بھارتی مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں مہاجرین بننے کا خوف کیوں؟

سی اے اے قانون کے نفاذ کے بعد سے ایک بدلاؤ آگیا ہے۔ یونیورسٹی کیمپسوں پر پولیس کے حملوں اور خونریز تصادم کے نتیجے میں اموات نے اگر اندرا گاندھی دور کے ہندوستان کی یاد نہیں دلائی تو موجودہ دور میں ہانگ کانگ میں ہونے والے واقعات کی یاد ضرور تازہ کی ہے۔

سی اے اے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں لوگ گاندھی جی کی صورت والے کاغذی ماسک پہن کر  کھڑے ہیں۔ (تصویر: ایڈم وٹنال/دی انڈپینڈنٹ)

بھارت اس وقت ایک بہت بڑے عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ یہ سنہ 1970 کے بعد سے سب سے بڑا احتجاج ہے، جب اس وقت اندرا گاندھی نے ملک گیر احتجاج کو ختم کرنے کے لیے بدنامِ زمانہ ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ملک کے طول و عرض میں سینکڑوں کی تعداد میں ریلیوں، احتجاج اور دھرنوں کا انعقاد ہو چکا ہے اور یہ تب سے ہو رہا ہے جب سے نریندر مودی کی حکومت نے ایک بل پاس کیا ہے جو سوائے مسلمانوں کے، مختلف مذاہب کے ماننے والے تارکینِ وطن کو شہریت دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

 بل کا دفاع کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ضروری تھا کہ بھارت آنے والے ان لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے جو پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے اکثریتی ہمسایہ ممالک کے ہاتھوں مذہب کے نام پر ظلم و ستم کا شکار بنے ہوں، لیکن نقادوں کی نظر میں سٹیزن امینڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے) یعنی شہریت کا ترمیمی بل مودی کی قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اس منزل کی طرف ایک بڑا قدم ہے جو سیکولر ہندوستان کو ایک ہندوانہ ملک بنا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مودی نے پچھلے سال انتخابات میں دوسری بار واضح برتری حاصل کرنے کے بعد کشمیر کی خود مختار حثیت ختم کرنے سے لے کر بابری مسجد کے مسمار ہونے والی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے وعدے تک ان پالیسیوں کو فروغ دیا ہے جو مڈل کلاس قوم پرست ہندوؤں کو پسند ہیں۔ اب تک کشمیر، بابری مسجد اور یہاں تک کہ آسام میں شہریوں کے اندراج کا قومی رجسٹر (این آر سی) لاگو کرنے کے واقعات ہونے کے بعد بھی بائیں بازو اور اقلیتی برادری والے عموماً خاموش ہیں۔

لیکن جب سے 13 دسمبر کو سی اے اے کے قانون کا نفاذ ہوا ہے، تب سے ایک بدلاؤ سا آگیا ہے۔ یونیورسٹی کیمپسوں پر پولیس کے حملوں اور خونریز تصادم کے نتیجے میں ہونے والے اموات نے اگر ماضی میں اندرا گاندھی دور کے ہندوستان کی یاد نہیں دلائی تو موجودہ دور میں ہانگ کانگ میں ہونے والے واقعات کی یاد ضرور تازہ کی ہے۔ ایک طرف جہاں مظاہرین، کارکنان اور اقلیتی برادری کے رہنماؤں نے انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے سی اے اے قانون کو نقطہ آغاز کہا ہے، وہیں دوسری طرف پولیس کی طرف سے مظاہروں کو بھونڈے انداز میں کنٹرول کرنے اور نوآبادیاتی طرز کے کرفیو کے استعمال نے نفرت کے شعلوں کو مزید بھڑکانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ معلوم کرنے کے لیے کہ اس تحریک کی اتنی حوصلہ افزائی کیسے ہو رہی ہے؟ انڈپینڈنٹ نے ان کارکنان، خواتین اور بچوں سے بات کی ہے جو یا تو بھارت کی شہریت تنازع کے سلسلے میں گرفتار ہوئے ہیں یا ابھی اس تحریک کی رہنمائی کر رہے ہیں۔    

 کارکنان

دیپک کبیر اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کی معروف شخصیت ہیں۔ نرم گو سٹیج ڈائریکٹر، صوفی میوزک کے سالانہ تہوار کے منتظم، لمبے بال اور سر پر خاص قسم کا کیپ پہنے، دیپک کبیر ہر لحاظ سے ایک ثقافتی کارکن نظر آتے ہیں۔

کبیر کا کہنا ہے کہ سی اے اے قانون کے نفاذ کے ایک ہفتے بعد 20 دسمبر کو انہیں شہر میں ہونے والے خونریز مظاہروں کا سرغنہ بنا کر قریبی تھانے کے ایک کمرے میں لے جایا گیا، جہاں ایک درجن سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے ان کو مارا پیٹا اور بار بار تشدد کیا۔ انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے دیپک کبیر نے بتایا کہ ہو سکتا ہے ایک مخصوص لمحہ ہو جب شہریت بل مخالف مظاہروں نے باقی بھارت کے مقابلے میں اتر پردیش میں ایک دم سے زیادہ شدت اختیار کی ہو۔

انہوں نے کہا: ’اس ریاست میں 19 دسمبر کا دن ہمارے لیے بہت اہم ہے خاص کر لکھنؤ شہر کے لیے کیونکہ اس دن ہم ان تین انقلابیوں کی برسی مناتے ہیں، جنہیں 1927 میں قابض انگریز حکومت نے پھانسی پر چڑھایا تھا۔ مقامی طور پر یہ دن ’یومِ شہدا‘ کہلاتا ہے۔ اس دن کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی کو روکنے کے لیے یہاں کے اداروں نے نو آبادیاتی طرز کی دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا، جس کے مطابق امن و امان متاثر ہونے کے ڈر سے چار یا چار سے زیادہ لوگ ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

کبیر نےبتایا: ’لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہمارا خیال تھا کہ اس صورت حال میں دو سے تین ہزار کے قریب لوگ مشکل سے اکٹھے ہوں گے لیکن اس دن پانچ سے چھ لاکھ لوگ آگئے جن میں بچے، بڑے، بوڑھے، جوان، ہندو، مسلمان، مرد، خواتین سب شامل تھیں۔‘

یہاں ایسے کوئی ذرائع نہیں ہیں کہ کبیر کی بتائی ہوئی تعداد کی تصدیق ہوسکے لیکن بعد میں پولیس نے تصدیق کردی کہ پورے صوبے میں پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کے شبہ میں 1113 لوگوں کو گرفتار کیا گیا جس سے یہاں ہونے والے ہنگاموں کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اب تک ہونے والی شہریت مخالف جھڑپوں میں اترپردیش سب سے زیادہ متاثر رہا، جہاں سی اے اے بل پاس ہونے کے ایک ماہ کے بعد کے عرصے میں پوری ریاست میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے۔

کبیر نے کہا: ’نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام لوگوں کا اتر پردیش کی انتظامیہ پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ لوگ روزانہ احتجاج کرنے جمع ہو جاتے ہیں۔ ہم لوگ سی اے اے کے خلاف ہیں، بے شک ہمارے آئین میں امتیازی سلوک کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر علاقوں میں 19 دسمبر کا احتجاج پر امن رہا اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے رابطوں کا فقدان رہا۔ اس لیے انہوں نے پہلے کچھ بکھری ہوئی ٹولیوں سے خطاب کیا اور پھر اپنی بیوی کے ساتھ گھر چلے گئے، جس کے بعد مختلف علاقوں میں پولیس کے ساتھ خونریز جھڑپیں شروع ہوگئیں، جن میں احتجاج کرنے والا ایک مسلمان مارا گیا۔ 

پھر رات گئے ایک صحافی نے کبیر کو بتایا کہ دوپہر سے غائب ہونے والے ان کے دو دوست پولیس کی حراست میں ہیں۔ اگلی صبح کبیر اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے حضرت گنج پولیس سٹیشن چلے گئے۔ ان کے دونوں دوست وہاں موجود تھیں۔ کبیر کہتے ہیں کہ اُس وقت انہوں نے وہاں ایک سینیئر پولیس اہلکار سے بات کروانے کے لیے کہا اور اپنے دوستوں کے بارے میں ان کے رشتہ داروں کو فون ملانا شروع کیا کہ ایک سپاہی نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔

’پہلے مجھے لگا کہ شاید اس نے میرا ہاتھ غلط فہمی میں پکڑا۔ پھر تھانے کے ایس ایچ او بھی آگئے، میں نے پھر سے سوچا کہ میں انہیں قائل کرلوں گا کہ یہ سب غلط فہمی میں ہو رہا ہے۔‘کبیر کہتے ہیں کہ الٹا ایس ایچ او نے ان کا فون زمین پر دے مارا اور کہا کہ انہوں نے ایک ویڈیو میں 16 دسمبر کو ہونے والے ایک اور احتجاج میں کبیر کو دیکھا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس سب کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔ 

’ایس ایچ او نے ایک درجن سے زیادہ سپاہیوں کو بلایا جو مجھے ایک کمرے میں لے گئے۔ انہوں ںے میرے ہاتھ نیچے کرکے پکڑ لیے اور مجھے مارنا شروع کیا۔ وہ مجھے 15 منٹ تک بری طرح مارتے رہے۔‘

پہلے تشدد کے بعد دو پولیس والے انہیں میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لے گئے، جس کو کبیر ایک رسمی کارروائی کہتے ہیں پھر وہ کبیر کو واپس تھانے لے گئے، جہاں اب ایک ضلعی سطح کا سینیئر پولیس اہلکار پہنچ چکا تھا۔ ’اس نے وہاں ان سب کو برا بلا کہنا شروع کیا جن کو میں جانتا تھا۔ اس نے مجھے میرے لمبے بالوں سے پکڑ کر کہا، اس سے لگتا ہے کہ تم کمیونسٹ ہو، ایک شہری نکسل (ماؤ زے تنگ یا لینن کے سپورٹر کیمونسٹ) ہو۔ پھر وہ ایس ایچ او سے کہنے لگا اب دوسرے مرحلے کا اغاز ہوگا۔‘

کبیر کہتے ہیں کہ ’اسی لمحے ان لوگوں نے میری پتلون اتارنی شروع کی، جس پر میں ان کی منتیں کرنے لگا کہ مجھے جتنا مارنا ہے مار لو لیکن میرے ساتھ ایسے نہ کرو۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’پولیس افسر نے سپاہیوں سے کہا کہ اسے اتنا مارو کہ اس کی جلد دو انچ تک موٹی ہو جائے تاکہ یہ تین مہینے تک بیٹھ بھی نہ سکے۔ دو بندوں نے میرے ہاتھ پکڑ کر مارنے سے شروعات کی اور پھر مجھے زمین پر لٹا کر مارا۔ میں نے کوشش کی کہ اپنی انکھیں اور منہ بند کرکے پرسکون رہوں، میں نے ان سے تشدد نہ کرنے کی منت بھی نہیں کی۔‘

اُس کے بعد کبیر کو جیل لے جایا گیا، جہاں ان پر 20 الزامات لگائے گئے، جن میں کچھ سنگین جرائم کے الزامات بھی شامل تھے، جیسے کہ اقدامِ قتل، املاک کو نقصان پہنچانے، دھماکہ خیز مواد رکھنے کا الزام اور مجرمانہ سازش کی دفعہ 120 بی۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کبیر ان خونریز مظاہروں کے منتظمین میں سے ایک ہے۔ 21 دن کے بعد کبیر کو ضمانت پر رہائی ملی۔   

کبیر ان الزامات کے حوالے سے پرسکون تھے، اس اعتماد کے ساتھ کہ ان کے خلاف کسی ثبوت کے نہ ہونے کی وجہ سے عدالت انہیں بری کر دے گی، لیکن پھر بھی بھارت کے سست رفتار عدالتی نظام کی بدولت یہ الزامات سالوں تک قائم رہیں گے۔ کبیر کے خیال میں: ’حالیہ احتجاج مودی انتظامیہ کے خلاف ایک فیصلہ کن موڑ کی مانند ہے، کیونکہ کشمیر کی خودمختار حثیت کا خاتمہ اور بابری مسجد والے معاملات کو مسلمانوں کے زیر اثر دیکھا گیا، جبکہ سی اے اے بھارت کے بنیادی نظریے میں ایک داغ کی مانند ہے۔‘

’نہ صرف مسلمان بلکہ تمام لوگوں کا اتر پردیش کی انتظامیہ پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ایک لحاظ سے اچھا ہوا کہ مجھے گرفتار کیا گیا، میں ایک ہندو نام کے ساتھ یہاں کا مقبول سماجی کارکن ہوں اور کوئی بھی نہیں مانے گا کہ میں ایک فسادی ہوں۔ میرا یقین ہے کہ یہ احتجاج جاری رہے گا۔ لوگ روزانہ احتجاج کرنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور جس دن ہم سڑکوں پر نہیں ہوتے، اس دن انٹرنیٹ کے ذریع اپنا احتجاج جاری رکھتے ہیں۔ ہم لوگ سی اے اے کے خلاف ہیں،بے شک ہمارے آئین میں امتیازی سلوک کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

خواتین

 شاہین باغ کا دھرنا ایک تہوار کی مانند لگ رہا ہے، جہاں جنوبی دہلی کا محنت کش طبقہ سی اے اے مخالف تحریک کا حصہ بن کر اکھٹا ہونے لگا ہے۔ کوئی 500 مصمم ارادے والی مسلمان خواتین کی سربراہی میں ہزاروں لوگوں نے ایک کلومیٹر تک تین رویہ ہائی وے پر ڈیرہ جمایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تب تک نہیں جائیں گے جب تک حکومت شہریت کے قانون کو واپس نہ لے یا اس میں ترمیم نہ کرے۔

دھرنا دینے والوں اور پولیس کے درمیان مختلف قسم کی رکاوٹیں موجود ہیں، جبکہ تحریک کے رضا کار دھرنے کی جگہ پر خود سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ٹھیلے والے سنیکس اور مشروبات فروخت کر رہے ہیں جبکہ شام کے وقت لوگوں کا ایک بڑا ہجوم تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا دھرنے کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ پچھلی جمعرات کو لوگوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ شاہین باغ والوں نے پوری قوم کے ساتھ مہاتما گاندھی کی برسی منائی، جب اسی دن 30 جنوری 1948 کو شام پانچ بجکر 17 منٹ پر انہیں قتل کیا گیا تھا۔ بابائے قوم، جن کی تحریک عدم تشدد نے بھارت کو آزادی دلائی، ان خواتین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں، جہاں لوگ قطار در قطار گاندھی جی کی صورت والے کاغذی ماسک پہن کر بھوک ہڑتال کی حال میں کھڑے ہیں۔ سٹیج پر کچھ فنکار گاندھی جی کے قتل ہونے کا منظر پیش کر رہے ہیں، جہاں ایک اداکار ناتھورام گوڈسے (گاندھی جی کا قاتل) کی طرح اپنی نقلی بندوق کے ساتھ کھڑے ہوکر دیوانہ وار ہنس رہا ہے۔

مہرونی شاہ خاتون جن کی عمر 50 کے لگ بھگ ہے، ایک فوم پر آرام کر رہی ہیں اور پچھلے 30 دن کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور بھی لگ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ  اگر گاندھی جی آج زندہ ہوتے تو سیکولر بھارت میں آج جیسا بحران کبھی نہ ہوتا۔ 

’گاندھی ایک اچھے انسان تھے۔ انہوں نے ہمیں انگریزوں سے آزادی دلائی، لیکن اب ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنے لوگوں سے لڑنا ہوگا۔ ان سے جن کو ہم نے اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے۔‘

شاہین باغ میں سینکڑوں خواتین نئے شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج کرنے اکٹھی ہو گئی ہیں۔ تھکاوٹ کے باوجود لوگوں کا جذبہ عروج پر ہے۔ مہرونی شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ کم از کم مودی جی نے انہیں یہاں بیٹھنے کی اجازت تو دی ہے۔

یہاں خواتین میں سے اکثر مائیں اور دادیاں ہیں اور بہت سارے بچے دھرنے کی جگہ پر ترپالوں کے نیچے اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ رہے ہیں، جبکہ کاغذ سے بنے گاندھی جی کے بڑے بڑے ماسک ان کے چہروں سے سرک رہے ہیں۔ بعد میں ان بچوں کے لیے سٹیج سے خاکے پیش کیے جائیں گے، جہاں ایک بچہ گاندھی جی کے لباس میں اپنے فن کا مظاہرہ کرے گا اور روایتی موسیقی بھی بجائی جائے گی۔

مہرونی شاہ کہتی ہیں کہ وہ کالے قوانین کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان جیسے اور قوانین کے خلاف بھی جو ابھی آنے ہیں، جن سے عام تاثر یہی جا رہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت اپنے وژن کے مطابق بھارت کے ہندوؤں کے لیے مزید ایسے قوانین لائے گی۔

’یہ ہمارے بچوں کا مستقبل، ان کی تعلیم اور  شہریت کے حقوق چھین رہے ہیں۔ ہم یہاں بیٹھے ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ کل ہمارے بچے اپنے ہی ملک میں مہاجر بنیں، ہم یہ لڑائی جاری رکھیں گے۔‘

دھرنے میں موجود کچھ لوگ زندگی میں پہلی بار احتجاج کرنے نکلے ہیں اور انہیں پہلے کبھی بھی اس قسم کی بھوک ہڑتال کا سامنا نہیں رہا، بے شک یہ پچھلے 50 دن سے جاری کیوں نہ ہو۔ ان میں سے اکثر 12 سے 14 گھنٹے بھوک ہڑتال پر ہوتے ہیں اور پھر سونے سے پہلے صرف ایک وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ 47 سالہ شاہین بی بی نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ انہوں نے پہلی بار ان مظاہروں میں تب شرکت کرنے کا فیصلہ کیا جب 15 دسمبر کو پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی (جے ایم آئی) کے طلبہ پر آنسو گیس کا استعمال اور لاٹھی چارج کیا تھا۔

’پہلے بھی احتجاج ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم نے کبھی بھی اس قسم کا بد ترین تشدد نہیں دیکھا۔ یہ محض لاٹھی چارج نہیں تھا بلکہ پولیس نے لوگوں پر گولیاں چلائی، لڑکیوں کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور لائبریری میں گھس کر بچوں، خواتین اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا۔‘

’ہمارے بچے اب سمجھدار ہوگئے ہیں۔ وہ یہ سب دیکھ رہے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے جو کہ ہمارے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے یہ طلبہ احتجاج کرنے نکلے ہیں، لیکن بدلے میں ان پر تشدد ہو رہا ہے، اس لیے اب ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ یہ ہمارا مستقبل ہے۔ یہ ہمارے لیے کھڑے ہوئے تھے اور اب ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

شاہین باغ کا احتجاج شروع کرنے والی تین، چار خواتین میں سے ایک 37 سالہ شفینہ اجمل بھی ہیں، جو جے ایم آئی میں تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ ان متاثرین میں سے ہیں جب پولیس دسمبر کے مہینے میں تشدد کرنے کیمپس کے اندر داخل ہوئی تھی۔ ’اس وقت جب پولیس لائبریری میں گھس گئی تو ہم مسجد میں چھپ گئے، لیکن وہ مسجد میں بھی آگئے اور ہمیں مارنا شروع کیا۔ وہ چلا رہے تھے، گالیاں بھی دے رہے تھے۔ میری دونوں ٹانگیں ایک پولیس آفیسر کی لاٹھیاں مارنے سے زخمی ہو گئی تھیں۔‘

’یہ وہ پہلا قدم تھا جب ہم اس احتجاج میں آگئے کیونکہ اب ہم اس کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔ پہلے ہم چار خواتین احتجاج کرنے آئی تھیں۔ بعد میں مزید خواتین بھی آگئیں اور اب آپ دیکھیں کہ کتنا بڑا ہجوم جمع ہے یہاں۔‘

شفینہ اجمل کہتی ہیں کہ میڈیا مسلمانوں کو ایک ناقابلِ برداشت قوم کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن ہم نے سب کچھ برداشت کیا، تب تک جب سی اے اے کا قانون آگیا جس سے ان کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔ اس قانون نے نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پورے بھارت کو اشتعال دلایا۔ ہم ان میں سے ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جنہوں نے اس قانون کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے۔‘

بچے

سی اے  اے قانون پاس ہونے کے بعد سب سے شرمناک واقعہ اس وقت رونما ہوا جب 20 دسمبر کو اتر پردیش کے ضلع مظفرنگر میں سینکڑوں مسلمان مردوں اور بچوں کو پولیس نے حراست میں رکھا۔ میڈیا نے بھی زیر حراست لوگوں پر تشدد کے کئی واقعات رپورٹ کیے ہیں۔ اس قسم کے واقعات، جن کا ذکر کارکن کبیر نے بھی کیا تھا، شاید نہ ہو پاتے اگرایک دن پہلے بی جے پی کے لاڈلے، جنگجو ہندو راہب اور اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ اس معاملے پر بیان بازی نہ کرتے۔

سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے بارے میں یوگی نے صحافیوں کو بتایا: ’ہم نے ویڈیو کے ذریعے مظاہرین کی نشاندہی کی ہے اور ہم ان سے اپنا بدلہ لیں گے۔‘

غیر سرکاری تنظیم کاروانِ محبت کے مطابق محمود نگر کا 14 سالہ سلیم اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ مظفر نگر میں دن تین بجے انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ جمعے کی نماز سے واپس گھر جا رہے تھے اور پھر انہیں بغیر کسی الزام کے چار دن تک حراست میں رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں افراتفری کے مناظر تھے اور اس کا بھائی بھی لاپتہ ہوگیا تھا۔

’جیسے ہی میں اپنے بھائی کے تلاش میں گھر سے نکلا تو چاروں طرف سے پولیس آگئی، مجھے پکڑلیا اور بری طرح ڈنڈوں سے مارا پیٹا۔‘

سلیم کہتے ہیں کہ انہوں نے پولیس والوں کو بتایا کہ وہ چھوٹے ہیں، اس لیے انہیں ان کے والدین کو بلانا چاہیے، لیکن پولیس والوں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا اور ان سے قسمیں اٹھواتے رہے۔ سلیم نے اپنے ہاتھ کے زخم دکھاتے ہوئے کہا کہ پھر انہوں نے گلی میں جلنے والی آگ سے لوہے کی ایک راڈ اٹھائی۔ ’انہوں نے وہ راڈ میرے ہاتھ پر رکھی۔ وہ مجھے مارتے جا رہے تھے اور اس کوشش میں تھے کہ مجھے آگ میں پھینک دیں۔ پھر ان میں سے دو پولیس والوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے بچایا کہ اسے آگ میں مت پھینکو بلکہ گاڑی میں ڈالو۔‘

سلیم کہتے ہیں کہ پولیس حراست میں لے جاتے وقت وہ روئے۔ انہیں امید تھی کہ وہاں بنیادی کارروائی ختم ہونے کے بعد وہ اپنے والدین کو اطلاع دے پائیں گے۔ ’انہون نے مجھے کئی بار مارا پیٹا، ایک بار تو ڈیڑھ گھنٹے تک مارتے رہے۔ وہ مجھ سے 100 لوگوں کے نام مانگ رہے تھے جو مظاہروں کی جگہ موجود تھے لیکن میں نے انہیں بتایا کہ میں وہاں کسی کو نہیں جانتا۔‘

 سلیم کہتے ہیں کہ وہ مار پیٹ کے ساتھ ساتھ گالیاں بھی دے رہے تھے، جس سے پولیس تشدد میں اسلام فوبیا فطرت نمایاں ہو رہی تھی۔ ’جیسے جیسے وہ ہمیں مارتے رہے ساتھ ساتھ ہمیں یہ نعرہ لگانے کو کہتے کہ ’بولو جے شری رام‘، وہ گالیاں دیتے رہے اور پوچھتے رہے، ’کیا تمہارا اللہ تمہیں بچانے آئےگا؟ چلو دیکھتے ہیں۔‘

سلیم کی گواہی کو پچھلے ماہ اتر پردیش میں ریاستی ایکشن پر پیپلز ٹریبونل کی کارروائی کا حصہ بنا دیا گیا۔ یہ ایک دن کی عدالتی کارروائی تھی تاکہ شہریت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والے پولیس تشدد کی تحقیقات کی جاسکیں۔ وزیر اعظم کے حلقے ورانسی سے تعلق رکھنے والے ایک گواہ نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس کی لاٹھی چارج کی وجہ سے ایک آٹھ سالہ بچے کی موت واقع ہوئی۔ ایسا ہی ایک واقعہ 20 دسمبر کو بھی پیش آیا جب باجردیا ضلع میں مظاہرین سی اے اے کی مخالفت میں اکٹھے ہو گئے تھے۔

گواہ کا کہنا تھا کہ ’پولیس نے لاٹھی چارج کے دوران ان کے سر اور جسم کے اوپر والے حصوں کو نشانہ بنایا اور مظاہرین پر پتھراؤ بھی کیا۔ یہ قومی، بین الاقوامی قوانین اور پولیس ہدایات کے خلاف ہے، کیونکہ پولیس طاقت کا استعمال آخری آپشن کے طور پر کرتی ہے لیکن باجردیا کے علاقے میں طاقت کو دوسرے آپشن کے طور پر استعمال کیا گیا۔ انہون نے ہمیں بتایا کہ احتجاج بند کرو اور جب ہم نے انکار کیا تو انہون نے بد ترین چڑھائی شروع کر دی۔ وہاں راستے بہت تنگ تھے اور لوگ افراتفری کے عالم میں ایک کھلی جگہ کی طرف بھاگنے لگے جہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ اس بھگدڑ کی وجہ سے آٹھ سالہ محمد صغیر کی موت واقع ہوئی جو اپنے گھر کے سامنے اپنی سائیکل کے ساتھ کھیل رہے تھے۔

کاروانِ محبت این جی او کے ایک منتظم سرور مندر نے جیوری کو بتایا کہ پولیس کی پہلی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ ایسی صورت حال میں بچوں کی نشاندہی کرکے ان کی حفاظت یقینی بنائے۔ لیکن اتر پردیش سے ملنے والے تمام ثبوتوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جہاں کسی چھوٹے بچے کو گرفتاری کے بعد کسی مخصوص ریاستی جوینائل (نوعمر) پولیس یونٹ کے حوالے کیا گیا ہو یا بچوں کے لیے مختص کسی تنظیم کے حوالے کیا گیا ہو۔ ’ہر بار بچوں کو بڑوں کے ساتھ ڈالا گیا یا تھانے کے اندر رکھا گیا اور کچھ واقعات میں 24 گھنٹے سے زیادہ حوالات کے اندر رکھا گیا۔ اکثر بچوں کو بغیر کوئی الزام لگائے چھوڑ دیا گیا، جبکہ ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان بچوں کی گرفتاری کے بعد ان کے ٹھکانوں کے بارے میں والدین سے سب کچھ چھپائے رکھا، لیکن ان میں اہم پہلو پولیس کی طرف سے بچوں پر بد ترین تشدد ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے ہر علاقے میں حراست کے دوران اور بعد میں ان بچوں کو زبانی، جسمانی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔‘

پیپلز ٹریبونل کی جیوری میں سپریم کورٹ کے دو سابق جج، ماہرِ تعلیم، خیراتی اداروں کے سربراہ اور سابق سرکاری ملازمین شامل تھے۔ سات گھنٹے کی سماعت کے بعد ان ارکان پر مشتمل پینل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا: ’ہم اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ ریاستی مشینری نے اوپر سے نیچے تک سنگین تعصب کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک خاص برادری پر تشدد کرنے کی مرتکب ہوئی ہے، یعنی مسلمان آبادی پر اور وہ سماجی کارکن جو اس تحریک کی سربراہی کر رہی تھیں۔‘

آخر میں پینل نے کہا کہ ’مظاہروں کے ردعمل میں پولیس کا کردار اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی کی مکمل ناکامی تھی اور ریاستی مشینری جس کا کام قانون کی حکمرانی بحال رکھنا ہوتا ہے، خود ہی اپنے لوگوں پر تشدد کرنے کی مرتب ہوئی ہے۔‘

تاریخ دان اور سیکولرزم کے سرکردہ محافظ پروفیسر عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ ’ان سمیت جیوری کے باقی ارکان فراہم کردہ ثبوتوں سے کافی متاثر ہوئے۔ جو کچھ سی اے اے قانون کے تناظر میں سامنے آیا ہے اس نے  ہمارے آئین کا تمسخر اُڑایا ہے اور اس نے نہ صرف برطانوی راج کی بلکہ نازی جرمنی کی بھی یاد دلائی۔ یہ صرف اتر پردیش کی نہیں بلکہ پوری قوم کی لڑائی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا