برطانیہ: لڑکی کو’گوشت کا ٹکڑا‘ سمجھ کر ریپ کرنے والے گینگ کو سزا

جج کا کہنا تھا کہ13 سالہ متاثرہ کم سن لڑکی گینگ لیڈرعلی سلطان سے اتنی بری طرح خوف زدہ تھی کہ وہ اس کے زیر اثر آ گئی۔

اوپر: امجد حسین (بائیں)، علی سلطان (دائیں)۔ نیچے: محمد رضوان (بائیں) اور شفیقیونس

برطانوی شہر ٹیل فورڈ سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو ساڑھے چار اور آٹھ برس کی درمیانی مدت کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ چاروں افراد نے ایک بے بس لڑکی کو’گوشت کا ٹکڑا‘ سمجھتے ہوئے کئی بارجنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

چاروں کو سزا سنائے جانے کے بعد پراسیکیوٹرز نے کہا ’چار افراد نے بچی کے ساتھ جو کچھ کیا، اس کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔‘

اس سے پہلے برمنگھم کی کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ کس طرح متاثرہ لڑکی کو ایک گرجا گھر کے احاطے میں جنسی حرکات پر مجبور کیا گیا، دکان کی چھت پر گندی میٹرس پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور حملہ آروں کو روکنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بتایا گیا کہ ریپ کے یہ واقعات مغربی مڈلینڈز میں ٹیل فورڈ کے قریبی علاقے میں 2000 اور 2003 کی درمیانی مدت میں پیش آئے جب متاثرہ لڑکی کی عمر صرف 13 برس تھی۔

پانچ افراد پر مقدمہ چلایا گیا جن میں سے چار کو سزا ہوئی۔ جمعرات کو کراؤن کورٹ کے جج میلبرن اینمان نے سزا سناتے ہوئے کہا لڑکی’بے بس‘ تھی اور اسے اتنا اکسایا گیا کہ وہ اپنے حواس کھو بیٹھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جج نے حملہ آور گروپ کے سرغنہ محمد علی سلطان سے کہا کہ کم سن لڑکی ان سے’بری طرح خوف زدہ تھی اور انہوں نے لڑکی کو زیر اثر کرلیا تھا۔ 33 سالہ علی سلطان کو اپنے کیے پر کوئی افسوس نہیں اور وہ انتہائی خطرناک ہیں جنہیں اپنے جرائم کا احساس تک نہیں۔‘

اس سے پہلے پراسیکیوٹر مشیل ہیلے نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کو’کئی جوان مردوں کی جنسی تسکین کے لیے گوشت کے ٹکڑے کی طرح ایک دوسرے کے حوالے کیا گیا۔‘

مغربی مرشیا پولیس کے ڈیٹیکٹیو انسپکٹر راب رونڈیل نے چار افراد کو سزا کے بعد جمعرات کو کہا یہ تحقیقات آپریشن ویپر کا حصہ تھی جو آج بھی جاری ہے۔ ہم جنسی استحصال کا نشانہ بننے والے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ آگے آ کر پولیس کو بتائیں تاکہ انہیں ہماری معاون ایجنسیوں کی مدد مل سکے۔‘

رونڈیل نے مقدمے کی کارروائی کے دوران متاثرہ لڑکی کے’حقیقی عزم وحوصلے‘کی تعریف بھی کی۔

علی سلطان کو منگل کو ریپ اور ناشائستہ حملے کے تین واقعات پر سزا سناتے ہوئے آٹھ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

شریک ملزم 37 سالہ رضوان محمد جو میف کنگ روڈ، ٹیل فورڈ کے رہائشی ہیں ،انہیں دو حملوں کے جرم میں ساڑھے پانچ برس قید کی سزا دی گئی۔

بدھ کو جیوری نے شریک ملزم اور ریجنٹ سٹریٹ، ولنگٹن کے رہائشی 35 سالہ شفیق یونس کو بھی ملوث پایا ، انہیں جمعرات کو ساڑھے چار برس قید کی سزا دی گئی۔

اکیشیا ڈرائیو لیگومری کے مکین 38 سالہ امجدحسین کو ایک بار حملے کا مرتکب پایا گیا۔ انہیں بدھ کو اسی قسم کے ایک اور الزام سے بری کر دیا گیا تھا،انہیں ساڑھے چار برس قید کی سزا سنائی گئی۔

چاروں افراد کو جنسی جرائم میں ملوث افراد کے رجسٹر پر بھی دستخط کرنے ہوں گے۔

وکٹوریا ایونیو ولنگٹن کے 35 سالہ ناظم اختر کو کار کی پچھلی نشست پر ریپ کرنے میں ملوث نہیں پایا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ