’میں ہوں پاکستان کا کم عمر ترین ریڈیو میزبان محمد حسنین‘

چھ سالہ محمد حسنین کا تعلق پشاور کے علاقے گلبہار سے ہے اور انہیں پاکستان کے کم عمر ترین ریڈیو میزبانوں اور وی لاگر میں شمار کیا جاتا ہے۔

چھ سالہ محمد حسنین کا تعلق پشاور کے علاقے گلبہار سے ہے اور انہیں پاکستان کے کم عمر ترین ریڈیو میزبانوں اور وی لاگر میں شمار کیا جاتا ہے۔

محمد حسنین نے  چار سال کی عمر میں پہلا شو کیا تھا اور اس کے بعد وہ پشار میں مخلتف سرکاری اور غیر سرکاری ریڈیو چینلز پر شوز کر چکے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے محمد حسنین کا کہنا تھا کہ وہ جب چار سال کے تھے تو ایک ٹی وی آڈیشنز ہو رہے تھے تو ان کا والدہ نے ان کو بتایا کہ آڈیشنز لینے چلتے ہیں تاکہ آپ دیکھ سکو کہ آڈیشنز کس طرح لیے جاتے ہے۔

اور اس وقت سے میرے اندر یہ شوق ہمیشہ رہتا تھا کہ وہ مستقبل میں ایک صحافی بنیں گے اور ریڈیو یا ٹی وی پر پروگراموں کی میزبانی کریں گے۔

حسنین آج کل ایک مقامی ریڈیو چینل تہذیب میں ہفتہ وار پروگرام کی میزبانی کرتے ہیں جس میں وہ مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں جو کچھ بھی کرتا ہوں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کے لیے میں نے کسی سی ٹریننگ نہیں لی ہے۔ میری امی مجھے بہت سپورٹ کرتی ہیں لیکن اتنا کہ وہ مجھے موضوع بتاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اسی پر آپ نے بولنا ہے اور پھر میں تیاری کر کے اسی موضوع پر بحث کرتا ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسنین کی والدہ نادیہ خالد کہتی ہیں کہ بچپن ہی سے حسنین بہت تیز تھا اور انھیں خوشی ہے کہ ان کا جو شوق ہے اسی میں وہ آگے جا رہا ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ حسنین یہ سب کچھ کیسے بول لیتا ہے اور کس طر ح اتنے بڑے موضوعات پر باتیں کرتا ہے، تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ  وہ ان کے ساتھ محنت کرتی ہیں اور ان کی ویڈیوز وغیرہ کی شوٹنگ اور ایڈیٹنگ وہ خود کرتی ہیں تاہم موضوعات پر یہ خود اپنے طرف سے بولتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’میری ایک دو سال کی بیٹی بھی ہے اور حسنین کے ساتھ اتنا مصروف رہتی ہوں کہ ان کو بھی کبھی کبھی ٹائم نہیں دے پاتی لیکن حسنین کا شوق ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسی میں وہ آگے جائے۔‘

لوگ سیلفیاں لیتے ہیں تنگ تو نہیں ہوتے؟

حسنین سے جب پوچھا گیا کہ لوگ سیلفیاں لینے آتے ہے تو تنگ تو نہیں ہوتے، اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ تنگ صرف اس سے ہوتا ہوں جب کوئی کہتا ہے کہ تم بہت خوش قسمت ہو کہ لوگ آپ کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ قسمت نہیں بلکہ ٹیلنٹ ہے کیونکہ اگر محنت اور ٹیلنٹ ہوں تو قسمت خود بہ خود اچھی ہوجاتی ہے۔

پڑھائی کے بارے میں حسنین نے بتایا کہ وہ دوسری جماعت میں پڑھتے ہیں اور ہمیشہ سے کلاس میں اچھے نمبر لیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اپنے ریڈیو اور وی لاگنگ کے کام کی وجہ سے ان کی پڑھائی پر کوئی برا اثر نہیں پڑا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے