بولان میڈیکل کالج کی بحالی: احتجاج کرنے والے ملازمین، طلبہ گرفتار

گرفتار کیے جانے والے طلبہ میں سرگرم طالبہ ماہ رنگ بلوچ بھی شامل تھیں، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

ملازمین اور طلبہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج  میں شریک افراد (تصویر: سعدیہ بلوچ)

کوئٹہ میں بولان میڈیکل کالج (بی ایم سی) کی بحالی کے لیے احتجاج کرنے والے ملازمین اور طلبہ کو پولیس نے پیر کو بلوچستان اسمبلی کے باہر سے گرفتار کر لیا۔  

گرفتار کیے جانے والے طلبہ میں سرگرم طالبہ ماہ رنگ بلوچ بھی شامل تھیں، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا، تاہم انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کا راستہ اختیار کیا اور پیر کی شب وہاں اپنا احتجاج جاری رکھا۔

کالج کو یونیورسٹی میں تبدیل کیے جانے پر گذشتہ کچھ ہفتوں سے ملازمین اور طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ بی ایم سی بحالی تحریک کے رہنماؤں کو تشویش ہے کہ یونیورسٹی میں انضمام سے 14 سو ملازمین کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔

کچھ روز قبل بھی سو سے زائد طلبہ کو اسمبلی کے باہر دھرنا دینے پر گرفتار کیا گیا تھا تاہم ارکان اسمبلی کی مداخلت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ 

رابطہ کرنے پر تحریک کے ارکان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے 50 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایم سی کے طلبہ اور عملہ ابھی اسمبلی پہنچے ہی تھے کہ ’وہاں پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی جرم کے طلبہ اور طالبات کو گرفتار کرلیا۔‘

سرگرم طالبہ ماہ رنگ نے حراست کے دوران بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا: ’حکومت کا یہ اقدام جمہوری روایات کے برعکس ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’حکومت اور اسمبلیوں میں بیٹھے نمائندے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ہمارے جمہوری حق اور پر امن احتجاج کا راستہ بھی روک رہے ہیں۔‘ 

گرفتار کیے جانے والے ملازمین اور طلبہ کو بجلی گھر تھانے منتقل کیا گیا۔ اس سلسلے میں جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے رابطہ کیا تو پولیس اہلکاروں نے 40 گرفتاریوں کی تصدیق تو کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ انہیں قانون کی کس دفعہ کے تحت گرفتار کیا گیا۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بجلی گھر تھانے کے اہلکار نے بتایا کہ اسمبلی میں اجلاس جاری تھا اور مظاہرین اسمبلی کے ارکان کے راستے میں خلل ڈال رہے تھے۔

بولان میڈیکل کالج کا شمار بلوچستان کے سب بڑے اور قدیم میڈیکل کالجز میں ہوتا ہے۔ سابقہ حکومت نے اس کالج کو ایک قانون کے ذریعے یونیورسٹی کا درجہ دیا تھا۔ 

بی ایم سی کے ملازمین اور طالب علموں کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کے اطلاق سے پہلے تمام فریقین کو اعتماد میں نہیں گیا اس لیے اس قانون میں سقم موجود ہیں جس سے نہ صرف ملازمین کو اپنے مستقبل کے حوالے سے خدشات لاحق ہوگئے ہیں بلکہ غریب طلبہ کے لیے بھی یونیورسٹی کی بھاری بھرکم فیسیں جمع کرانا مشکل ہوگیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت کا موقف ہے کہ وہ اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتے ہیں، مگر یقین دہانی کے باوجود ملازمین اور طالب علموں کا روز روز اس طرح سڑکوں پر نکلنا مناسب نہیں۔ 

ماہ رنگ کا کہنا تھا: ’پہلے احتجاج کے دوران صرف طلبہ کو ہی حراست میں لیا جاتا تھا لیکن اب طالبات کو بھی پولیس تھانوں میں بند کرنے کی غیرجمہوری اور غیراخلاقی روایت شروع کردی گئی ہے۔‘

انہوں نے ملازمین اور طالب علموں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان