نون سُن کیوں؟

خبر یہ ہے کہ نئے سال کے پہلے ویک اینڈ (اختتام ہفتہ) پر ’بچے کھچے‘ لیگی رہنما رائے ونڈ میں مریم نواز شریف سے درخواست کرنے جا رہے ہیں کہ وہ سیاسی طور پر متحرک ہوں۔

مسلم لیگ ن کی ایک کارکن نواز شریف کے لیے احتجاج کرتے ہوئے۔ (اے ایف پی)

اس وقت کوئی صحافی مسلم لیگ ن کے کسی بھی رہنما سے سوال کرے کہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ کہاں گیا تو جواب میں یا تو ایک شرمسار قہقہ یا خاموشی سننے کو ملتی ہے۔

خبر یہ ہے کہ نئے سال کے پہلے ویک اینڈ (اختتام ہفتہ) پر ’بچے کھچے‘ لیگی رہنما رائے ونڈ میں مریم نواز شریف سے درخواست کرنے جا رہے ہیں کہ وہ سیاسی طور پر متحرک ہوں۔ پارٹی صدر شہباز شریف لندن میں ہیں اور وطن عزیز میں گذشتہ چند ہفتوں میں اٹھنے والے ایشوز پر بات کرنے سے گریزاں ہیں جن میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع، سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا اور نیب قانون میں ترمیم سرفہرست ہیں۔

اور کیوں نہ ہوں محتاط، جب انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت ملک کے اصل حکمران سے ملی ہو۔ تمام تجزیہ نگار اس بات پر بضد ہیں کہ مریم نواز بھی باہر چلی جائیں گی۔ شاید انہیں نہیں پتہ کہ کسی بڑے نے چکلالہ گیریژن میں کہا تھا کہ مریم بطور ضمانت پاکستان میں ہی رہیں گی جیسے حسین نواز مشرف دور میں یہیں روک لیے گئے تھے۔

سلیمان شہباز جو فیصلہ سازوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، پارٹی کے سخت گیر موقف رکھنے والے رہنماؤں کو یقین دہانی کراتے رہتے ہیں کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ لیکن پاکستان میں موجود ن لیگی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ان کا ٹائم کب اور کیسے آئے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حد تو یہ ہے کہ نیب ترامیم کے بارے میں جب پارٹی ردعمل کے لیے لندن رابطہ کیا گیا تو جواب آیا کہ اس معاملے پر ردعمل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

مقامی پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ مسلم لیگی قیادت کے محتاط رویے کا فائدہ پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو کو ہوگا جن کے اسیر رہنما رہائی پا رہے ہیں۔

گو کہ نیب ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوا چاہتے ہیں مگر شنید یہی ہے کہ یہ گرفتاری بلاول کو ’اونچا‘ اڑانے کے لیے کی جائے گی۔

رہی بات تحریک انصاف حکومت کی تو وہ کون سا حکومت چلا رہے ہیں جو پریشان ہوں۔ کسی نے کیا خوب لکھا کہ گذشتہ سال اور اس برس میں انیس بیس کا ہی فرق پڑے گا کیونکہ ہم 2019 سے 2020 میں داخل تو ہو گئے ہیں مگر مسائل وہی 90 کی دہائی والے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں لائن میں لگ کر اسٹیبلشمنٹ سے اقتدار کی بھیک مانگ رہی ہیں جب کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کو راضی رکھنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ ایسے میں مہنگائی اور گیس کی عدم فراہمی سے کچلے جانے والے عوام ایک بار پھر سر بسجود ہیں کہ کوئی سبب بن پڑے بہتری کا۔

اب بات کرتے ہیں اصلی اور وڈے حکمرانوں یعنی اسٹیبلشمنٹ کی کہ انہوں نے جس امید پر نئی بساط سجائی تھی، اس کو پہلے ہی سال مات ہو گئی اور اب اس حکومت کو کھینچ کر چلانے کی کوشش بھی کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ادارے تباہ ہو رہے ہیں اور کام ندارد۔

رانا ثناء اللہ کی ضمانت نے انسداد منشیات کے قومی ادارے کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، مگر وزیر شہریار آفریدی بضد ہیں کہ وہ اللہ کو جان دے کر رہیں گے۔ انسداد منشیات کا ادارہ تو وزیر صاحب کو آگے کرکے خود پتلی گلی سے نکل گیا۔

سال 2019 کو اداروں کی بربادی کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ادارہ ہو اور کتنا ہی طاقتور ہی کیوں نہ ہو۔ دفتر خارجہ سے لے کر وزارت خزانہ تک راولپنڈی سے چلائی جا رہی ہیں۔ نیب اور نیب کی عدالتیں تو پہلے ہی ان کی تابع تھیں۔

اب اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی ایسا بہانہ نہیں کہ مملکت خدادا میں ہونے والی خرابیوں کا سہرا کسی اور کے سر منڈھا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ