ بات پورے گاؤں حتیٰ کہ جانوروں کے لیے بھی خطرناک ہے۔‘

ہم نے کہا: ’لیکن کل تک تو یہ دور نکل جائے گا۔‘ اُس نے کہا: ’ہرگز نہیں جائے گا، یہ جو دائرہ مَیں نے کھینچ دیا ہے، اِس سے باہر کبھی نکل ہی نہیں سکتا۔‘ لو جی ہم اُس دن وآپس چلے گئے اور دوسرے دن سکول جانے کی بجائے صبح ہی بابے مھندے کے ساتھ پھر ٹیلوں پر آ گئے لیکن اب کی بار کوئی دس لوگ مزید ساتھ تھے اور پورے گاؤں میں اِس سانپ کی دھوم پڑ چکی تھی۔ اب بڑی احتیاط سے تمام جھاڑیوں اور عک کے پودوں کی کھدائی ہونے لگی ۔ بابا مھندہ چھڑی تھامے خود ایک ایک جگہ کرید رہا تھا۔ حتیٰ کہ دوپہر ہونے کو آئی اور ہم سب مایوس ہوگئے۔ اتنے میں ایک جگہ سے پھر اُسی طرح کی شوک سنائی دی۔ ہم بھاگ کر سب دور ہو گئے مگر بابا مھندہ اپنی جگہ کھڑا رہا۔ وہ سانپ مکرر ایک چھوٹی سی جھاڑی سے نمودار ہو چکا تھا اور وہی جوش جذبہ اُس میں موجود تھا۔ ایک دم اپنی دُم پر اتنا بلند ہو گیا جیسے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہوا۔ آج اُس نے اپنی چھجلی بھی پھیلا دی تھی۔ اِس چھجلی میں سُنہری دھاریں آگ کی طرح لائٹیں مار رہی تھیں۔ مَیں نے دیکھا کہ بابے مھندے کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا، جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو۔

اب ہم سب دور تھے اور فقط بابا مھندہ اور وہ سانپ آمنے سامنے میدان میں تھے۔ بابے مھندے نے اپنی چھڑی سے اُس کے گرد ایک اور دائرہ کھینچنا شروع کر دیا اور کچھ پڑھتے پڑھتے پھر ایک کے بعد دوسرا دائرہ بابا مھندہ اُس کے گرد تنگ کرتا گیا اور کھینچتا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ بابا مھندہ جیسے جیسے دائرہ کھینچتے ہوئے مُڑ رہا تھا وہ سانپ پھدک پھدک کر پیچھے ہٹ رہا تھا اور اپنی چھجلی اُسی طرف پھیر رہا تھا جس طرف چھڑی پھر رہی تھی۔ یہاں تک کہ دائرہ سمٹ کر دس مربع فٹ میں رہ گیا اور سانپ اُسی دائرے میں قید ہو کر رہ گیا اور وہاں سے ٹَس سے مَس نہ ہوا اور نہ دائرے سے باہر ہوا۔ اُس کے بعد بابے مھندے نے باہر کھڑے ہو کر اپنی چھڑی اُس کی طرف لے جانا شروع کی۔ تب سانپ ایک ہی دم بابے مھندے کی طرف اُچھلا، ہمیں لگا کہ اب بابا مھندہ مارا گیا لیکن بابا اپنی جگہ پہاڑ کی طرح جما رہا۔ سانپ اُچھل کر عین دائرے کے کنارے کے ساتھ اندر ہی گرا اور ایک ناخن برابر بھی باہر نہیں نکلا۔ ہماری حیرانی دوچند ہو گئی کہ یہ لکیر کیوں پار نہیں کر رہا۔ آخر جب وہ نیچے گرا تو بابے مھندے نے اپنی چھڑی آرام سے اُس کے جسم پر رکھ دی، سانپ کو چھڑی لگنا تھی کہ وہ اپنے ہی اندر سمٹ کر گیند کی طرح گول ہونے لگا اور اکٹھا ہو کر یعنی سکڑ کر شانت ہو گیا۔ اُسی عالم میں بابے مھندے نے اُس کے اوپر ایک موٹا کپڑا پھینک دیا، پھر چھڑی ہی کی مدد سے اپنے کوزے میں ڈال لیا  اور اوپر سے وہی کپڑا باندھ  دیا۔ تب ہم سب گھر کو چل دیے۔

اب ہم نے بابے مھندے سے اِس سانپ کی خصوصیات پوچھیں۔ اُس نے کہا: ’بیٹا یہ سانپ یہاں اول تو اکلوتا ہے اور کسی سیلاب میں سے اترا ہے۔ دوئم اِس اکیلے سانپ کا زہر سو کوبرا سانپوں سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہے۔ اگر یہ ہلکا سا چھو بھی جائے تو جسم میں خون ایک لمحے سے پہلے جم کر سیاہ ہو جائے گا۔ سوئم اِس کے زہر سے جب مَیں دوائی تیار کروں گا تو وہ ایسا تریاق ہوگا کہ اُس دوائی کا ایک قطرہ زہریلے سے زہریلے سانپ کے ڈسے کو زندگی بخش دے گا۔‘

ایک بندے نے پوچھا: ’بابا جی زہر نکالنے کے بعد پھر آپ اتنے خطرناک سانپ کو کیا کرو گے؟‘ اُس نے کہا: ’جب اِس کا زہر کشید کر لوں گا تو اِسے شکر کھلا دوں گا اور اُس کے سبب یہ چند ہی لمحوں میں  سیاہ ہو کر مر جائے گا۔ اِس کا نام کلساڑ سانپ ہے۔ اِس کی آنکھیں ایک لکیر کو ایک خندق کی طرح دیکھتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ اُس لکیر کو پار نہیں کر سکتا۔ یہ بہت نازک ہوتا ہے، جب تک اِس کے جسم کو کوئی چھڑی چھوتی نہیں یہ بہت خطرناک ہوتا ہے، اگر اِسے ہلکی سی بھی کوئی شے چھو لے تو مست ہو کر لیٹ جاتا ہے، پھر اُسی عالم میں کئی گھنٹے لیٹا رہتا ہے۔ جب تک کہ اگلی صبح طلوع نہ ہو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی