لیکچرار جنید حفیظ کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت

ملتان کی سیشن کورٹ نے سابق لیکچرار جنید کو مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں سزائے موت سنائی، جس پر اہل خانہ نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جنید حفیظ کے خلاف 13 مارچ، 2013 کو  مقدمہ درج کیا گیا تھا(سوشل میڈیا)

پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کی بہاؤالدین یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کو مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں سیشن کورٹ نے ہفتے کو سزائے موت سنا دی۔

جنید حفیظ پر 13 مارچ، 2013 کو سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی ریمارکس اپ لوڈ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ اُس وقت سے جیل میں ہیں۔

ملتان کے ایڈشنل سیشن جج کاشف قیوم نے جنید کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت دس سال قید بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 295 بی کے تحت عمر قید اور دفعہ 295 سی کے تحت سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

جنید کے والد حفیظ النصر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے کیونکہ ان کے مطابق ’فیصلے میں ان کے بیٹے کے خلاف کمزور شہادتوں پر سزا سنائی گئی۔‘

تاہم استغاثہ کے ایک وکیل عظیم پیرزادہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مجرم کے خلاف استغاثہ کے پاس ٹھوس ثبوت تھے جن کی بنیاد پر جرم ثابت ہونے پر عدالت نے سزا سنائی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تو بھی استغاثہ جرم ثابت کرے گا کیونکہ مجرم پر جو الزامات ہیں وہ ثابت شدہ ہیں، تاہم انہیں آئین پاکستان اپنے دفاع اور اپیل کا مکمل حق دیتا ہے، وہ سات دن میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

تقریباً سات سال تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں کئی موڑ آئے۔ مجرم جنید کے پہلے وکیل راشد رحمان کو مقدمے کی پیروی کرنے پر قتل کر دیا گیا جبکہ یہ کیس لینے والے دوسرے وکیل پیروی سے دست بردار ہو گئے تھے۔ اسی طرح پیروی کرنے والے تیسرے وکیل کو بھی دوران سماعت دھمکیاں دی گئیں۔

اس ساری مدت میں مقدمے کی سماعت کرنے والے چھ جج بھی تبدیل ہوئے۔ حساس نوعیت کے اس مقدمے کی سماعت 2014 سے سینٹرل جیل میں کی گئی ،جہاں جنید بند ہیں۔

چھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی میں کیس پر وکلا کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ جمعرات کے روز محفوظ کیا گیا تھا۔

مجرم کے خلاف 15 گواہوں کی شہادتیں اور زیر دفعہ 342 کے بیانات مکمل کیے گئے جبکہ مقدمے کے بقیہ 11 گواہوں کو ترک کر دیا گیا۔

جنید حفیظ کون ہیں؟

پنجاب کے پسماندہ سمجھے جانے والے ضلع راجن کے رہائشی جنید حفیظ نے میٹرک میں ٹاپ کرنے کے بعد ایف ایس سی پری میڈیکل میں ڈیرہ غازی خان بورڈ میں پہلی پوزیشن لے کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔

انہوں نے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں پنجاب بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، یہی وجہ تھی کہ انہیں صوبے کے سب سے بڑے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہورمیں رول نمبر ون دیا گیا۔

دو سال میڈیکل میں ٹاپ کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے میڈیکل کا شعبہ چھوڑ کر والدین کی اجازت سے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں شعبہ انگریزی سے ایم اے انگلش کرنے کے لیے داخلہ لے لیا اور ایم اے انگلش لٹریچر میں بھی ٹاپر رہے۔ اسی لیے انہیں شعبے میں وزٹنگ لیکچرار مقررکر دیا گیا تھا۔

جلد ہی قابلیت کی بنیاد پروہ لیکچرار بن گئے۔ انہیں امریکہ نے مقابلہ کا امتحان پہلی پوزیشن سے پاس کرنے پر فلم میکنگ کی تربیت کی ایک سالہ سکالر شپ بھی دی۔ 

جنید کے دوستوں کا دعویٰ ہے کہ اس دوران ان کا ایک مذہبی و سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز اور ایک طلبہ گروپ سے جھگڑا ہو گیا، جس کے بعد ان پر الزام لگا کہ وہ توہین مذہب پر مبنی ایک خفیہ فیس بک پیج چلاتے ہیں۔

جب ان کے خلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے اور ان کو جان سے مارنے کی دھکیاں ملنے لگیں تو پولیس نے انہیں لاہور سے 13مارچ، 2013 کو گرفتار کرلیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان