چلو دلدار چلو، چاند کے پار چلو، ہم ہیں تیار چلو

اب جبکہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ اپوزیشن کے تعاون سے طے ہونے جا رہا ہے تو کیا پچھلے 17 ماہ سے احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں جاری رہیں گی یا نہیں؟

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں آئندہ توسیع صرف غیر معمولی حالات میں ہونی چاہیے کیونکہ اگر یہ معمول بن گیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فوج کے سربراہ کی میعاد پارلیمان کی میعاد سے زیادہ ہوجائے گی (اے ایف پی)

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ کے ذریعے حل کروانے کی عمران خان سرکار کی کوشش کو سخت دھچکہ لگا ہے۔

اب یہ معاملہ پارلیمان میں آ گیا ہے۔ بدھ کو جب عمران سرکار نے ہنگامی کابینہ اجلاس میں اچانک جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق سپریم کورٹ کے 28 نومبر کے فیصلے کے عین مطابق پارلیمان کا اجلاس جمعے کو بلانے کا فیصلہ کیا تو کئی کابینہ ارکان بھی حیران تھے کہ یہ کیا ہوا ہے۔

کئی کابینہ ارکان سوچ رہے تھے کہ ابھی تو ہم سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست لے کر گئے تھے اب پارلیمان میں کیوں جا رہے ہیں۔

ابھی تک کسی کو نہیں بتایا گیا کہ جب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے صرف چھ دن بعد سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی تو پھر اچانک پارلیمان کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا۔

جب پچھلے سال 19 اگست کو وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے ایک لیٹر پیڈ پر عمران خان نے جلدبازی میں ایک حکم نامے میں جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کا اعلان کیا تھا تو بہت سے لوگوں نے بھنویں چڑھائیں تھیں کہ وزیراعظم کے پاس تقرری کا اختیار نہ تھا اور اس کاغذ کی کوئی حیثیت نہ تھی کیونکہ وہ آئینی طور پر  صرف صدر کو مشورہ دے سکتے تھے اور یہ اختیار صدر مملکت کے پاس تھا۔

بعد میں یہ تمام باتیں سپریم کورٹ کی تین روزہ سماعت میں عمران سرکار کے لیے خجالت کا باعث بنی تھیں۔

یہ بات سب پر واضح تھی کہ عمران سرکار نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست اس لیے دائر کی تھی کہ انہیں کسی نے بتایا تھا کہ کسی طرح جسٹس کھوسہ کے جانے کے بعد اس فیصلے کو تبدیل کیا جاسکے گا اور اگر ایسا ہو گیا تھا تو حزب اختلاف کی مدد کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اگر حزب اختلاف کی مدد کے بغیر یہ کام کیا جاسکتا ہے تو اس سے عمران سرکار کے ایک صفحے کے بیانیہ کو تقویت ملے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن سپریم کورٹ میں نومبر میں جو جگ ہنسائی ہوئی تھی اس کو اور نظر ثانی درخواستوں سے متعلق فیصلوں کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ سازوں نے سیاسی جماعتوں سے اپنے سلسلہ جنبانی کو حتمی مرحلے میں داخل کیا اور اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

یہ بات ہر ایک کو معلوم تھی کہ ن لیگ اور پی پی پی کی طرف سے اس معاملے پر کوئی مخالفت نہیں تھی۔

یہ الگ بات ہے کہ اس سے پہلے بلاول بھٹو زرداری  نے کہا تھا کہ پہلے نیا وزیر اعظم آئے گا اور پھر متعلقہ قانون سازی ہوگی۔

اسی طرح ن لیگ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی قائد خواجہ آصف نے بھی کہا تھا کہ ان کی جماعت پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گی۔

ان تمام بیانات کے باوجود اکثر تجزیہ کار اس بات پر واضح تھے کہ اگر متعلقہ حلقوں نے ان جماعتوں سے رابطہ کیا تو وہ تعاون کریں گی۔

پچھلے مہینے جب ن لیگ کے رہنماؤں کو لندن بلایا گیا تو بنیادی بات توسیع کے بارے میں صلاح مشورہ کرنا تھا۔ لندن میں کیا فیصلہ ہوا اس پر پردہ پڑا رہا لیکن جب جمعرات کو حکومت نے بوجوہ حزب اختلاف سے رابطے کا فیصلہ کیا تو اس نے حزب اختلاف کو تیار پایا۔

اب یہ بہت واضح ہے کہ ن لیگ بھی اس توسیع کے فیصلے کی حمایت کے لیے بالکل تیار تھی۔ جمعرات کو ہی ن لیگ نے اعلان کیا کہ وہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔

بلاول بھٹو نے اس میں صرف اتنا اضافہ کیا کہ اس بل کو بلڈوز نہ کیا جائے بلکہ اسے قائمہ کمیٹیوں کو بھیجا جائے۔ جب سوشل میڈیا پر ن لیگ کے بہت سے حمایتیوں نے پارٹی کی طرف سے توسیع سے متعلق بل پر ’لیٹ جانے‘ پر شدید تنقید کی تو رات گئے لندن سے نواز شریف کی طرف سے خواجہ آصف کو ایک خط بھیجے جانے کی خبر آئی جس میں جلد بازی سے منع کیا گیا تھا۔

باوجود اس بات کے کہ اس خط میں اس معاملے پر قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے بحث و مباحثے اور پارلیمان کے فلور پر تمام لوازمات پورے کرتے ہوئے بل کی منظوری جنوری کی 15 تاریخ تک چلانے کی بات کی گئی ہے تاکہ پارلیمان پر قانون سازی کے لیے ربڑ سٹیمپ بننے کا الزام نہ لگے لیکن غالب امکان یہ ہے کہ تمام معاملہ چند دنوں میں نمٹ جائے گا۔

 اس خط میں البتہ اس بل کی مخالفت کا ہرگز ذکر نہ تھا۔ اب تک صرف بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور دو آزاد ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ  نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے جمعے کو اس بل پر ووٹ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا جس سے بل منظور ہونے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔

اس بار بل میں ممکنہ توسیع صرف بری فوج کے سربراہ کی نہیں ہوگی بلکہ اس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، بحری اور فضائیہ کے سربراہان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اگر یہ بل منظور ہوکر ایکٹ کا درجہ اختیار کر لیتا ہے، جو اب زیادہ دور نہیں لگتا تو پھر سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست کا کیا بنے گا؟ اس کے بارے میں زیادہ امکان ہے کہ وہ خارج ہو جائے گی۔

اہم سوالات سیاسی مسقبل اور اس فیصلے کے فوج کی ادارہ جاتی کارکردگی سے متعلق ہیں۔

سیاسی طور اہم سوالات یہ ہیں کی اب جبکہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ حزب اختلاف کے تعاون سے خوش اسلوبی سے طے ہونے جا رہا ہے تو کیا پچھلے 17 ماہ سے اپوزیشن کے خلاف احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں جاری رہیں گی یا نہیں؟

یہ بات یقینی ہے کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں ن لیگ اور پی پی پی کی طرف سے حمایت حادثاتی نہیں اور ان جماعتوں سے متعلقہ حلقوں نے ضرور گفت و شنید کی ہوگی۔ اگلے چند ماہ میں یہ بات کھل کر سامنے آئے گی۔

جس سرعت انگیزی سے یہ تمام معاملہ پارلیمان کے سامنے پیش کیا گیا اور جس تیزی سے یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے اس میں پارلیمان کم اور پارلیمان سے باہر کے حلقوں کا اثر واضح طور پر نظر آتا ہے۔

فوج کی ادارہ جاتی کارکردگی کے حوالے سے یہ زیادہ اہم ہے کہ باوجود اس بات کہ اب قانونی طور پر وزیر اعظم کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ توسیع دے سکیں گے لیکن ضروری ہے کہ آئندہ توسیع صرف غیر معمولی حالات میں ہو اور یہ معمول نہ بن جائے، کیونکہ اگر یہ معمول بن گیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فوج کے سربراہ کی میعاد پارلیمان کی میعاد سے زیادہ ہوجائے گی۔

اس بات پر اکثر ماہرین یہی کہتے ہیں کہ عام طور پر توسیع ادارے کی پیشہ وارانہ کارکردگی کے لیے بہتر نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر