نصابی کتب پر پاکستان، بھارت تعلقات کی پرچھائیاں

گذشتہ کچھ سالوں سے مذہبی امور کی وزارت میں ایک مخصوص شعبہ مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام کافی تندہی سے کر رہا ہے ۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود عمومی سماجی سوچ میں مذہبی اقلیتوں کی برابر حیثیت کیوں نہیں منوائی جا سکی؟

 پاکستان کی اکثریت نے اپنے لاشعورمیں مذہبی اقلیتوں کی پہچان کن بنیادوں پر قائم کی ہے اس کے لیے ہمیں ریاست کی سوچ کے اظہار کا جائزہ لینا ہو گا۔(اے ایف پی)

ہمیں بہت مسئلے ہیں نوکری کے، بچوں کی تعلیم کے، مہنگائی کے۔ سوچیں اگر ان سب مسائل کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی مذہبی شناخت اور قومی شناخت کی تگ و دو کرنی پڑے اور روز یہ جدوجہد کرنی پڑے کہ ہم بھی پاکستانی ہیں تو ہماری مشکلات کس قدر بڑھ جائیں۔ ہم جو اس ملک کی اکثریت ہیں ہماری مذہبی شناخت پر سوال کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہم نے کبھی اس حق سے ملنے والی سہولت پر شکر ادا نہیں کیا ہو گا۔

ہم اس ملک کی اکثریت سے تعلق رکھنے والے شہری ہیں جنہیں اپنا آپ منوانے کے لیے، اپنی بات منوانے کے لیے کسی کا ڈر نہیں۔ مگر کیا ہم ان لوگوں کے بارے میں کبھی حساس ہوتے ہیں جن کے پاس یہ آسائش موجود نہیں۔ ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ وہ قومی و مذہبی شناخت کے بارے میں زندگی کے ہر قدم پر کس امتحان سے گزرتے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو ان سب مسائل کا بھی سامنا ہے جو اکثریت کو در پیش ہیں، وہ بھی مہنگائی اور تنگ دستی کے ستائے ہوئے ہیں مگر ان سب مشکلات کے ساتھ ساتھ اپنا آپ منوانے کے لیے ایک جہد مسلسل ان کی زندگی کا حصہ ہے۔ ہر سال کرسمس پر میں گھر میں مددگار خواتین سے ایسے قصے سنتی ہوں کہ انہیں کسی پڑھے لکھے باشعور خاندان نے کرسمس کی چھٹی نہیں دی کیونکہ ان کے بچے اس دن گھر تھے ۔ گذشتہ دسمبر میری جز وقتی مددگار اپنی کسی رشتہ دار کو کرسمس پر چھٹی نہ ملنے پر افسردہ تھی۔ اس نے بڑی حسرت سے کہا قائداعظم ہوتے تو پھر ہمارے دن اچھے ہوتے۔ میں نے دل میں سوچا ہاں اگر وہ ہوتے تو اس ملک کے دن بھی اچھے ہوتے۔ ہم یہاں اپنے ملک میں مذہبی اقلیتوں کی موجودگی کو کبھی اپنے وجود کی طرح محسوس ہی نہیں کرتے۔ اس خیال سے مجھے چند ماہ قبل کی ایک تقریب میں ایک پاکستانی ہندو کی بپتا یاد آگئی۔

وہ بتا رہے تھے کہ ’جب میں نے تعارفی کلاس میں یونیورسٹی پروفیسر کو اپنا نام راج کمار بتایا تو میرے پروفیسر کو غصہ آ گیا انہوں نے کہا کہ تم کیسے بے ادب ہو، استاد سے مذاق کرتے ہو؟ میں پریشان ہو گیا کہ آخر اس میں مذاق کی کیا بات ہے، میں تو سنجیدگی سے اپنا تعارف کرا رہا تھا۔ میں نے ذرا اور سنجیدگی سے وضاحت کی سر میرا نام واقعی راج کمار ہے اور میں ہندو ہوں۔ سب کے چہروں پر حیرت تھی، چند ساتھیوں کے چہروں پر ایک اجنبی تاثر تھا شاید اسے نفرت کہنا بے جا نہ ہوگا۔‘

یہ پاکستان کے راج کمار کی نہیں بیشتر پاکستانی ہندوؤں کی کہانی ہے۔ راج کمار کا کہنا تھا کہ جب وہ بچے تھے تو بہت مزے میں تھے کیوں کہ بچوں کو مذہبی شناخت کا ادراک نہیں ہوتا مگر بڑے ہونے کے ساتھ انہیں اپنی شناخت سے جڑی پیچیدگی کا شدت سے احساس ہوا۔ 

راج کمار جب اسلام آباد میں ہی ایک کرائے کے گھر میں منتقل ہو رہے تھے تو اس وقت تک سب معاملات ٹھیک رہے جب تک کہ تحریری معاہدے کا مر حلہ نہیں آیا۔ جب نام پتے کی باری آئی تو ان کا نام سن کر مالک مکان خاتون پریشان ہو گئیں۔ نام دیکھ کر کہنے لگیں تم ہندو ہو وہ بولے جی، بولیں انڈین ہو، راج کمار نے کہا نہیں آنٹی پاکستانی ہوں۔ وہ بولیں اچھا میں نے تو کبھی سوچا ہی نہیں کہ پاکستان میں بھی ہندو ہوتے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ سوچ ہے، کیا آپ نے بھی کبھی نہیں سوچا کہ پاکستان میں جو ہندو اور سکھ ہیں وہ صرف اور صرف پاکستانی ہیں؟ جیسے ہی ہندو لفظ آتا ہے عام طور ہر لوگوں کے ذہن میں انڈین کا تصور ہی کیوں آتا ہے؟ 

 پاکستان کی اکثریت نے اپنے لاشعورمیں مذہبی اقلیتوں کی پہچان کن بنیادوں پر قائم کی ہے اس کے لیے ہمیں ریاست کی سوچ کے اظہار کا جائزہ لینا ہو گا۔ مذہبی اقلیتوں کے خاص تہواروں کے علاوہ اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بدقسمت واقعات پر ریاستی ردعمل سے جڑی یادوں کے علاوہ ریاست کی سوچ میں کہیں ایسا اہتمام نہیں جس کی وجہ سے یہ حقیقت روشن رہے کہ ہندو، پارسی، مسیحی، سکھ، جین، احمدی، بہائی اور بدھ مت کے ماننے والے بھی ہمارے ملک کے باشندے ہیں۔ اتنے ہی اہم ہیں جتنے اہم مسلمان ہیں۔ یہ سوچ پیدا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مذہبی منافرت اور تعصب کو ختم کرنے کے لیے علامتی اقدامات سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف ریاست کے اہم ترین ادارے کرتارپور جیسے اقدامات سے ریاستی روشن خیالی اور مذہبی اقلیتوں کے ساتھ رواداری کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں دوسری طرف عوامی سوچ میں مذہبی اقلیتوں کا احساس وہ مقام حاصل نہیں کر پایا جو لازم تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ کچھ سالوں سے مذہبی امور کی وزارت میں ایک مخصوص شعبہ مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام کافی تندہی سے کر رہا ہے ۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود عمومی سماجی سوچ میں مذہبی اقلیتوں کی برابر حیثیت کیوں نہیں منوائی جا سکی؟ اقلیتوں کو جبری مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کرنےکے واقعات بار بار ریاست کے سامنے یہ مسئلہ پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح شادی کی خواہش اور انکار جیسے معاملات پر عبادت گاہوں پر حملے کے لیے لوگوں کو اکسانا آسان کیوں ہے؟ ریاست کے ماتھے پر لگے مذہبی منافرت کے بدنما داغ دھونے کے لیے ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ضروری ہے۔ 

 ہم نصابی کتب کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ریاست پاکستان کے شہریوں کی تعریف میں وضاحت سے مذہبی اقلیتوں کا ذکر نہیں اور نہ ہی ان کی قانونی اور آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک واضح مضبوط موقف بیان کیا گیا ہے۔ یہی دھندلا ہٹ ہر دور میں ریاستی بیانیے پر تاریک بادلوں کی طرح چھائی رہی۔ نصابی کتب میں سارا زور مسلمانوں اور پاکستان کے تعلق پر اتنا زیادہ ہے کہ اسے پڑھ کر کوئی بھی شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ یہ ملک صرف اور صرف مسلمانوں کا ہے اور مسلمانوں کے لیے ہے۔ فیصلہ سازی کا حق اور وسائل پر قبضے کا حق صرف مسلمانوں کے پاس ہے۔ تعلیمی نصاب میں بھی بالخصوص ہندو مذہب کی خصوصیات اور مذہبی تاریخ کو پاک و ہند کے رسوم و رواج کے ساتھ گڈ مڈ کر کے پیش کیا گیا۔

 بھارت کے ساتھ پاکستان کے مخاصمانہ تعلقات کی پرچھائیاں نصابی کتب میں اس تسلسل کے ساتھ ہیں کہ بھارت اور ہندو مذہب دونوں میں تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ریاستی بیانیے میں اس خطے کے تاریخی تناظر میں اقلیتوں جیسے معاملے کی حساسیت کو کیسے نظر انداز کیا گیا۔ کسی خاص سوچ کے تحت ہندو اور بھارت ایک تصور کے طور پر ابھارے گئے یا پھر فیصلہ سازوں کی ازلی لا پرواہی کی وجہ سے یہ ہوا۔

پاکستان میں ہندو سے مراد بھارت ہے اور اسی وجہ سے پاکستانی ہندوؤں کو اپنا تشخص منوانے کے لیے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پاکستانی ہندوؤں کو بالخصوص بھارت سے جوڑا جاتا ہے یہ یقینا ریاست کی ناکامی ہے کہ مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ریاست کے شہری اپنا تشخص اور حیثیت منوانے کے لیے اکثریت سے تعلق رکھنے والے شہریوں سے زیادہ تگ و دو کریں پھر بھی ناکام ہوں۔

مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ بہت ضروری ہے مگر اس سے ذیادہ تحفظ ریاست میں ان کی حیثیت اور شناخت کو چاہیے تا کہ انہیں اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے بے بنیاد سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر