فوجی قوت استعمال نہیں کرنا چاہتے، معاشی طاقت ہی کافی ہے: ٹرمپ

عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی قوت استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی معاشی طاقت (ایران کو) باز رکھنے کے لیے کافی ہے۔

عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی قوت استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی معاشی طاقت (ایران کو) باز رکھنے کے لیے کافی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنے خطاب میں کہا کہ وہ نیٹو سے مشرق وسطیٰ میں عمل دخل بڑھانے کا کہیں گے۔

انہوں نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے کے حوالے سے کہا کہ ان حملوں میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تمام فوجی ٹھیک ہیں اور صرف فوجی اڈے کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔‘ 

انہوں نے کہا کہ امریکی یا عراقی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ وارننگ سسٹم کی وجہ سے پہلے ہی سب کو نکال لیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے کسی قسم کی ممکنہ جوابی کارروائی کا ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر ایران پیچھے ہٹ گیا ہے، جو سب کے لیے اچھی بات ہے اور دنیا کے لیے بھی اچھا ہے۔‘

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب تک ایران اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اس کے خلاف پابندیاں برقرار رہیں گی۔

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر ایران پر پابندیوں کی بات کرتے ہوئے ’مزید سخت پابندیاں‘ عائد کرنے کہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو بہت وقت سے برداشت کر رہے ہیں۔ ایران جوہری ہتھیاروں سے مہذب ممالک کو دہشت زدہ کر رہا ہے جو ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’قاسم سلیمانی کو میری ہدایت پر ہماری فوج نے مارا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس، چین، فرانس اور جرمنی سے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا جا سکے۔‘

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’اگر امریکہ نے جرم کیا ہے، تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے بھرپور جواب ملے گا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ (امریکہ) عقلمند ہے تو وہ اس موقع پر مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔‘

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملے کے بعد ایک ٹویٹ ہی کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’سب ٹھیک ہے‘۔

ایران نے یہ حملے گذشتہ ہفتے عراق کے شہر بغداد میں امریکہ کی جانب سے ایک حملے میں اس کے سب سے اہم جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں کیے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ