بارسلونا میں مقبول رنگ برنگ شخصیت والا نوجوان

پاکستان کے ضلع گجرات کے گاؤں جلال پُور جٹاں سے تعلق رکنے والے عمیر ڈار بارسلونا کے علاقے بادالونا کی گذشتہ دس سالہ تاریخ کا سُنہری باب ہیں۔

عمیر ڈار بادالونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے  متحرک ترین رُکن ہیں۔ (تصویر: ڈاکٹر  عرفان مجید راجہ )

یہ چار بھائی ہیں مگر یک نہ شُد چار شُد والا کام اکیلے عُمیر ڈار ہی کر رہے ہیں۔ آج کل آپ اپنے دفتر میں پائے جاتے ہیں جو خدا خدا کر کے بالآخر سالوں کے انتظار کے بعد مکمل ہونے کے مراحل میں داخل ہونے کے لیے پَر تول رہا ہے۔ یہ دفتر جو بادالونا کی مرکزی شاہراہ الفانسو تریسے پر واقع ہے، جب مکمل ہو گا تو عمیر کی ضمانت دینا مشکل ہے مگر بادالونا اور بارسلونا کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور میڈیا کے اداروں کو ضرور سکون آ جائے گا کہ وہ کسی ایک جگہ میسر آ سکیں گے۔

حکومتی اداروں کی جانب سے اپنی سماجی خدمات پر کئی اسناد اور انعامات اپنے نام کرنے والا یہ جوان جسے آخری مرتبہ برسلونا میں پاکستانی قونصل خانے نے لائف ٹائم اچیومنٹ سرٹیفیکیٹ سے نوازا، بادالونا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا متحرک ترین رُکن ہے۔

پاکستان کے ضلع گجرات کے گاؤں جلال پُور جٹاں سے تعلق رکھنے والا یہ شخص بارسلونا میں پلا بڑھا اور پڑھا لکھا۔ جامعہ آٹونومس، بارسلونا سے بین الاقوامی تعلقات میں فارغ التحصیل ہیں۔ بادالونا سٹی کونسل کے ساتھ لمبا عرصہ کام کیا پھر اُنہیں سُرخ بتی دکھا دی مگر آج بھی اُن کی ضرورت ہیں۔ ضلع کونسل میں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر عمیر ڈار مستقل ہیں۔

پاکستانی کمیونٹی کے معاشی، معاشرتی، قانونی اور مذہبی امور سے لے کر ہر دفتر میں یہ بنفسِ نفیس خود یا ان کے ہاتھ سے بنائے کاغذات پائے جاتے ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو پر بھی نظر آتے ہیں۔ ہسپانوی زبان اور بالخصوص کاتالان چبائے بغیر نگل جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمیر ڈار کا جو کچھ بھی ہے ’ڈکلیئرڈ‘ ہے۔ گُفتار سے کردار تک،کام سے آرام تک عامۃالناس کے لیے مختص ہیں۔ کاتالان سیاسی جماعتوں کے ساتھ جاکر احتجاج کرنا ہو یا بات چیت، موقف سُننا ہو یا بیان کرنا ہو، تعلیم اور معاشرتی انضمام کی تشہیر کرنا ہو، ہسپتالوں میں مترجم بننا ہو یا اداروں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا ہو، عمیر ڈار ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ لاتعداد پاکستانی خاندانوں کے امیگریشن کے معاملات اور زبان اور تعلیم کے معاملات مقامی اداروں اور سکولوں میں حل کروا چُکے ہیں۔

ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا لمحہ وہ تھا جب عمیر ڈار  یونیورسٹی ہسپتال جرمانس تریاس ای پُویول (جسے اکثر کان رُوتی ہسپتال کہا جاتا ہے) کے شعبہ اینڈوکرائنالوجی کے  ’پاکستانی اور ایشیئن کمیونٹی میں ذیابیطس کی روک تھام کے پروگرام‘ کا حصہ بنے۔ یہ پروگرام براہ راست خوراک سے متعلق تھا۔ ایک پاکستانی کشمیری خاندان کے سپُوت نے کیا دل پر پتھر رکھ کر سارے پروگرام کو چلایا ہو گا۔ہم سوچتے ہیں کہ اطبا اور نرسنگ کی جماعت نے جو داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے سو برسائے مگر اُن کی والدہ نے لمبی آہ بھر کے ماں صدقے ضرور کہا ہوگا۔

ڈار جی کی ایک متحرک طلبہ و طالبات کی جماعت ہے۔ جس میں ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے وہ خواتین و حضرات شامل ہیں جو دوسروں کو کالجز اور جامعات تک پہنچانے کے لیے دُھن کے اتنے پکے ہوتے ہیں کہ چاہے اپنا سیمسٹر اور فیس رہ جائے مگر دوسرے کا ضرور بھلا ہونا چاہیے۔ یہ گروپ سوشل میڈیا اور سماجی دونوں سطح پر متحرک ہے۔ تعلیمی رہنمائی اور نوکری اور گاہے گھر تلاش کر کے دینا ان لوگوں نے مذاق کی حد تک فرض بنا رکھا ہے۔

عمیر ڈار پاکستانی کمیونٹی بارسلونا کا بالعموم اور بادالونا کا بالخصوص جزو لاینفیک ہیں۔ آفات اور حادثات میں، مذہبی منافرت دور کرنے سے لے کر مذہبی ہم آہنگی کے لیے ڈائیلاگ شروع کروانے تک، سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تک ہر جگہ آتشِ نمرود میں بلا جھجھک کُودنے والا یہ جوان لب ولہجے کا تلخ و شیریں وہ ملغوبہ ہے، جو عربوں میں چاولوں کی ایک ڈش  (پرات کہا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا) ہے، جس میں دو تین اقسام کا گوشت، مختلف خشک میوہ جات ذائقے کا سماں باندھتے ہیں۔

عمیر ڈار بادالونا کی گذشتہ دس سالہ تاریخ کا سُنہری باب ہے جس کی خدمات کا اعتراف پولیس والوں سے لے کر جیل خانوں تک، ذرائع ابلاغ اور پھر ہسپتالوں، ڈسپنسریوں اور سکولوں تک، سب الگ رنگ میں کرتے ہیں اور یہ رنگ برنگ شخصیت والا بھاری بھر کم جوان اہلیانِ بارسلونا کے لیے یکساں مُیسر ہے، کسی کا سپوکس پرسن (ترجمان) نہیں مگر آؤٹ سپوکن  (صاف گو)  بَلا کا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ