میری اخلاقیات مجھے فوجی کارروائیوں سے روکتی ہیں: ٹرمپ

نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میں لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔‘

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 10 اکتوبر 2025 کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہی دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کا حکم دینے کے ان کے اختیار پر واحد رکاوٹ ہیں۔

اخبار دا نیویارک ٹائمز سے ٹرمپ کی یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی ہے جب چند دن قبل ہی انہوں نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا تختہ الٹنے کے لیے ایک برق رفتار کارروائی کی اور دیگر کئی ممالک کے علاوہ خود مختار علاقے گرین لینڈ کو دھمکیاں دیں۔

ٹرمپ نے اخبار کو بتایا کہ ’ہاں، ایک چیز ہے۔ میری اپنی اخلاقیات۔ میرا اپنا ذہن۔ یہ وہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔‘ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کے عالمی اختیارات پر کوئی حدود ہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میں لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔‘

رپبلکن صدر نے مزید کہا کہ ’مجھے‘ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے کی ضرورت ہے، لیکن کہا کہ ’اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا ہے؟‘

امریکہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کا رکن نہیں ہے، جو جنگی مجرموں پر مقدمہ چلاتی ہے۔ امریکہ اس نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کے فیصلوں کو بارہا مسترد کیا ہے۔

ٹرمپ کا خود بھی ملکی قانون کے ساتھ ٹکراؤ رہا ہے، ان کا دو بار مواخذہ کیا گیا۔ انہیں 2020 کے الیکشن کے نتائج بدلنے کی سازش سمیت متعدد وفاقی الزامات کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد آخرکار ختم کر دیے گئے۔ انہیں فحش فلموں کی اداکارہ کو منہ بند رکھنے کے لیے رقم کی ادائیگی پر پردہ ڈالنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

خود کو ’امن کا صدر‘ کہلانے اور نوبل انعام کا خواہاں ہونے کے باوجود، ٹرمپ نے اپنی صدارت کی دوسری مدت میں فوجی کارروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے جون میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر حملوں کا حکم دیا اور گذشتہ برس عراق، نائیجیریا، صومالیہ، شام، یمن اور حال ہی میں وینزویلا پر حملوں کی نگرانی بھی کی۔

وینزویلا کے مادورو کی گرفتاری کے بعد سے، حوصلہ پانے والے ٹرمپ نے کولمبیا سمیت دیگر کئی ممالک کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کو بھی دھمکیاں دی ہیں، جس کا انتظام نیٹو کے رکن ڈنمارک کے پاس ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کی ترجیح نیٹو فوجی اتحاد کو برقرار رکھنا ہے یا گرین لینڈ کا حصول؟ ٹرمپ نے اخبار کو بتایا: ’یہ ایک انتخاب ہو سکتا ہے۔‘

کانگریس کے کچھ ارکان، بشمول چند رپبلکنز، ٹرمپ کے اختیارات کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات کو سینیٹ نے وینزویلا میں صدارتی فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے ایک اقدام کو آگے بڑھایا، لیکن اگر یہ ان کی میز تک پہنچ بھی گیا، تو ٹرمپ ممکنہ طور پر اسے ویٹو کر دیں گے۔

ارب پتی ٹرمپ نے، جنہوں نے پراپرٹی ڈولپر کے طور پر دولت اکٹھی کی، مزید کہا کہ گرین لینڈ کی امریکی ملکیت وہ چیز ہے جو ’مجھے لگتا ہے کامیابی کے لیے نفسیاتی طور پر ضروری ہے۔‘

ٹرمپ نے الگ سے کہا کہ انہیں اقتدار میں واپسی کے بعد سے اپنے خاندان کے غیر ملکی کاروباری سودے کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے انہیں اپنی پہلی مدت میں کاروبار کرنے سے منع کیا تھا، اور مجھے اس کا بالکل کوئی کریڈٹ نہیں ملا۔ مجھے معلوم ہوا کہ کسی کو پروا نہیں تھی، اور مجھے اس کی اجازت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ