کرونا سے آٹھ ہلاکتیں: پاکستان نے ایران کے ساتھ سرحد بند کردی

بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران میں پانچ ہزار زائرین موجود ہیں، ہم نے ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں اسی وقت بھیجیں جب ان کی مکمل سکریننگ ہوجائے اور ان میں کرونا وائرس موجود نہ ہو۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تفتان بارڈر پر قائم کیمپ  پر ایک شخص کی سکریننگ کی جارہی ہے (تصویر: اسسٹنٹ کمشنر آفس تفتان)

ایران میں کرونا وائرس سے آٹھ ہلاکتوں کے بعد پاکستان نے بلوچستان میں ایرانی سرحد سے متصل زیرو پوائنٹ، راہداری گیٹ اور ایف آئی اے امیگریشن گیٹ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کردیا ہے جبکہ زائرین کے ایران جانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ایرانی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق دارالحکومت تہران سمیت چار شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ 43 افراد کا علاج کیا جارہا ہے۔ ایران میں اس مہلک وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں چین سے باہر کسی بھی ملک میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر ضیاء اللہ لانگو نے عرب نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ 'پاکستان نے ایران کے ساتھ منسلک تمام سرحدی پوائنٹس کو سیل کرکے سکریننگ کیمپ قائم کردیے ہیں جبکہ بارڈر پر اضافی پیٹرولنگ بھی شروع کردی گئی ہے، تاوقتیکہ صورت حال کنٹرول میں نہیں آ جاتی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا: 'ہم ہر ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔'

دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ 'اس وقت ایران میں پانچ ہزار زائرین موجود ہیں، ہم نے ایران سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیں اسی وقت بھیجیں جب ان کی مکمل سکریننگ ہوجائے اور ان میں کرونا وائرس موجود نہ ہو۔'

انہوں نے مزید کہا: 'سکریننگ کے بغیر ہم زائرین کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔'

اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر نجیب قمبرانی نے بتایا تھا کہ صورت حال کے حوالے سے تفتان میں سول اور عسکری قیادت کا ایک اجلاس ہوا، جس میں یہ طے کیا گیا کہ جو لوگ ایران سے آرہے ہیں ان کو سکریننگ اور مکمل چیکنگ کے بعد ہی داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

 عرب نیوز کو موصول دستاویز کی کاپی کے مطابق مذکورہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ جب تک ایک الگ تھلگ یونٹ (quarantine facility) قائم نہیں ہوجاتا، اس وقت تک ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور راہداری گیٹ بند رکھے جائیں گے۔

مذکورہ دستاویز کے مطابق تفتان میں قائم کیے جانے والے اس یونٹ میں 400 افراد کے لیے 15 بلاکس ہونے چاہییں، جہاں ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد کو کم از کم دو ہفتے کے لیے زیر نگرانی رکھا جائے گا۔

ایران کے ساتھ سرحد سیل کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ایران سے منسلک اضلاع میں ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے بعد کیا گیا ہے۔

تاہم ایران آنے اور جانے والی فلائٹس کو منسوخ نہیں کیا گیا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ترجمان عبدالستار کھوکھر نے عرب نیوز سے گفتگو میں ایران کے لیے فلائٹس کی عارضی معطلی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 'ایئرپورٹ پر محکمہ صحت کا عملہ موجود ہے اور کسی بھی شخص کو اسی وقت داخلے کی اجازت دی جارہی ہے، جب تک اس کی صحت کا ریکارڈ چیک نہ کرلیا جائے۔'

دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت بلوچستان ڈاکٹر شاکر بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی علاقے تفتان میں کیمپ قائم کرکے آئسولیشن وارڈ بھی قائم کردیا گیا ہے۔

شاکر بلوچ نے بتایا کہ صوبائی ڈیزاسسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے تعاون سے  تفتان میں سو بستروں پر مشتمل موبائل ہسپتال بھی قائم کردیا گیا ہے جہاں پر ایران سے آنے والے افراد کی مکمل چیکنگ اور سکریننگ کی جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت پر سرحدی اضلاع میں ایمرجنسی نافذ ہے، 11 ماہرین پر مشتمل ڈاکٹروں کی ٹیم بھی تفتان بھجوادی گئی ہے جس کی سربراہی  ڈاکٹر احسان لاڑک کررہے ہیں۔

علاوہ ازیں صوبائی ڈیزاسسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیصل طارق کا کہنا ہے کہ دس ہزار ماسک بھی تفتان روانہ کردیے گئے ہیں جبکہ کرونا وائرس کے لیے قائم  کنٹرول سینٹر 24 گھنٹے فعال رہے گا۔

پی ڈی ایم اے نے کرونا وائرس کیمپ تفتان کے لیے ڈی آر ایم سپیشلسٹ ڈاکٹر عمران کو مقرر کیا ہے جبکہ ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز، واٹر سپلائی سسٹم، صاف پانی کا سسٹم، دو موبائل آفس یونٹس، چار موبائل کنٹینرز اور دس ایمبولینسیں پہلے ہی ہنگامی بنیادوں پر تفتان روانہ کی جاچکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت