’نئے پاکستان میں رشوت کا خاتمہ چاہتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا‘

ملک کے سینیئر افسر ایمان دار ہیں لیکن نچلی سطح پر کافی مسائل ہیں جن کے حل تک مجھے شکایات رہیں گی، محمد سرور کی انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ صوبے میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ مسلم لیگ ق کے چوہدری برادران ہمارے پاس نہیں آئے تھے بلکہ ہم ان کے پاس گئے تھے۔

’وہ ہمارے اتحادی ہیں اور اتحادیوں کی بات سننا،  ان کے مشورے پر عمل کرنا کسی بھی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں گڈ گورننس، مہنگائی، لوکل گورنمنٹ، بلدیات اور اداروں کو مضبوط کرنے کی باتیں ہوئیں۔

گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ جو مسائل پیدا ہوئے  اس کی بڑی وجہ آپس میں بات چیت کی کمی اور کچھ غلط فہمیاں تھیں۔

’ان (چوہدری برادران) کا خیال تھا کہ نئی کمیٹی اس وجہ سے بنی کہ ہم پچھلی طے شدہ باتوں پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے ان کی یہ غلط فہمی دور کر دی ہے۔‘

گورنر پنجاب نے ملک کے خراب معاشی حالات کے بارے میں کہا: ’ ہمارا سب سے بڑا چیلنج امپورٹ اور ایکسپورٹ کا زیادہ تجارتی خسارہ اور موجودہ اکاؤنٹ ڈیفسٹ 19 بلین ڈالرز سالانہ تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے چھ مہینوں میں کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفسٹ کو 75 فیصد کم کر دینا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایک ملک سے اگر20 ارب ڈالرز باہر چلے جائیں گے تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟

’لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ہم دیوالیہ ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہے۔ بین الاقوامی ادارے کہہ رہے ہیں کہ ہم مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہماری معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔‘

تاہم انہوں نے مہنگائی کی وجہ سے عوام کی پریشانی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ’ہم نے ٹریڈ ڈیفسٹ یا کرنٹ اکاؤنٹ ڈیفسٹ کم کیا ہے، ظاہر ہے اس کی قیمت عوام نے ہی ادا کی ۔

’عوام بجا طور پر پریشان ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ایک بات بڑی واضع کی ہے کہ ان کی پوری توجہ مہنگائی کے خاتمے اور گڈ گورننس پر ہے۔

’ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑے ہیں۔ ہمارے پاس دو راستے تھے ایک یہ کہ ہم مشکل فیصلے کرتے  اور اپنی شہرت اور پارٹی کے مفاد کو ملک کے مفاد سے زیادہ عزیز رکھتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔‘

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبے کے وزرا کی کارکردگی کے حوالے سے چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عثمان بزدار پر اعتبار کرتے ہیں انہیں پنجاب اسمبلی کے ارکان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

’جب تک عثمان بزدار کو ارکان صوبائی اسمبلی اور وزیر اعظم کا اعتماد حاصل ہے وہ اپنے عہدے پر رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا وزرا کی کارکردگی پر نظر رکھنا وزیر اعلیٰ کا کام ہے اور وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کا چیک اینڈ بیلنس صوبائی اسمبلی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے پاس بھی ہے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ مشکلات ہیں۔ صوبہ بڑا ہے، چیلنجز بہت زیادہ ہیں ان حالات میں وزیر اعلیٰ اور وزرا  پوری محنت کر رہے ہیں۔‘

بچوں سے زیادتی کے بعد ان کو قتل کر دینے والوں کی سرعام پھانسی کے حوالے سے گورنر پنجاب نے کہا کہ مجرم کو سزا کیسے ملنی چاہیے یہ طے کرنا قومی اسمبلی کا کام ہے، لیکن ہم دنیا میں رہ رہے ہیں اور جو کچھ بھی پاکستان میں ہوتا ہے اس کے اثرات پوری دنیا میں دیکھے جاتے ہیں۔

’جب میں جی ایس پی پلس کے لیے مہم چلا رہا تھا تو پھانسی پر ان کا بہت بڑا اختلاف تھا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ آپ پاکستان کا موازنہ دوسرے ملکوں کے ساتھ نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں جو دہشت گرد یا جرائم پیشہ لوگ ہیں وہ جیلوں کے اندر  بیٹھ کر بادشاہی کرتے ہیں۔ ہماری مجبوریاں ہیں۔ ایک طرف آپ کہتے ہیں دہشت گردی کا خاتمہ کرو، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ پھانسی کی سزا ختم کر دو۔

’بین الاقوامی کمیٹی ہمارے مسائل سمجھتی ہے لیکن اگر ہم سرعام پھانسی دیں گے تو پاکستان کے خلاف ردعمل آ سکتا ہے۔‘

گورنر پنجاب کو بیوروکریسی سے کچھ شکایات تھیں کہ وہ ان کی بات نہیں سنتی تو کیا ان شکایات کا ازالہ ہوا؟

اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے بیوروکریسی کی بات کی تھی تو ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ساری بیوروکریسی غلط ہے۔

 

’ہم خدا کے بڑے شکر گزار ہیں کہ پاکستان میں کرپشن عروج پر ہونے کے باوجود ہمارے سینیئر افسر چاہے ان کا تعلق ڈی ایم جی سے ہو، پولیس یا دوسرے اداروں سے، زیادہ تر ایمان دار ہیں۔ لیکن ہم نئے پاکستان میں جس طرح نچلی سطح پر رشوت کا خاتمہ دیکھنا چاہتے تھے وہ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ہمیں شکایت ہے اور رہے گی جب تک نچلی سطح پر ہم گڈ گورننس نہیں لے کر آتے۔‘

انہوں نے وزرا کی جانب سے بیوروکریٹس پر اپنے کاموں کے لیے دباؤ ڈالنے کے سوال پر کہا وزرا کے دفتروں سے فون برطانیہ میں بھی جاتے ہیں۔

’میں نے وہاں پر سیاست کی ہے وہاں پر لوگ آتے تھے۔ اگر کوئی بھی سائل آپ کے پاس آتا ہے تو منتخب نمائندہ آپ کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ صحیح ہیں یا آپ غلط یا میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔

’صحیح اور غلط کا فیصلہ متعلقہ افسران نے ہی کرنا ہے۔ انہوں نے ہی طے کرنا ہے کہ ہماری سفارش جائز ہے یا ناجائز، لیکن ہم بیوروکریسی سے امید کرتے ہیں کہ جب ہمارے لوگ یا وزرا ان کے پاس جائیں تو وہ ان سے ملیں اور ان کے مسئلے کو سنیں اور اگر وہ کام میرٹ پر نہ ہو تو آرام سے منع کر دیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کچھ مسائل مثلاً صاف پانی اور انصاف کی فراہم وغیرہ کی وجہ سے ن لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آئے تھے۔

مریم نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا ہمارے ملک میں عدالتیں موجود ہیں اور وہ جو فیصلہ سنائیں گی ہماری حکومت انہیں تسلیم کرے گی۔

ہمارے ملک میں ایک سسٹم ہے اور جو بھی ہماری عدالتیں فیصلہ دیتیں ہیں ہماری حکومت ہمیشہ اس کی عزت لڑتی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مسئلہ کشمیر پر بہت بڑی غلطی کی ہے۔

’پہلے ہم شکایت کرتے تھے کہ دنیا ہماری بات نہیں سنتی تھی، بین الاقوامی میڈیا ہماری کاز کو پراجیکٹ نہیں کرتا اور اب بھارت شکایت کر رہا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا ان کے خلا ف ہے۔‘

چوہدری محمد سرور برطانیہ سے پاکستان آئے اور سیاست میں حصہ لیا، دونوں ملکوں میں جمہوریت کی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جمہوریت صدیوں پرانی ہے۔ وہ اقدار اور تجربہ حاصل کر کے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچے ہیں کہ اب وہاں پر احتساب، شفافیت اور گڈ گورننس ہے۔

’ان کے ادارے افراد سے زیادہ مضبوط ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ میں فرق یہ ہے کہ یہاں لوگ انفرادی حیثیت میں اداروں سے زیادہ مضبوط ہیں۔

’اس لیے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اداروں کو شفاف اور غیر سیاسی بنائیں اور پھر ان پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا یقینی طور پر سیاست دانوں اور حکومت کا کام ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست