پنجاب: پانچویں، آٹھویں کے بورڈ امتحان ختم ہونے پر اساتذہ خوش

نقل ختم کرنے کے لیے صوبائی وزیر برائے تعلیم مراد راس کے اس قدم پر اساتذہ تو خوش ہیں لیکن والدین ناراض۔

پنجاب کے سرکاری سکولوں میں پانچویں کے طالب علموں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ جبکہ آٹھویں کے بچوں کی تعداد 12 سے 13 لاکھ کے قریب ہے: رانا لیاقت علی (اے ایف پی فائل)

صوبہ پنجاب کے بورڈ امتحانات میں نقل ختم کرنے کے لیے صوبائی وزیر برائے تعلیم مراد راس نے رواں برس پانچویں جبکہ اگلے برس سے آٹھویں کے بورڈ امتحانات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس پر والدین نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔

مراد راس نے انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ اپنے امتحانی نتائج بہتر کرنے کے لیے امتحانات میں نقل کرواتے تھے۔ ’ایک 10 سال کا بچہ جو امتحانی مرکز میں بیٹھا ہے اسے نقل کی ترغیب دے کر ہم اس میں مجرمانہ ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں، اسی لیے اس سال پانچویں اور اگلے سال سے آٹھویں کے بورڈ امتحان ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

پانچویں اور آٹھویں کے بورڈ امتحان ختم کرنے پر کوئی اور خوش ہو نہ ہو لیکن سرکاری سکول کے اساتذہ بہت خوش ہیں۔ 

پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی جنرل سیکرٹری رانا لیاقت علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس وقت پنجاب کے سرکاری سکولوں میں پانچویں کے طالب علموں کی تعداد تقریباً 15 لاکھ جبکہ آٹھویں کے بچوں کی تعداد 12 سے 13 لاکھ کے قریب ہے۔

’پانچویں اور آٹھویں کے بورڈ امتحان میں جب بچے فیل ہوجاتے ہیں تو اس کی سزا استاد کو دی جاتی تھی۔ اس پر ہمارا یہ کہنا تھا کہ پہلے بچے کو تو چیک کر لیں کہ وہ آیا اس قابل تھا کہ امتحان میں بیٹھتا۔

’اکثر بچے دو، تین ماہ سکول سے غیر حاضر رہتے ہیں یا دیر سے داخل ہوتے ہیں تو اس صورت میں ان کے فیل ہونے پر سزا استاد کو کیوں دی جا رہی ہے؟‘

رانا لیاقت کے مطابق سزا کے طور پراستاد کو پانچ سے 10 ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا تھا اور سالانہ انکریمنٹ روک لی جاتی تھی، پوری دنیا میں ایسا سسٹم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب کے 36 اضلاع کی رینکنگ کی جاتی تھی۔ ان میں سے 10 ٹاپ کے اضلاع ہوتے تھے جن کا امتحانی نتیجہ بہتر ہوتا تھا۔ ان 10 کو چھوڑ کر باقی اضلاع  کو امتحان کا نتیجہ خراب آنے پر سزا دی جاتی تھی جس کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ بھی خوف کا شکار رہتی تھی اور یوں امتحانی مراکز میں  نقل کا رحجان بھی بڑھا۔‘

رانا لیاقت کے مطابق  اب سکولوں میں ہی بچوں کے امتحان لیے جائیں گے جس کے لیے اساتذہ کی تربیت کی جائے گی کہ وہ معیاری پرچے تیار کریں جو نصاب کے اندر سے ہی سوالوں پر مبنی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر اوقات امتحان سے پہلے ہی پرچہ سوشل میڈیا پر آؤٹ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ امتحانی مراکز پر پیپر بہت جلد پہنچانا بتائی۔

’پنجاب ایگزیمنیشن کمیشن (پی ای سی) امتحانی مراکز کے ریزیڈنٹ انسپکٹر کو (جو اسی سکول کا پرنسپل ہوتا ہے جہاں امتحانی مرکز بنا ہو) 10 بجے پیپر دے دیتے ہیں، جبکہ پرچہ ساڑھے گیارہ بجے شروع ہونا ہوتا ہے۔

’اب جس کا سینٹر دیہی علاقے میں ہے اس کو آپ نو یا 10 بجے پیپر دے دیں گے تو اس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ پیپر کھول کر آگے بچوں کو بتا دے۔ دوسرا جب آپ بچے کی کارکردگی پر استاد کو سزا دیں گے تو وہ اپنی سزا سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی منفی راستہ تلاش کرے گا۔ ‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رانا لیاقت نے مزید بتایا کہ نقل ہونے میں پبلشر مافیا بھی شامل ہے کیونکہ پبلشر مافیا پی ای سی پر رشوت کے ذریعے امتحانی پرچے میں مخصوص سوال ڈالنے کا دباؤ ڈالتا ہے، بعد ازاں وہی سوال اپنی گائیڈ میں چھاپ کر بچوں کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کی گائیڈ میں کس حد تک سوال پرچوں میں آتے ہیں۔ 

پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ یکم اپریل سے پانچیوں جماعت تک کا نصاب دوبارہ اردو میڈیم کیا جارہا ہے اور انگریزی کو بطور مضمون پڑھایا جائے گا، جبکہ اس پہلے ریاضی اور جنرل سائنس بھی پہلی جماعت سے پانچویں تک انگریزی میں تھا جس کا اطلاق 2008 سے پرویز الہٰی کے دور میں ہوا تھا۔

والدین کا ردعمل

شیخوپورہ کی رہائشی عصمت بی بی  کی چوتھی بیٹی نے اس  سال آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات دینے ہیں۔ ان کو تشویش ہے کہ اگر امتحان ہی نہیں ہوں گے تو انہیں اپنی بچیوں کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں صحیح سے کیسے معلوم ہوگا۔

عصمت کہتی ہیں کہ جب بورڈ کے پرچے ہوتے ہیں تو بچے زیادہ محنت سے پڑھتے ہیں اور والدین بھی ان کو اچھی تیاری کرواتے ہیں۔ ’سکول کے اپنے امتحانات کا کیا ہے، استاد سکول کا رزلٹ بہتر بنانے کے لیے بچوں کو پاس کردیں مگر بورڈ کے امتحان میں تو دوسرے استاد پرچے چیک کرتے ہیں۔ اس لیے وہ سسٹم زیادہ بہتر ہے۔ کم از کم ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بچے کی تعلیمی حیثیت اور کارکردگی کیا ہے اور ہمیں اسے کس مضمون میں مزید محنت کروانی ہے۔‘

عصمت نے بتایا کہ ان کی پہلی تینوں بیٹیوں کے پانچویں اور آٹھویں کے بورڈ امتحانوں میں بہت اچھے نتائج آئے اور اسی لیے انہیں میٹرک کے امتحان میں کوئی مشکل نہیں ہوئی اور نہ ڈر لگا لیکن ’اگر ہم سیدھا میٹرک میں بورڈ کا امتحان لیں گے تو بچوں کو اس کا تجربہ ہی نہیں ہوگا۔‘

لاہور کے محمد احمد کے بیٹے بھی پانچیوں جماعت کے طالب علم ہیں۔ وہ حکومت کے اس فیصلے سے خوش ہیں۔ ان کے خیال میں بورڈ کا امتحان والدین پر اضافی خرچہ اور بچوں کے ذہن پر اضافی دباؤ سے زیادہ کچھ نہیں۔ ’اس کی تیاری، داخلہ جانے وغیرہ میں ایک ماہ کا وقت ضائع ہوتا ہے اب بچوں کو 30 دن مزید سکول میں پڑھنے کا وقت مل جائے گا۔‘

بورڈ کا امتحان نہیں تو پھر کیا؟

ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس پی ای سی انور فاروق کے مطابق پانچویں اور آٹھویں کے بورڈ امتحانات کو ختم کر کے سیمپل بیسڈ امتحانات لیے جائیں گے۔

’ ہم نے ان امتحانات کی تین طرح کی درجہ بندی کی ہے۔ ایک ابتدائی اسسمنٹ ہوگی جو جاری رہے گی، اس کا پانچ سالہ پلان ہے۔ اسی طرح سکول بیسڈ امتحانات ہوں گے جو سال کے آخر میں  لیے جائیں گے، لیکن اس کے پیپر وغیرہ بنا کر ہم انہیں دے دیا کریں گے اور ایک بڑے پیمانے پر اسسمنٹ ہو گی جس کا اہتمام ہم خود کریں  گےاور تھرڈ پارٹی ان کا ٹیسٹ لے گی۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ اس میں شامل نہیں ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کا امتحان ختم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ اس کا دورانیہ بہت لمبا ہے، اس کا خرچہ بہت زیادہ ہے اور جو نتائج آتے ہیں وہ قابل اعتماد نہیں ہوتے۔

’گذشتہ حکومت ان امتحانات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے اساتذہ کو سزائیں دیتی تھی جس کی وجہ سے استادوں نے طالب علموں کو پڑھایا ہو یا نہ پڑھایا ہو مگر سزا کے ڈر سے وہ کہتے تھے کہ جیسے تیسے اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ نمبر دلوانے ہیں۔ یہی وجہ بڑے پیمانے پر امتحانی مراکز میں تقل کا سبب بھی بنی۔‘

 ان کا کہنا تھا: ’پنجاب میں صرف آٹھویں کے امتحان کے لیے 6632 سینٹر تھے جن میں تقریباً 50 ہزار کے قریب اساتذہ ڈیوٹی دیتے ہیں۔ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ سارے اساتذہ اپنے کام سے مخلص ہیں۔ ان کی ڈیوٹیاں لگانے والے بھی ان کے جاننے والے اسی اضلاع کے لوگ ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس