کرونا:’ایران سے آنے والے 1500 افراد کی شناخت‘

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ 15 دنوں کے دوران ایران سے آنے والے افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں 15 دن تک نگرانی میں رکھا جائےگا۔

کرونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوتے ہی کئی شہروں میں ماسک شارٹ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آنے لگیں (اے ایف پی)

پاکستان میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہونے کے بعد صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایران سے آنے والے افراد کی شناخت کر لی گئی جن کی 15 دن تک نگرانی کی جائے گی۔

جمعرات کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ 15 دنوں کے دوران ایران سے آنے والے افراد یا ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کی تعداد 1500 ہے اور انہیں آئندہ 15 روز تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر ان افراد میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں بھی ہوتیں تب بھی ان کو نگرانی میں رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بدھ کی رات پاکستان میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پریشان ہونے کی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ دوسرے کا تعلق فیڈرل ایریا سے ہے۔

جمعرات کو پریس کانفرنس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کرونا وائرس کے پیش نظر ایک ہسپتال مختص کر دیا گیا ہے جہاں صرف اس کے متاثرین کو رکھا جائے گا۔

گذشتہ روز پاکستان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد سے ملک میں ماسک کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ میڈیکل سٹورز پر لوگوں کی بڑی تعداد ماسک لینے پہنچ گئی ہے لیکن انہیں ماسک مل نہیں رہے اور جن کے پاس ہیں وہ مبینہ طور پر اصل قیمت سے زیادہ پر فروخت کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ ماسک مہنگے فروخت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اس کی اصل قیمت پر فروخت کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماسک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ویئر ہاؤسز سے رابطہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال میں وہ دن میں دو مرتبہ متعلقہ اہلکاروں سے بریفننگ لیں گے۔

سکول بند 

ملک میں وائرس کی تصدیق کے بعد سندھ اور بلوچستان میں سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ 

بلوچستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بچوں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی سکولوں کے ساتھ ساتھ مدرسے بھی 15 مارچ تک بند کیے جا رہے ہیں۔

بیان کے مطابق صوبے میں ہونے والے امتحانات بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت کی جانب سے صرف دو روز کے لیے سکولوں کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 

’انتظامات مکمل ہیں‘

کراچی شہر کے بڑے ہسپتالوں نے متوقع مریضوں کے پیش نظر انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سینٹر (جی پی ایم سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمارے یہاں ابھی تک وائرس کاکوئی مشتبہ فرد نہیں آیا ہے ۔ اس سلسلے میں چار سے پانچ میٹنگ ہوچکی ہیں۔ ہسپتال عملے کو مخصوص لباس اور ماسک پہننے کی ڈرل کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں آئسولیشن روم بھی بنادیے گئے ہیں اور ہدایت نامے لکھ کر جگہ جگہ لگادیے گئے ہیں۔‘

پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا مریض کو  آغا خان ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ہسپتال نے ایک بیان میں کہا:’مریض آئسولیشن روم میں ہے اور اب حالت بہتر ہورہی ہے۔ ہم نے انفیکشن کنٹرول پروٹوکول کو پوری طرح نافذ کیا ہوا ہے تاکہ وائرس ہسپتال کے عملے، طلبہ اور ہسپتال میں داخل مریضوں کو متاثر نہ کرسکے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آغا خان ہسپتال ایک فلاحی ادارے کے طور پر بنایا گیا تھا مگر اس وقت کراچی کے مہنگی ترین ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے میں وائرس سے متاثرہ  مریض کے علاج کے اخراجات کو ن برداشت کرے گا کے سوال پر  ہسپتال کے ترجمان کا کہنا تھا  کہ اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہے اور یہ ایک رازداری والا معاملا ہے۔

دوسری جانب رابطہ کرنے پر محکمہ صحت سندھ کے ترجمان عاطف وہگھیو نے کہا : '’وائرس سے متاثرہ  مریض کے سارے اخراجات محکمہ صحت سندھ برداشت کرے گا اور یہ بات ہم نے آغا خان ہسپتال انتظامیہ کو بتا دی ہے اور مریض کے اہل خانہ کو بھی بتایا ہے کہ اگر انہیں ہسپتال کی جانب سے کوئی بل ملے تو وہ ہمیں دیں ہم اس کے پیسے ادا کریں گے۔‘

پی ایس ایل

کرونا وائرس سے ملک میں جاری پاکستان سپر لیگ فایئو کے میچوں کے ملتوی ہونے کے ممکنہ خطرے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہنا ہے کہ میچ معمول کے مطابق ہوں گے۔ 

پی سی بی کے ترجمان سمیع الحسن کا کہنا ہے کہ میچ تو شیڈول کے مطابق ہوں گے اور وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاتی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں۔

’حالات قابو میں ہیں‘

اس سے قبل معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ جن دو افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ’لہذا عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا: ’میں پاکستان میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کرسکتا ہوں، جن کا بین الاقوامی معیار کی طبی سہولیات کے ساتھ علاج کیا جارہا ہے اور ان دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، حالات قابو میں ہیں۔‘

بدھ کی رات نجی ٹی وی چینل ’دنیا نیوز‘ پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ملک میں کرونا وائرس کے شبہ میں 15 افراد زیرنگرانی تھے، جن میں سے دو میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق کرونا سے متاثرہ ایک مریض کا تعلق کراچی سے ہے، جو حال ہی میں ایران سے واپس آیا تھا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ شخص کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جارہا ہے۔ جبکہ دوسرے مریض کی مکمل معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 19 تک جا پہنچی ہے اور وائرس کے پاکستان میں پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر پاکستان ایران سرحد پر تفتان کے مقام پر امیگریشن گیٹ چار روز سے بند ہے۔

 تفتان میں قائم آئسولیشن مرکز میں زائرین سمیت 270 افراد کو 14 دن کی مدت مکمل ہونے پر منزل کی طرف روانہ کیا جائے گا۔

حکومتی بیانات کے مطابق چمن، طورخم اور شمالی وزیرستان میں پاک افغان بارڈر پر مسافروں کی تھرمل سکیننگ، پیرا میڈیکل اسٹاف کی خصوصی ٹیم تعینات اور آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 76 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی مجموعی تعداد چین میں 2700 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان