گیارہ برس کے بعد دوبارہ اداکاری شروع کر رہا ہوں: ایاز نائیک

ماضی کے معروف اور ہر دلعزیز اداکار ایاز نائیک کی انڈپینڈینٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو

ایاز نائیک نے  آخری بار 2009 میں ٹی وی کا پراجیکٹ کیا تھا ( یوٹیوب سکرین گریب)

ماضی کے معروف اداکار ایاز نائیک کو ٹی وی سکرین پر نظر آئے دس سے زائد سال ہو گئے ہیں، تاہم اس سال وہ پھر سے اداکاری کی طرف آنے کا ارداہ رکھتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں  ان کا کہنا تھا کہ وہ آخری بار 2009 میں ٹی وی کا پراجیکٹ کیا تھا لیکن اب وہ دوبارہ اداکاری کی طرف آرہے ہیں۔

ایاز نائیک کے مطابق وہ  کام کی غرض سے کئی برس کراچی  رہے لیکن ایک سال قبل اسلام آباد واپس آگئے، مگر اگر کام کے سلسلے میں دوبارہ کراچی جانا پڑا تو یقیناً جائیں گے کیونکہ 99فیصد کام وہیں ہورہا ہے۔

ایاز نائیک نے چار سال کی عمر میں پہلا ڈرامہ بطور چائلڈ سٹار کیا۔’ میرے والد  ٹی وی پر کام کرتے تھے لہذا ان کی جان پہچان ہونے کی وجہ سے مجھے بھی کام مل گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ان کے والد کے ساتھ ٹی سٹیشن میں بہت آنا جانا تھا تو  سکول کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ٹی وی کے ڈراموں میں بھی اداکاری کا سفر جا ری رکھا۔

ایاز نائیک کالج  کے فرسٹ ایئر میں تھے جب انہوں نے اپنی پہلی فلم ’ نہیں ابھی نہیں ‘ کی جس کو  شائقین کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی۔’مجھے بابرہ شریف ،کویتا اور فیصل رحمان جیسے اداکاروں کےساتھ کام کرنے کا موقع ملا  اور زار شہرت بھی بن گئی۔‘

ان کے مطابق انہوں نے گیارہ یا بارہ فلموں میں کام کیا اور اب میں سے ایک کے علاوہ تمام کی تمام فلمیں سپر ہٹ رہیں۔ ’ میں نے کم ہی عرصے میں لوگوں کا بہت پیار سمیٹا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں پنجابی فلمیں بھی بہت زیادہ بن رہی تھیں تو انہوں نے بھی ایک فلم ’عشق نچاوے گلی گلی‘ میں کام کیا جو  سینیما کامیاب رہیں، تاہم اس کے بعد انہوں نے اور پنجابی فلمیں نہیں کیں۔

انہوں نے کہا: ’مجھے ان لوگوں سے شدید اختلاف ہے جو یہ کہتے ہیں کہ گنڈاسہ کلچر نے فلمی صنعت کو تباہ کیا۔ بھئی لوگ دیکھنا ہی پنجابی فلمیں چاہتے تھے۔ سلطان راہی عوام کے پسندیدہ فنکار تھے، جب شائقین نے ان کی فلموں کو سراہا تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ گنڈاسہ کلچرنے فلمی صنعت کو تباہ کیا؟‘

ایاز نائیک کا ماننا ہے کہ فلمی صنعت کو تباہ بھارتی فلموں نے کیا۔ ’جو بھارتی فلمیں  پاکستان میں آ رہی تھیں وہ معیار میں یقیناً ہم سے بہتر تھیں۔ تو ایک وقت آیا کہ  لوگوں نے اپنی فلموں کی بجائے بھارتی فلموں کو دیکھنا زیادہ پسند کیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ  ’پاکستان میں فلمیں بنانے کے  لیے جن آلات کا استعمال کیا جا رہا تھا وہ تیس چالیس سال پرانے تھے اور حکومت بھی تعاون نہیں کر رہی تھی، تو فلم انڈسٹری کیسے چلتی؟‘

پاکستان کی انڈسٹری میں آج کل ہونے والے کام پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یقیناً اچھا کام ہو رہا ہو گا لیکن انہیں کافی عرصے سے پاکستانی فلمیں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، پر ڈرامے اگر کوئی اچھے ہوں تو دیکھ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ  ہمایوں سعید کی اداکاری کو بہت پسند کرتے ہیں۔

ایاز نائیک کے مطابق ان کے دور میں  سیٹس پر کام کاماحول بہت اچھا تھا۔ اداکار  کم عمر تھے اور  ہنستے کھیلتے رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا: ’ میں نے اور فیصل رحمان نے ایک ساتھ کام شروع کیا تھا، وہ بھی فرسٹ ایئر میں تھے میں بھی فرسٹ ایئر میں تھا۔ مل جل کر کام کیا کرتے تھے۔فیصل رحمان سے بھی میری دوستی تھی لیکن اس سے زیادہ اچھی دوستی میری ان کے بڑے بھائی سے تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ  1979سے1986تک فلموں کا خوب سلسلہ چلتا رہا، لیکن جب یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو پھر فلموں سے الگ ہونا پڑا۔انہوں نے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ ملاز مت اختیار کر لی جو انہوں نے پانچ چھ سال تک جاری رکھی۔ ’جب نجی پروڈکشنزشروع ہوئیں تو مجھ سے رابطہ کیا گیا، کچھ اچھی آفرز آئیں تو میں نے پھر سے اداکاری شروع کر دی۔ میں  کراچی کچھ عرصہ رہا اور 2009 تک ڈراموں میں کام کرتا رہا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال کے جواب میں ایاز نائیک نے کہا: ’جب میں پڑھائی کی وجہ سے اداکاری سے الگ ہوا تو کافی عرصے تک آفرز آتی رہیں لیکن میں سب کو منع کرتا رہا جب منع کرتا رہا تو پھر ایک وقت آیا کہ آفرز آنا بند ہو گئیں۔ یہ انڈسٹری اس قسم کی ہے کہ آنکھ سے اوجھل ہو تو لوگ بھول جاتے ہیں، نہ کوئی کاسٹ کرتا ہے نہ ہی کوئی دیکھنے کی طلب کرتا ہے۔‘

آج کے دور میں بننے والے ڈراموں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ آج کا ڈرامہ لکھا ہوا جاندار نہیں ہوتا،یہ ایک کمی ہے باقی ایکٹر ڈائریکٹرز سب اچھا ہی کام کررہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے دور میں ریہرسلز ہوا کرتی تھیں لیکن آج ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جب میں کراچی میں کام کر رہا تھا تو سیٹ پر جاتا تھا تو سکرپٹ ملنا، بتایا جاتا تھا کہ آج پانچ سین کرنے ہیں یا آٹھ۔ ہم سر جھکا دیتے تھے۔ جو سکرپٹ ملتا تھا اس کو اسی وقت یاد کرکے ڈائیلاگ بول دیا کرتے تھے۔‘

 بڑی اور چھوٹی سکرین پرکام کرنے کے فرق کوکس طرح بیان کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اداکار کے لیے بڑی اور چھوٹی سکرین کا فرق کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ ’مجھے جہاں بھی چاہے وہ چھوٹی سکرین ہو یا بڑی کام اور ٹیم اچھی ملتی تھی تو کر لیا کرتا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ماضی اور حال کے ڈراموں کے موازنے کو جائز نہیں سمجھتے کیونکہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، لوگ آج سے بیس سال پہلے جو دیکھتے تھے اب دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ’ آج ریٹنگ کا چکر ہے لیکن اس وقت تو ایک ہی چینل ہوتا تھااس لیے ریٹنگ کیا ہوتی ہے کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا تھا۔‘

ڈراموں میں تو واپسی ہو رہی ہے کیا فلم بھی کریں گے؟ اس کے جوان میں انہوں نے کہا کہ اگر اچھا کردار، اچھا ڈائریکٹر اور ٹیم ملی تو یقیناً فلموں میں کام کرنا چاہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن