مدیحہ قتل کیس: ’کوئی تو روکے ان درندوں کو‘

ہنگو کے نواحی گاؤں میں ہفتے کو لا پتہ ہونے والی آٹھ سالہ مدیحہ کی لاش گاؤں کی قریبی جھاڑیوں سے ملی جس پر سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جنوری 2018 میں بچوں پر جنسی تشدد  اور ریپ کے خلاف    ہونے والے مظاہرے میں شریک لوگ (اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے نواحی گاؤں میں ہفتے کو لاپتہ ہونے والی آٹھ سالہ مدیحہ کی لاش گاؤں کی قریبی جھاڑیوں سے ملی جس پر سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ہنگو کے ضلعی پولیس آفسر (ڈی پی او) شاہد خان کے مطابق مدیحہ گھر سے اپنے لیے کچھ  کھانے کی چیز خریدنے نکلی تھی اور پھر لاپتہ ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کو رات گئے تک ان کے رشتہ دار اور گاؤں کے لوگ بچی کو تلاش کرتے رہے لیکن صبح تک کچھ پتہ نہیں چلا۔

انہوں نے مزید بتایا: ’صبح فجر کی نماز کے لیے جب گاؤں کے لوگ جا رہے تھے تو بچی کی لاش ایک قریبی جھاڑی سے ملی، جسے تشدد کرکے قتل کیا گیا تھا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ابتدائی طبی رپورٹ میں بچی سے ریپ کی تصدیق ہو گئی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنی باقی ہے اور اس سے پہلے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

شاہد خان نے بتایا کہ بچی کے کولہے پر ایک گولی لگی ہے جبکہ پولیس کی نو رکنی تفتیشی ٹیم اس سارے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’ہم نے گاؤں سے کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے اور بہت جلد مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ بچی کو ہر صورت میں انصاف مل کر رہے گا۔‘

ٹوئٹر پر ’جسٹس فار مدیحہ‘ کے نام سے ہیش ٹیگ بھی چل رہا ہے جس پر واقعے پر اظہار افسوس کے ساتھ ساتھ بچی کو انصاف دلانے کے لیے لوگ آپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

صحافی فرح اقرار نے ٹوئٹر پر لکھا: ’کہاں ہیں وہ سب جو کہتے ہیں کہ سر عام پھانسی انسانیت کے خلاف ہے؟ اس بچی کا چہرہ دیکھ کر تو جی کرتا ہے کہ خود مجرموں کو پھانسی پر لٹکا دوں۔‘

ایک ٹوئٹر صارف ثنا رسیم نے لکھا: ’اس ملک میں انصاف مانگنے والے غیرت مند لیکن بے بس اور انصاف دنے والے طاقت ور لیکن بزدل ہیں۔‘

بلاگر تحریم عظیم نے لکھا: ’ایک دوسری بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا لیکن یہ کیسز ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ بچوں کے تحفظ کے لیے ایک ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا۔ سرعام پھانسی سے کچھ نہیں ہوگا۔‘

الطاف بزدار نامی ٹوئٹر صارف نے بچی کی قبر کی تصویر پوسٹ کرکے لکھا: ’کوئی تو روکے ان درندوں کو جو ہم زندوں کو جینے نہیں دیتے۔‘

حال ہی میں قومی اسمبلی میں بچوں کا ریپ کرنے والے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد پاس ہونے کے حوالے سے ایک ٹرینڈ ’ریپسٹ کے خلاف قانون کہاں ہے‘ #Whereisrapistlaw بھی چل رہا ہے جس میں مدیحہ سمیت ریپ کی شکار بچیوں کے تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں اور ان واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف طلعت نے لکھا: ’زینب، فرشتہ، جنت اور اب مدیحہ اور پتہ نہیں اور کتنے واقعات ہوں گے۔ مجھے اس عدالتی نظام سے نفرت ہے اگر وہ اس واقعات کو نہیں روک سکتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ