جس آرٹیکل میں ترمیم کی گئی وہ آرمی چیف سے متعلق نہیں: چیف جسٹس

ابھی تک ہمیں یہ اسکیم ہی سمجھ نہیں آئی کہ کن قواعد کے تحت توسیع ہوئی۔ جنگ کے حالات میں کرنل یا جنرل کی ریٹائرمنٹ کی مدت آرٹیکل 255 کے تحت کچھ مہینے بڑھا دی جاتی ہے لیکن تین سال والی بات سمجھ سے باہر ہے: جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس

جیورسٹس فاؤنڈیشن کے ریاض حنیف راہی نے آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ  کی تین سالہ توسیع کے خلاف رِٹ دائر کی تھی۔  (فائل تصویر:  روئٹرز)

سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین سالہ توسیع کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور دستاویزات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئین کے جس آرٹیکل میں ترمیم کی گئی وہ آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔

چیف جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ دیگر ججوں میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ شامل ہیں۔

جیورسٹس فاؤنڈیشن کے ریاض حنیف راہی نے آرمی چیف کی تین سالہ توسیع کے خلاف رِٹ دائر کی تھی۔ گذشتہ روز پہلی سماعت کے لیے وہ خود تو نہ آئے لیکن یہ سیاسی و قانونی بحرانی صورت حال پیدا کر دی۔ عدالت نے اسے عوامی اہمیت اور حقوق انسانی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے  اس پر سماعت کا فیصلہ کر لیا تھا۔

آج سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس  نے واضح کیا کہ یہ ازخود نوٹس نہیں ہے بلکہ درخواست گزار کی درخواست کو ہی سُنا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے درخواست گزار کو روسٹرم پر طلب کرتے کہا کہ ’گمشدہ درخواست گزار کہاں ہیں؟‘ ساتھ ہی جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ’آپ تو کل آئے ہی نہیں لیکن ہم  نے آپ کی درخواست کو زندہ رکھا ہوا ہے۔‘

دوران سماعت اٹارنی جنرل انور منصور خان نے گذشتہ روز کی گئی ترمیم اور کابینہ اجلاس کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی منظوری کی دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔ 

چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ ’ایک بندہ اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا ہے تو اس کی ریٹائرمنٹ کو معطل کیا جاسکتا ہے۔ اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر اٹارنی جنرل نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ’ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں۔‘

جسٹس منصور علی شاہ نے آج بھی تابڑ توڑ سوالات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ ’آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی؟مدت پوری ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہوسکتی ہے۔ یہ تو بہت عجیب بات ہے۔‘

اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 57 سال ہے۔ لیکن چیف جسٹس  نے اعتراض اُٹھایا کہ اس میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں ہے تو اٹارنی جنرل  نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’جی بالکل قواعد میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر نہیں۔‘

جسٹس منصور شاہ نے سوالات اُٹھائے کہ ’کیا آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفیکیشن ریکارڈ پر موجود ہے؟ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا جو نوٹیفیکیشن جاری ہوا تھا وہ کیا کہتا ہے؟ اگر ریٹائرمنٹ سے دو دن قبل آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع ہوتی ہے تو کیا وہ جاری رہے گی؟ اگر تین سال کی مدت ہوتی ہے تو وہ کہاں لکھا ہے؟‘

اٹارنی جنرل نے تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ معاملہ دوبارہ تعیناتی کا ہے۔ 1948 سے  لے کر اب تک تقرریاں ایسے ہی ہوئی ہیں۔ جسٹس کیانی کی تقرری بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔‘ تاہم چیف جسٹس نے فوراً تصحیح کی کہ ’وہ جسٹس کیانی نہیں جنرل کیانی کی تقرری تھی۔‘

اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ ’آرمی چیف فوج کو کمانڈ کرتا ہے۔ ان کی تعیناتی صدر، وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرتے ہیں۔‘

جسٹس منصور شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’یہاں یہ سوالات غور طلب ہیں کہ آرٹیکل 243 میں تعیناتی کی مدت کی بات کی گئی ہے، تو آرمی چیف کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوتے ہیں؟ کیا آرمی چیف حاضر سروس افسر بن سکتا ہے یا ریٹائرڈ جنرل بھی بن سکتا ہے؟ جب کہ آئین کا آرٹیکل 243 تو مراعات اور دیگر معاملات سے متعلق ہے۔‘

اس موقع پر چیف جسٹس  نے ریمارکس دیے کہ ’آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصار کر رہے ہیں اور جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جو سروس سے نکالے جاچکے یا ریٹائر ہوچکے ہیں، اس آرٹیکل کے تحت ان کو واپس بلایا جاتا ہے۔ جو ترمیم کرکے آپ آگئے ہیں وہ آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ ابھی تک ہمیں یہ اسکیم ہی سمجھ نہیں آئی کہ کن قواعد کے تحت توسیع ہوئی۔ کیونکہ جنگ کے حالات میں کرنل، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی مدت آرٹیکل 255 کے تحت کچھ مہینے بڑھا دی جاتی ہے لیکن تین سال والی بات سمجھ سے باہر ہے۔‘

چیف جسٹس نے مزید کہا: ’یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا۔ اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے۔‘

انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ’جنرلز چار پانچ مرتبہ خود کو توسیع دیتے رہتے ہیں۔ یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے۔ بہت سارے قواعد خاموش ہیں۔ کچھ روایتیں بن گئی ہیں۔ ماضی میں چھ سے سات جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں۔ اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں۔‘

بظاہر ایسا معلوم ہوا کہ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں اٹارنی جنرل عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔

مزید کیسز کی وجہ سے سماعت میں وقفہ کیا گیا، جو آج ایک بجے دوبارہ شروع کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے سماعت میں وقفے کا حکم دیتے ہوئے کہا: ’ابھی چائے کا کپ چاہیے تاکہ اس کیس کو مزید سمجھ سکیں۔‘

سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی نکات

گذشتہ روز عدالت عظمیٰ نے دستیاب دستاویزات کو دیکھتے ہوئے چار نکتے قابل غور قرار دیے تھے۔

1۔ توسیع کس قانون کے تحت ہوئی؟

عدالت نے نوٹ کیا کہ اٹارنی جنرل انہیں کوئی ایسا قانونی حوالہ نہیں دے سکے کہ یہ توسیع کس قانون کے تحت عمل میں لائی گئی۔

حکومتی موقف: وفاقی کابینہ نے ایک ہنگامی اجلاس میں پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کردی ہے اور آرٹیکل میں الفاظ ’مدت میں توسیع‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزیر شفقت محمود کا موقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت وزیر اعظم کا یہ اختیار ہے کہ وہ صدر کو ایڈوائس کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے جس کا انہوں نے استعمال کیا۔

2۔ توسیع کا طریقہ کار ’خامیوں‘ سے لبریز

عدالت نے وزیر اعظم کے 19 اگست 2019 کے اعلامیے کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت اس کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہے۔ بظاہر اس غلطی کا ادراک اسی روز ہوا اور وزیر اعظم نے صدر کو اسی روز ایک سمری ارسال کی، جسے صدر نے منظور کر لیا۔ لیکن یہ طریقہ کار خامیوں والا تھا۔ پھر حکومت کو خیال آیا کہ وزیر اعظم ایسا وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں کرسکتے ہیں۔ عدالت کو دستیاب دستاویزات کے مطابق کابینہ کے 25 میں سے محض 11 اراکین نے توسیع کی تجویز کی منظوری دی جس سے بظاہر کابینہ کی اکثریت کا اس کے حق میں نہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہ منظوری وزیر اعظم اور صدر کو تازہ حکم نامے کے اجرا کے لیے بھیجی ہی نہیں گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومتی موقف: وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کل شام اخباری کانفرنس میں کابینہ اجلاس سے متعلق کہا کہ ’اکثر اراکین ہاں نہیں لکھتے لہذا ان کے کچھ نہ کہنے کو بھی منظوری مانا جاتا ہے اور یہ ایک پرانی روایت ہے۔‘

3۔ آرمی ریگولیشن (رولز) کی شق 255

عدالت کا اس شق کے بارے میں کہنا تھا کہ اس کا اطلاق اس وقت ہوگا جب کوئی فوجی افسر ریٹائر ہوچکے ہوں، جس کی وجہ سے یہ قانون ریٹائرمنٹ معطل یا محدود کرنے کی بات کرتا ہے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل اس کا اطلاق بقول عدالت کے ’گھوڑے کے آگے گاڑی لگانا ہوگا۔‘ اٹارنی جنرل نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ پاکستان آرمی کے تمام قوانین میں کہیں بھی آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا سروس میں توسیع سے متعلق کچھ بھی نہیں ہے۔

حکومتی موقف: وزیر اعظم کا یہ صوابدیدی اختیار ہے اور یہ کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کردی ہے اور آرٹیکل میں الفاظ ’مدت میں توسیع‘ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

سوال یہاں یہ ہے کہ کیا کابینہ کی سطح پر یہ ترمیم عدالت عظمیٰ کو قابل قبول ہوگی یا نہیں۔

4۔ کیا ’علاقائی سکیورٹی ماحول‘ توسیع کے لیے جائز وجہ ہے؟

عدالت نے نوٹ کیا کہ ’علاقائی سکیورٹی ماحول‘ کافی غیرواضح الفاظ ہیں اور اگر خطے میں کوئی سکیورٹی خطرہ موجود بھی ہے تو اس کا مقابلہ ملک کی بہادر مسلح افواج بحثیت ادارہ کریں گی اور کسی انفردی شخص کا اس میں کردار بہت کم ہوتا ہے۔ اگر اس وجہ کو درست مان لیا جائے تو مسلح افواج میں کام کرنے والا شخص اسی بنیاد پر دوبارہ تعیناتی اور توسیع کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

حکومتی موقف: بھارت بار بار پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور کوئی جھوٹا آپریشن کر سکتا ہے۔ ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ غیر معمولی صورت حال ہے۔ کشمیر میں 113 دن سے جاری کرفیو بھی غیر معمولی حالات ہیں جبکہ بھارت دریاؤں کا پانی روکنے کی بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کے حتمی فیصلے تک آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو معطل کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت کے لیے حکومت کے ’فائر فائٹنگ‘ اقدامات کس حد تک قابل قبول ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان