چوہدری برادران نے حکومت سے کون سی شرائط منوائیں؟

حکومتی ٹیم کی جانب سے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر مسلم لیگ ق نے رنجشیں بھلا کر ایک ساتھ چلنے کا عندیہ دیا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے مذاکرات کرکے انہیں حکومت کے ساتھ چلنے پر رضا مند کرلیا ہے۔

حکومتی ٹیم میں شامل وفاقی وزرا پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات سنے۔

حکومتی ٹیم سے ملاقات میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ، وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہی، رہنما مسلم لیگ ق رافع چوہدری اور رکن اسمبلی کامل علی آغا بھی شریک ہوئے۔

مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم نے ق لیگی قیادت کو تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور ان کے مسائل حل کرنے کا ٹاسک وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو سونپا گیا ہے۔

حکومتی ٹیم کی جانب سے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر ق لیگ نے رنجشیں بھلا کر ایک ساتھ چلنے کا عندیہ دے دیا۔

اختلافات کے خاتمے کا اعلان

مذاکرات کے بعد مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ اور پرویز خٹک نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں ایک ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا مگر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیے بغیر ہی چلے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں جو دور کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم بھی اتحادی جماعتوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اتحاد پورے پانچ سال چلتا رہے گا۔

دوسری جانب سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ان کے تحفظات دور ہوچکے ہیں اور گلے شکووں کے بعد ہم ایک بار پھر پہلے کی طرح ساتھ مل کر کام کریں گے تاہم جہاں ضرورت محسوس کریں گے خرابیوں کی نشاندہی بھی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی مسائل حل کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

پرویز الہیٰ کا نئے معاملات کی طرف اشارہ

حکومتی کمیٹی کے روانہ ہونے کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اس ملاقات میں بعض نئے معاملات کا علم ہوا ہے اور اس بارے میں جو طے کیا گیا ہے وہ جلد عوام کے سامنے لائیں گے، اس میں بڑی خبریں ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن کی امانت ان کے پاس محفوظ ہے اور وہ وقت آنے پر واپس کریں گے۔‘

حکومت اور اتحادی جماعت میں کیا شرائط طے ہوئیں؟

مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق ‎حکومتی کمیٹی سے مذاکرات میں اتحادی جماعت کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے، جس کے مطابق ق لیگی اراکین کے حلقوں میں خصوصی فنڈز کا فوری اجرا ہوگا تاہم اس بارے میں ایک ملاقات اسلام آباد میں بھی ہوگی۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ طے شدہ فارمولے کے تحت پنجاب کے متعلقہ اضلاع میں سرکاری افسران کی تقرری ق لیگی قیادت کی مشاورت سے ہوگی جبکہ جن افسران پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، ان کو ہٹانے کے لیے حکومت مسلم لیگ ق سے مشاورت کرے گی۔

ذرائع کے مطابق ایک شرط یہ بھی ہے کہ اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزرا کو اپنے متعلقہ اداروں میں ردوبدل سے متعلق مکمل اختیار حاصل ہوگا، تاہم پنجاب کی بیوروکریسی میں ردوبدل اور اضلاع میں ترقیاتی کاموں سے متعلق بھی ق لیگ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق مسلم لیگ ق وفاق میں دو وزارتوں کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور چوہدری پرویز الہیٰ کے مطابق ق لیگ اب مونس الہیٰ کے لیے وفاقی وزارت نہیں لینا چاہتی۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں منظور کیے گئے مسلم لیگ ق کے مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاق میں پرویز خٹک اور اسد عمر نگرانی کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست