انہیں عمران خان ہو گیا ہے؟

یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ جب عمران نے حکومت سنبھالی تو اس مالی سال کے گیارہ ماہ ابھی باقی تھے لیکن اس کے معاشی فیصلے عمران خان کی بجائے ن لیگ کر کے جا چکی تھی۔

اقتدار سنبھالتے ہی عمران آئی ایم ایف کے پاس چلے جاتے اور قرض لے لیتے تو معاملات اس نہج تک نہ آتے، انہوں نے متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی۔  (اے ایف پی فائل)

مان لیا عمران خان ناکام ہو گئے، کیا راہ نجات اب یہی ہے کہ نواز شریف کو نجات دہندہ اور آصف زرداری کو رشک مسیحا سمجھ لیا جائے؟عمران خان تنقید سے بالاتر نہیں۔ ان کے فیصلوں پر پوری شدت سے گرفت کی جانی چاہیے لیکن عمران کا نام آتے ہی جن کا چہرہ تاباں، سیاہ ہو جائے اور وہ توازن کھو دیں، ان کی آتش نفسی کا کیا اعتبار؟ آدمی حیرت سے سوچتا ہے انہیں کیا ہو گیا ہے، ان کا سینہ کس کے غم میں داغ ہے؟ پھر معلوم ہوتا ہے انہیں عمران خان ہو گیا ہے، اب ان کے صحن میں بہار بھی اشک بار آتی ہے۔

معیشت عمران کے خلاف عائد فرد جرم کا بنیادی نکتہ ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے عمران جس معاشی گرداب میں پھنسا ہے اس کی جزئیات مسلم لیگ ن نے بڑی مہارت سے تیار کی تھیں۔ تجربہ کاروں نے عمران دشمنی میں ایسی تجربہ کاری دکھائی جسے پوری قوم بھگت رہی ہے اور تجربہ کار خود ایک طرف کھڑے ہو کر بغلیں بجا رہے ہیں کہ جو جال ہم بن کر گئے اب ذرا اس سے نکل کر دکھاؤ۔

مئی 2018 میں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی۔ لیکن اس حکومت نے 27 مئی کو اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک حکومت جو چند دنوں کی مہمان تھی، اسے یہ ضد کیوں تھی کہ اگلے مالی سال کا بجٹ بھی وہ پیش کرے گی؟ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ جب عمران نے حکومت سنبھالی تو اس مالی سال کے گیارہ ماہ ابھی باقی تھے لیکن اس کے معاشی فیصلے عمران خان کی بجائے ن لیگ کر کے جا چکی تھی۔ اور فیصلے بھی کیسے تھے، ذرا یہ بھی جان لیجیے۔

مسلم لیگ ن نے اپنے اس آخری بجٹ میں یہ طے کر دیا تھا اگلے مالی سال کے لیے حکومت 13 بلین ڈالر قرض لے گی تب معاملات چلیں گے۔ یاد رہے پاکستان کی تاریخ میں کسی ایک مالی سال کے لیے لیا جانے والا یہ سب سے بڑا قرض تھا۔عمران نے حکومت سنبھالی تو معلوم ہوا اس سال کا نظام صرف اسی صورت میں چل سکتا ہے کہ 13 بلین ڈالر کا قرض لیا جائے۔ عمران کے لیے پہلا چیلنج یہ تھا کہ یہ قرض لیے بغیر معاملات کو چلا لیا جائے۔ انہوں نے ادھر ادھر معاشی امکانات تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ کوئی راستہ نکل آئے اور یہ قرض نہ لینا پڑے۔ جب ان امکانات کی تلاش میں عمران  مختلف ممالک کا دورہ کر رہے تھے، ان کے سیاسی حریف معنی خیز مسکراہٹ بکھیر کر ان پر کشکول کا طنز اچھال رہے تھے اور طعنہ زن تھے کہ جو ڈور ہم  نے اتنی محنت سے الجھائی ہے ذرا اسے سلجھا کر تو دکھاؤ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقتدار سنبھالتے ہی عمران آئی ایم ایف کے پاس چلے جاتے اور قرض لے لیتے تو معاملات اس نہج تک نہ آتے، انہوں نے متبادل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ معقول متبادل معاشی امکانات کی تلاش میں ناکامی ہوئی اوربے بسی کے عالم میں آئی ایم ایف سے رجوع کیا تو تاخیر ہو چکی تھی۔ آئی ایم ایف نے شرائط سخت کر دیں کیونکہ اسے معلوم تھا اب پاکستان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی گیس کی قیمتیں بڑھیں، روپیہ عدم استحکام کا شکار ہوا اورمعاشی حالات گھنبیر ہو گئے۔بلا شبہ عمران حکومت بھی اس کی ذمہ دار ہے لیکن کیا صرف عمران حکومت ہی ذمہ دار ہے؟

یاد رہے کہ پاکستان کی سترسالہ تاریخ میں ایک مالی سال میں سب سے زیادہ قرض لینے کا اعزاز اسی نواز شریف حکومت کوحاصل ہوا تھا۔چار سالوں میں نواز شریف حکومت نے 35 بلین ڈالر قرض لیا۔ پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں جتنا قرض لیا قریبا اتنا ہی قرض نواز شریف اور آصف زردای کے ادوار میں لیا گیا۔لیکن آج بے نیازی کا یہ عالم ہے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل قومی اسمبلی میں حلفا کہتے ہیں کہ عمران کو ملکی تاریخ کی مستحکم ترین معیشت ورثے میں ملی تھی جسے عمران نے تباہ کر دیا۔ عمران کی نفرت میں نواز شریف کو کیسے کیسے وکیل میسر ہو چکے۔پٹیل صاحب کی اس مستحکم ترین معیشت کی حقیقت یہ ہے کہ عمران کو پہلے ہی سال 10 بلین ڈالر کا قرض واپس کرنا پڑا۔جی ہاں دس بلین ڈالر۔

عمران خان کی کارکردگی پر ضرور سوال اٹھنا چاہیے لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد، جب صوبے مالی اور انتظامی طور پر بڑی حد خود مختار ہو چکے، بلاول بھٹو سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ عالی جاہ سندھ میں عشروں سے آپ کی حکومت ہے تو ذرا بتا ئیے تو سہی وہاں دودھ اور شہد کی کتنی نہریں آپ نے رواں فرمائی ہیں؟عمران خان پر بے شک گرہ لگائیے کہ ان کی ڈور کوئی اور ہلاتا ہے لیکن یہ بھی تو بتائیے کہ حزب اختلاف کی ڈور کون ہلاتا ہے، یہ گرجتے برستے اچانک منمنانے کیوں لگتی ہے  اور بیانیہ بیعانیہ میں کیوں تبدیل ہو جاتا ہے؟ یہ صادق سنجرانی کو ووٹ کیوں دیتے ہیں اوریہ ملک میں رہ کر ووٹ کو عزت دلوانے کی بجائے با جماعت لندن کیوں چلے جاتے ہیں؟ یہ اصولوں کی لڑائی ہے یا دکھ اس بات کا ہے کہ امکانات کے بوٹ کے تسمے سے بندھے رہنے کا شرف ہم سے کیوں روٹھ گیاہے؟

اس میں کیا کلام ہے عمران خان معاملات کو سنبھال نہیں پا رہے اور چیزیں الجھتی چلی جا رہی ہیں، سب سے سنگین مسئلہ ان کے وزرا کا غیر ذمہ دارانہ طرز گفتگو ہے، خلق خدا جس سے بے زار ہو چکی۔ وہ اپنے حصے کی مزید غلطیاں بھی کر رہے ہیں۔ان سے وابستہ رومان بھی لرز رہا ہے لیکن خرابی حالات کی روبکار صرف عمران خان کے نام کیوں بھیجی جائے؟جنہوں نے عشروں یہاں حکومت کی، کوئی غزل ان کے لیے بھی تو کہی جائے۔لیکن نہیں، یہاں احباب جب بھی بزم آراء ہوتے ہیں صرف عمران کی ہجو کہتے ہیں۔

سوال سادہ سا ہے، انہیں ہو کیا گیا ہے؟اور جواب اس سے بھی سادہ ہے: انہیں عمران خان ہو گیا ہے۔ نسبتِ عشقی کا یہ درد لادوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ