حج مزید مہنگا ہوگیا

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2020 کی منظوری دے دی جس کے تحت شمالی ریجن کے لیے حج کے سرکاری نرخ چار لاکھ 90 ہزار روپے جبکہ جنوبی ریجن کے لیے چار لاکھ 80 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیر برائے مذہبی امور کا کہنا تھا  کہ حج پالیسی تاخیر سے پیش کی گئی تاہم اس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایت پر اس کو بہتر سے بہتر بنانا تھا (فائل تصویر: اےا یف پی)

وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2020 کی منظوری دے دی جس کے تحت حج کے زیادہ سے زیادہ اخراجات چار لاکھ 90 ہزار جبکہ کم سے کم چار لاکھ 80 ہزار مقرر کیے گئے ہیں، جو گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریب 54 ہزار روپے زائد ہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ان کی وزارت نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ حج کے اخراجات کو کم سے کم کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ اس بار حج کے اخراجات ناقابل برداشت حد تک بلند کیے جا رہے ہیں تاہم ہم نے اس کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

نور الحق قادری کے مطابق ملک کے شمالی ریجن سے سعودی عرب جانے والوں کے لیے حج کے سرکاری نرخ چار لاکھ 90 ہزار روپے ہوں گے، جس میں اسلام آباد، پشاور، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور رحیم یار خان شامل ہیں، جب کہ جنوب کے علاقوں کے لیے یہ اخراجات چار لاکھ 80 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں، جس میں کوئٹہ، کراچی اور سکھر شامل ہیں۔

گذشتہ برس شمالی ریجن کے لیے حج پیکج چار لاکھ 36 ہزار 975 روپے جبکہ جنوبی ریجن کے لیے یہ کوٹہ چار لاکھ 26 ہزار 975 روپے تھا جبکہ حج پالیسی 2018 کے تحت شمالی ریجن سے جانے والے عازمین حج نے دو لاکھ 80 ہزار روپے اور جنوبی ریجن سے تعلق رکھنے والے عازمین نے دو لاکھ 70 ہزار روپے جمع کرائے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ ’حج اخراجات میں جو اضافہ ہوا ہے وہ پی آئی اے اور سعودی ایئر لائن کے کرایوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ سعودی عرب میں منیٰ میں مزید اقدامات اور سہولیات اپ گریڈ کرنے کے لیے 300 ریال اور 210 ریال ہیلتھ انشورنس بھی عائد کی گئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ایک لاکھ 79 ہزار 210 کا حج کوٹہ ملا ہے اور ممکن ہے کہ اس میں اضافہ بھی ہو جائے۔

نور الحق قادری نے مزید بتایا کہ 60 فیصد حجاج سرکاری سکیم جب کہ 40 فیصد پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کا فریضہ انجام دیں گے اور پرائیویٹ کوٹہ سکیم کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ذاتی کوششوں اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کے بعد پاکستان کو ’روڈ ٹو مکہ‘ سکیم میں شامل کیا گیا ہے جس سے 70 سے 80 ہزار پاکستانیوں کو فائدہ ہو گا۔ ’کوشش کی جا رہی ہے کہ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں کو بھی ’روڈ ٹو مکہ‘ سکیم سے جوڑا جائے جس سے حجاج کو امیگریشن اور سامان کی اپنی رہائش گاہوں پر دستیابی ممکن ہو سکے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس بار پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں عارضی حج کیمپ قائم کیا جا رہا ہے اور کوئٹہ سے بھی براہ راست پروازیں مکہ اور مدینہ کے لیے روانہ کی جائیں گی جب کہ دور دراز کے علاقوں کے لیے بھی بائیو میٹرک کا نظام بنایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حج پالیسی تاخیر سے پیش کی گئی تاہم اس کا مقصد وزیراعظم کی ہدایت پر اس کو بہتر سے بہتر بنانا تھا۔ ’نئی حج پالیسی کے تحت 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کو قرعہ اندازی کے بغیر حج کی اجازت دی گئی ہے۔‘

نور الحق قادری کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزارت مذہبی امور اور وزارت مالیات کو ملائیشیا کے حج ماڈل کو پاکستان میں متعارف کرانے کی ہدایات بھی دی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان