کِک باکسنگ: کراچی میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کا سہارا؟

کراچی سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی والدہ شہزین کا کہنا ہے کہ انھوں نے گھریلو پریشانیوں اور دباؤ سے نمٹنے کے لیے کِک باکسنگ سیکھنے کا فیصلہ لیا۔

آج کے جدید دور کی زندگی میں ذہنی دباؤ اور اینزائٹی جیسے مسائل تو عام ہی ہوگئے ہیں، چاہے وہ پروفیشنل زندگی ہو یا گھریلو معاملات۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی شہزین کے حالات بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔ تین بچوں کی واحد کفیل اور ایک آن لائن بزنس چلانی والی شہزین کو بھی روز مرہ کی زندگی میں سٹریس اور اینزائٹی کا سامنا رہتا ہے، مگر انھوں اس سے نمٹنے کے لیے ایک منفرد حل ڈھونڈ نکالا ہے جو نہ صرف ان کو ایکٹیو رکھتا ہے بلکہ ذہنی سکون بھی دیتا ہے۔ 

32 سالہ شہزین اپنے گھر سے ہاتھ سے بنائے ہوئے پاستہ کا بزنس چلاتی ہیں، جس کی شروعات انہوں نے سوشل میڈیا پر فوڈ وِلا کے نام سے کی۔ تین بچوں کے بعد شہزین کا وزن کافی بڑھ گیا، جسے پلس سائز ہونا کہا جاتا ہے۔

بظاہر تو ہر گھریلو خاتون کی طرح شہزین کا پورا دن گھرداری اور بچوں میں ہی گزر جاتا ہے لیکن ایک منفرد اور دلچسپ شوق نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔

شہزین کراچی کے علاقے زمزمہ میں واقعے ’کے سیون کِک باکسنگ اکیڈمی‘ سے  کِک باکسنگ سیکھتی ہیں۔ ویسے تو یہ اکیڈمی ان کے گھر سے تیس کلو میٹر دور ہے لیکن کِک باکسنگ سیکھنے کے لیے یہ شہزین کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 شہزین کے مطابق کِک باکسنگ کرنے سے وہ گھریلو پریشانیوں، ذہنی دباؤ، اور غصے سے بہتر طریقے سے نمٹ پاتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’یہاں سے آپ ایک نئی قوت لے کر جاتے ہیں۔ آپ کو بہت سی چیزوں سے لڑنے کی صلاحیت ملتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: ’کِک باکسنگ سیکھنے کے لیے سلم  یا فٹ ہونا ضروری نہیں ہے۔ میں ہاؤس وائف اور پلس سائز خاتون ہو کر بھی سب کچھ کرسکتی ہوں۔‘ 

انھوں نے بتایا کہ کچھ دن پہلے انھوں سوشل میڈیا پر اپنی کِک باکسنگ کرتے ہوئے ایک ویڈیو شئیر کی تو بہت سے لوگوں ان کی حوصلہ افزائی کی مگر بہتوں نے منفی باتیں بھی کیں۔ ’بہت سے لوگوں نے میرا مزاق اڑایا اور کہا کہ فضول چیز چھوڑ کر گھرداری پر توجہ دوں لیکن اب یہ دقیانوسی سوچ مجھے کِک باکسنگ سیکھنے سے نہیں روک سکتی۔‘

شہزین کا ماننا ہے ہر عمر کے لوگوں اور خواتین کو کِک باکسنگ کرنی چاہیے کیونکہ یہ ذہنی دباؤ کو نکالنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین