زندگی کے 60 سال انگلش کو دیے، انگلش نے ’رکشہ‘ دیا

محمد سلیم کی پرورش ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں ہوئی۔ تعلیم کی سیڑھیاں چڑھ کر خوشحال ہونے کا راستہ اپنایا۔ انگلش سمیت مختلف مضامین میں چار ایم اے کیے۔ ایم ایڈ بھی کر لیا لیکن درس و تدریس کے شعبے میں اپنی تعلیم کے ہم پلہ نوکری نہ مل سکی۔

لاہور کے 60 سالہ محمد سلیم کی زندگی پاکستان کے تعلیمی نظام کی خامیوں جیتی جاگتی مثال ہے جو پڑھ لکھ کر خوشحالی کا خواب دیکھنے والوں کو ان کی محنت کا اجر نہیں دے پاتا۔

محمد سلیم رکشہ چلاتے ہیں۔ ایک ہزار روپے تک کی کی دیہاڑی لگا لیتے ہیں۔ 11 بچے ہیں جنہیں کرائے کے مکانوں میں ہی رہ کر پالا اور پڑھایا ہے۔

رکشہ بھی کسی سے ٹھیکے پر لے رکھا ہے جسے چلانے کا مقصد بتاتے ہیں کہ ’بچوں کو شیلٹر دے سکوں۔‘

اپنا گھر خریدنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو قرار دیتے ہیں۔

’میں نے اس دور میں سارے پیسے انگلش پر لگا دیے جب میرے گاؤں میں تین سے چار لاکھ روپوں میں مکان مل جاتا تھا۔‘

محمد سلیم کی پرورش ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں ہوئی۔ تعلیم کی سیڑھیاں چڑھ کر خوشحال ہونے کا راستہ اپنایا۔ انگلش سمیت مختلف مضامین میں چار ایم اے کیے۔ ایم ایڈ بھی کر لیا لیکن درس و تدریس کے شعبے میں اپنی تعلیم کے ہم پلہ نوکری نہ مل سکی۔

’پانچویں چھٹی کا ٹیچر بنا تھا، اس لیے چھوڑ دیا کہ عمر نہ نکل جائے۔ جب دیکھا کہ مجھے انگلش کی پروفیسری نہیں مل سکتی تو میں لاہور آگیا۔ اپنے بچوں کا مستقبل درست کرنے کے لیے، کام پر ڈالنے کے لیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا آبائی شہر خان پور، پاکستان کے پسماندہ خطوں میں سے ایک، جنوبی پنجاب میں ہے جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ لاہور اس لیے منتقل ہوئے کہ یہاں صنعتیں اور کاروباری مواقع ہیں۔

’بچوں کو آٹھ آٹھ جماعتیں پڑھا کر کام پر ڈال دیا ہے۔ جتنا وقت وہ بی اے ایم اے کرنے میں لگا دیں گے، اتنے وقت میں کچھ سیکھ کر کمانا شروع کر دیں گے۔‘

محمد سلیم کے تین بیٹے تکنیکی کام سیکھ کر اپنا خرچہ خود برداشت  کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی آمنہ سلیم دسویں جماعت کی طالبہ ہیں لیکن ڈگری حاصل کرنے کی خواہشمند نہیں۔ کہتی ہیں ’ہمارے پاپا نے ڈگریاں لے کر کیا کر لیا جو ہم کر لیں گے۔ کیا فائدہ ایسی تعلیم کا؟‘

ایسا نہیں کہ اس پسماندہ خاندان کا تعلیم پر اعتماد نہیں رہا۔ لاہور آنے کے بعد محمد سلیم نے بچوں کو انگلش گرامر سکھانے کی چار کتابیں لکھیں۔ اپنے رکشے پر پینافلکس لگا کر کتابوں کی مارکیٹنگ کی جس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ کتابیں بِک گئیں لیکن اتنی آمدن نہ ہو سکی کہ مکان خریدا جا سکے۔ آمنہ کو فخر ہے کہ کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے والد کے پڑھانے کا طریقہ اتنا اچھا ہے کہ ان سمیت بہت سے بچے انگلش زبان سے واقف ہو گئے۔

آج کل محمد سلیم انگلش میں شاعری کی کتاب لکھ رہے ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ملک میں تکنیکی اور فنی تعلیم کو فروغ ملنا چاہیے۔

’60 سال کی زندگی میں نے انگلش کو دے دی۔ انگلش نے مجھے کچھ نہیں دیا، سوائے اس رکشے کے۔ اگر میں نے کوئی ہنر سیکھا ہوتا، فن سیکھا ہوتا تو میرے خیال میں میرے حالات اچھے ہو جاتے۔ وہ جو پیسے میں نے تعلیم پر لگائے تھے، وہ بھی میرے پاس ہوتے۔ اس تعلیم پر میں نے جو وقت لگایا، اس میں بھی میری کمائی ہو جاتی۔‘

رکشہ چلاتے ہوئے سڑک کے کنارے عمارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ جتنے بھی آپ کو مکان نظر آ رہے ہیں، یہ پڑھے لکھوں کے نہیں ہیں، کاروباری لوگوں کے ہیں۔ کوئی آٹھ جماعتیں پڑھے ہوئے ہیں، کوئی چھ جماعتیں پڑھے ہوئے ہیں لیکن تین تین منزلہ مکانوں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ ہم اگر ایم اے انگلش ایم ایڈ کرنے کے بعد رکشے پر آ گئے ہیں تو ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟‘

امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور جاپان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کی ترقی کی بنیاد وہاں کا تعلیمی نصاب قرار ریتے ہیں۔

’ہمارے پاکستان میں (حکومتوں کا) سب سے بڑا قصور نصاب سازی ہے۔ ہماری تعلیم فنی ہونی چاہیے۔ جب سے پاکستان بنا ہے، ابھی تک انہیں یہ نہیں پتہ چلا کہ ہم نے عوام کو کیا پڑھانا ہے۔‘

’ہم نے یہی پڑھا ہے کہ بلبل بولتی ہے۔ کوئل بولتی ہے۔ باغ و بہاراں ہے۔ پھول کھلتے ہیں۔ پاکستان پسماندہ علاقہ ہے، یہ ترقی یافتہ ملک تو نہیں ہے، غریب لوگ ہیں۔ ان کا بلبلوں کے ساتھ کیا تعلق؟ کوئل کے ساتھ کیا تعلق؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا