تلور کے شکار کا اجازت نامہ نہ ہونے پہ قطری گرفتار

قطری باشندوں کے پاس سفری دستاویزات اور پاسپورٹ موجود ہیں لیکن شکار کا اجازت نامہ نہیں ہے۔

محکمہ جنگلات کے مطابق شکاریوں کو  شکار کے لیے الاٹ شدہ علاقے میں دس دن دیے جاتے ہیں اور وہ کوئی دوسرا شکار بھی نہیں کرسکتے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تلور کے شکار کی کوشش کرنے والے قطری باشندے گرفتار کر لیے گئے۔

چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف شریف بلوچ کے مطابق ’یہ لوگ تین دسمبر کو کوئٹہ سرینا ہوٹل میں ٹھہرے تھے ہمیں اطلاع ملی کہ کچھ لوگ آئے ہیں جو تلور کا شکار کرنا چاہتے ہیں ہم نے اپنے بندے بھیج کر ان سے پوچھ گچھ کی لیکن ان کے پاس شکار کے لیے باز بر آمد نہیں ہوئے۔ اب یہی لوگ نوشکی آئے جہاں ان کو گرفتار کیا گیا ان کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت مقدمہ بنایا گیا ہے۔‘

فارسٹ آفیسر ضلع نوشکی علی اکبر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ قطری باشندوں کو کیشنگی کے علاقے سے گرفتار کیا گیا جو تلور کے شکار کی تیاری سے جا رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فارسٹ آفیسر علی اکبر کے مطابق قطری شکاریوں کو ایک مقامی باشندہ عارف بادینی مذکورہ علاقے میں لایا تھا اسے بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قطری باشندوں کے پاس سفری دستاویزات اور پاسپورٹ موجود ہیں لیکن شکار کا اجازت نامہ نہیں ہے۔

گرفتار افراد میں سلمان سعید محمد، سالم ھفسان، عبداللہ جاسم، الشیخ خالد بن علی، الشیخ احمد بن علی خان، شیخ محمد بن منصور اور سعود جابری شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تلور کے شکار کے لیے ایک لاکھ  ڈالر فیس وصول کی جاتی ہے اور اس کے عوض سو تلور مارنے کی اجازت ہوتی ہے۔

چیف کنزرویٹر آفیسر وائلڈ لائف شریف بلوچ کے مطابق ہم ایسے لوگوں پر نظر رکھے ہوتے ہیں کیوں کہ آج کل تلور کے شکار کا سیزن ہے اور غیر قانونی شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

محکمہ جنگلات کے مطابق شکاریوں کو  شکار کے لیے الاٹ شدہ علاقے میں دس دن دیے جاتے ہیں اور وہ کوئی دوسرا شکار بھی نہیں کرسکتے۔

قطری باشندوں کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ 2014 کے تحت زیر دفعہ 72،88،90 مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے۔

گرفتار قطری باشندے ضلعی انتظامیہ کے لاک آپ میں رکھے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان