بےنظیر بھٹو کی موت کے 12 سال بعد پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

پی پی پی نے آج راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بےنظیر بھٹو کی 12ویں برسی کے موقعے پر جلسہ کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بےنظیر کی موت کے بعد پارٹی آج کہاں کھڑی ہے؟

آج پاکستان پیپلز پارٹی اپنی رہنما کی 12ویں برسی کی مناسبت سے ان کی مقتل گاہ لیاقت باغ میں ایک جلسہ  کر رہی ہے(اے ایف پی)

پاکستان کی تاریخ میں بہت سارے تاریک دنوں میں سے ایک دن 27 دسمبر ،2007 کا ہےجب کسی مسلمان ملک کی پہلی خاتون سربراہ ،  پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی پاکستان  پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن  بےنظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں فائرنگ اور خود کش حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔

آج پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی رہنما کی 12ویں برسی کی مناسبت سے ان کی مقتل گاہ لیاقت باغ میں ایک جلسہ کیا ، جس سے پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کے علاوہ بےنظیر بھٹو کے صاحبزادے اور پیپلز پارٹی کے موجودہ چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری   نے  ٹیلی فونک خطاب کیا۔

بےنظیر بھٹو کے شوہر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن سابق صدر آصف علی زرداری صحت کے مسائل کے پیش نظر جلسے میں شرکت نہیں کر پائے، تاہم ان کا ویڈیو پیغام ضرور چلایا گیا۔

پارٹی کی جانب سے قومی میڈیا پر بلاول بھٹو کی آواز میں اشتہارات کے ذریعے عوام کو لیاقت باغ آنے کی ترغیب دی  گئی تھی، جس میں وہ سرد موسم کے باوجود کسی حد تک کامیاب رہی۔ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے ابتدائی تاخیر کے بعد پارٹی کو اجتماع کی اجازت دی ۔

بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے فوراً بعد ملک بھر، خصوصاً صوبہ سندھ میں بلوے شروع ہوئے، جو کئی روز تک جاری رہے۔ ان کے نتیجے میں بڑا جانی اور مالی نقصان بھی ہوا تھا۔

دختر مشرق کی موت کے بعد شروع ہونے والا عوامی احتجاج اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ تو بہرحال رک گیالیکن اس قتل کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے اندر جو تلاطم بپا ہوا اس کے اثرات آج 12 سال بعد بھی اس سیاسی جماعت پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

بےنظیر بھٹو کی موت نے پیپلز پارٹی کی عوامی اور انتخابی سیاست، تنظیمی امور، مقبولیت، سوچ اور نظریے کو کس حد تک متاثر کیا؟

لیڈرشپ بحران

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ان کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی باگ ڈور ان کے شوہر کے ہاتھ میں آئی جبکہ بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو بعد ازاں پارٹی کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔

لیاقت باغ حملے کے بعد 2008 کے عام انتخابات میں پارٹی نے ادھ موئی کامیابی حاصل کر کے کمزور سی حکومت تو بنا لی اور زرداری نے بحیثیت صدر اقتدار کے پانچ سال بھی مکمل کیے لیکن پارٹی اپنی عوامی حمایت اور مقبولیت میں اضافہ نہ کر سکی۔

اکثر تجزیہ کاروں کے خیال میں بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا مسئلہ کسی ایسے رہنما کا نہ ہونا ہے جو ذوالفقار علی بھٹو یا بےنظیر بھٹو جیسے لیڈر کی کمی کو پورا کر سکے۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں موجودہ پیپلز پارٹی کا واحد مسئلہ لیڈرشپ کا بحران ہے۔ پارٹی ورکرز اور جیالوں نے بھٹو اور بےنظیر بھٹو جیسے رہنماؤں کے ساتھ کام کیا ہے جو بہادر اور نڈر لیڈر تھے۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کہتے ہیں نہ صرف یہ کہ بےنظیر خود ایک باکمال اور بے مثال لیڈر تھیں بلکہ وہ اپنے ارد گرد بھی سمجھ دار اور با وقار لوگوں کو رکھتی تھیں۔

’بےنظیر بھٹو کے دور میں بھی زرداری پر پارٹی کے اندر سے اعتراضات اٹھائے گئے تو ان کی غیرموجودگی میں پارٹی کے لوگ زرداری صاحب کو کیسے برداشت کرتے ہوں گے۔‘

لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں پولیٹیکل سائنس کے استاد رسول بخش رئیس بلاول بھٹو کو بھی بےنظیر کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کے خیال میں بلاول بھٹو نہ صرف ابھی کم عمر ہیں بلکہ عمومی طور پر لوگ انہیں سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔

ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے پارٹی کے سنٹرل پنجاب کے جنرل سیکریٹری چوہدری منظور احمد نے کہا پاکستان میں سیاسی رہنما تو بہت ہیں لیکن اس وقت اگر کوئی کہہ رہا ہے تو وہ صرف پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری ہیں، جو ہر قومی ایشو پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔

’بےنظیر کو بےنظیر بننے میں 1977 سے 1988 تک کا عرصہ لگا جبکہ بلاول اپنی ماں کے اس مقام کی طرف سفر کر رہے ہیں، وہ بہت تیزی سے سیکھ رہے ہیں اور آہستہ آہستہ خود کو منوا رہے ہیں۔‘

تنظیمی ڈھانچے کا فقدان

ویسے تو ملک بھر میں پیپلز پارٹی کے لاکھوں کارکن اور کروڑوں حمایتی موجود ہوں گے اور یہ وہ پارٹی ہے جس کی لیڈر بےنظیر بھٹو کو چاروں صوبوں کی زنجیر جیسے لقب سے نوازا گیا تھا،  لیکن کارکنوں، حمایتیوں اور ووٹرز کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود پیپلز پارٹی میں تنظیمی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

افتخار احمد کہتے ہیں پیپلز پارٹی نے ایک لمبے عرصے سے تنظیم سازی کی طرف توجہ نہیں دی، جس کے باعث نچلے درجے کا ورکر اور حمایتی مرکزی لیڈرشپ سے کٹ کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بےنظیر بھٹو کے زمانے میں بھی تنظیم سازی کوئی خاص نہیں تھی لیکن ان کی اپنی شخصیت ایسی پرکشش تھی کہ انہوں نے بغیر کسی تنظیمی ڈھانچے کے، سارے ملک کے کارکنوں اور حمایتیوں کو جوڑا ہوا تھا۔

ڈاکٹر عرفان بیگ نے کہا بے نظیر بھٹو میں جوش اور ولولہ بہت زیادہ تھا، جس کے باعث پارٹی ورکرز اور دوسرے لوگ صرف ان کی طرف دیکھتے تھے۔

تاہم چوہدری منظور تنظیم سازی کے فقدان کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں بلاول بھٹو نے پارٹی کے چیئرپرسن کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد تمام تنظیمیں توڑیں اور صوبائی اور ضلعی سطح تک تنظیم سازی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلے مرحلے میں یونین کونسل اور وارڈ کی تنظیموں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقبولیت میں کمی

ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی مرتبہ غیر پنجابی ہونے کے باوجود پاکستان کے صوبہ پنجاب میں انتخابی معرکے سر کیے تھے جبکہ اب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

رسول بخش رئیس کہتے ہیں: ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت اتنی بھی خراب ہو سکتی ہے جتنی آج ہے۔‘

اکثر تجزیہ کار پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی کی وجہ اس کی مرکزی لیڈر شپ کی غیر سنجیدگی کو قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بےنظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو عمران خان کو اس طرح مقبول ہونے کا موقع نہ ملتا۔ ان کے خیال میں بےنظیر کی موت سے پیپلز پارٹی کو بے انتہا نقصان پہنچا ہے۔

افتخار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بے نظیر بھٹو جانتی تھیں کہ عوام کو کیسے اپنے ساتھ جوڑے رکھنا ہے۔ وہ جب روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لاگتی تھیں تو دراصل ایک چھوٹے سے انقلاب کی بات کر رہی ہوتی تھیں اور ان کی باتیں گلی محلوں میں بیٹھے عام لوگوں کو سمجھ آتی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ لیڈر شپ بنکرز میں بیٹھ کر سیاست کر رہی ہے اور سیاست بنکرز میں بیٹھ کر نہیں ہوتی۔ افتخار احمد کے مطابق بلاول بھٹو میں سپارک موجود ہے لیکن اگر وہ پارٹی میں موجود روایتی قسم کے سیاستدانوں سے دور رہیں تو عوام تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر عرفان بیگ کے مطابق بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد ان کی اپنی مقبولیت تو بہت زیادہ ہوئی لیکن پیپلز پارٹی کا گراف بری طرح نیچے گرا۔

جیالا الجھن کا شکار

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ورکر اس وقت شدید الجھن کا شکار ہے جس کے باعث پارٹی سے ان کی جذباتی وابستگی کم ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پیپلز پارٹی میں بھی الیکٹ ایبلز کی سیاست ہو رہی ہے جن کا کام جیسے تیسے ووٹ اکٹھا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا: ’بےنظیر بھٹو کے زمانے کے کئی پرعزم اور سرشار رہنماؤں نے پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے جبکہ جذباتی ورکر بھی بڑی حد تک مایوس ہے۔‘

ڈاکٹر عرفان بیگ کے خیال میں بےنظیر بھٹو بہت زیادہ محنت کرتی تھیں اور انہوں نے پارٹی کے ورکرز اور حمایتیوں کے ولولے کو زندہ رکھا ہوا تھا۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو میں ذوالفقار علی بھٹو کا عکس نظر آتا ہے، جسے استعمال کر کے وہ پرانے کارکنوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں۔

ان اعتراضات کے جواب میں چوہدری منظور احمد کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر اور حمایتی اسی طرح موجود ہے اور پارٹی سے وفادار ہے۔

کرپشن کے الزامات

اگرچہ پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کی زندگی میں ہی کرپشن کے الزامات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ تاہم ان کی موت کے بعد اور خصوصاً 2008 سے 2013 کی حکومت کے دوران اس پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ پر لگنے والے کرپشن کے الزامات میں بے انتہا اضافہ ہوا۔

آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی حال ہی میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے کرپشن کے مقدمات میں ضمانتیں ہوئی ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے دوسرے کئی رہنماؤں کے خلاف بھی کرپشن کی تحقیقات ہو رہی ہیں یا مقدمات زیر سماعت ہیں۔

رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ کرپشن کے الزامات آصف زرداری اور ان کے خاندان پر ہی زیادہ ہیں۔ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں رہی اور سندھ ایک لمبے عرصے سے ان کے پاس ہے۔

افتخار احمد کے مطابق پیپلز پارٹی میں اب مخلص لوگ نہیں رہے بلکہ محض نوکریاں کرنے والے رہ گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت کے دوران کرپشن کے الزامات زیادہ لگتے ہیں۔

چوہدری منظور احمد کھتے ہیں: ’کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ ہے جو سیاسی جماعتوں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ کبھی غداری کا الزام لگاتے ہیں اور کبھی کفر کا۔ آج کل کرپشن کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔‘

بین الاقوامی اثر رسوخ

چوہدری منظور احمد کہتے ہیں کہ اگر بےنظیر بھٹو زندہ رہتیں تو آج نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ پاکستان بھی بہتر حالت میں ہوتا۔ ان کے مطابق بےنظیر ایک بین الاقوامی رہنما تھیں۔ باہر کی دنیا میں ان کا اثر رسوخ تھا، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پیپلز پارٹی کے لیے بھی فائدہ مند تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی ایسے بین الاقوامی لیڈر موجود تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کے ذاتی دوست رہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے بھی بےنظیر کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہوتی تھی۔

’یہ آصف علی زرداری کی رہنمائی میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس نے آئین میں آٹھویں ترمیم کی، این ایف سی ایوارڈ ممکن بنایا، سوات میں پاکستان کا جھنڈا لگایا اور بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے فلاحی کام شروع کیے۔‘

چوہدری منظور احمد نے مزید کہا کہ بے نظیر بھٹو کی موت کے بعد پیپلز پارٹی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی اور اب اس سے نکل کر حیات نو کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں پیپلز پارٹی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جو نظریات کی سیاست کر رہی ہے اور ہر قومی ایشو پر ببانگ دہل بولتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کا ووٹر پورے ملک میں موجود ہے اور آئندہ انتخابات جب بھی ہوں گے پیپلز پارٹی بہت بہتر نتائج دے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست