خیبرپختونخوا سائنس میلہ: بنوں یونیورسٹی کی طالبہ کا منفرد سافٹ ویئر

پی ایچ ڈی کی طالبہ شمائلہ نے ایک اور طالب علم کے ساتھ مل کر ایک ’میوٹیشن ڈیٹابیس‘ بنایا ہے، جس کی مدد سے تمام جینیاتی بیماریوں کو ایک جگہ پر اکھٹا کیا گیا ہے۔

شمائلہ اور محمود نے بتایا کہ وہ باقی ممالک کے ڈیٹا بیسز کے ساتھ اس ڈیٹا بیس کو لنک کرنا چاہتے ہیں، اس بارے میں ان کا تحقیقی مقالہ بھی بین الاقوامی جرنل میں شائع ہوچکا ہے۔ (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے سائنس فیسٹیول میں 80 فیصد خواتین کی شمولیت اس صوبے کے حوالے سے ایک خوشگوار تبدیلی سمجھی جا سکتی ہے۔

اب اس صوبے کی خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نظر نہیں آتیں۔ اس کا واضح ثبوت کل اسلامیہ کالج میں ڈائریکٹوریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے منعقدہ دو روزہ سائنس فیسٹیول تھا، جس میں تمام خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں کے طالب علموں اور دیگر نوجوانوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنے ایجاد کردہ ماڈلز اور آئیڈیازعوام کے سامنے لائیں۔

اسلامیہ کالج کے گراؤنڈ میں کل 340 سٹالوں میں سے چند ایک کے علاوہ ایسا کوئی سٹال نہیں تھا جس میں کسی خاتون کی موجودگی نہ ہو۔ ان میں میڈیکل، انجینیئرنگ، کمپیوٹر سائنس، زراعت، سوشل سائنسز، ماحولیات، زولوجی اور دیگر مضامین پڑھنے والی طالبات شامل تھیں۔

طالبات میں سے بیشتر کا تعلق خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں جیسے بنوں، درگئی (ملاکنڈ)، مانسہرہ اور چترال سے تھا۔

خیبر پختونخوا سائنس و ٹیکنالوجی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر خالد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اتنی بڑی سطح پر پورے خیبر پختونخوا سے ان تمام نوجوانوں کو دعوت دی گئی ہے جو چاہے تعلیمی اداروں کے اندر یا باہر ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی سائنسی تحقیق یا ایجاد ہے تو وہ آ کر اس کی نمائش کریں۔‘ 

خالد خان نے بتایا: ’خوشی کی بات یہ ہے کہ اس میں تقریباً 80 فی صد خواتین بھی شامل تھیں، جنہوں نے اکیلے یا ٹیم کے ساتھ مل کر کوئی ایجاد کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دو روزہ سائنس فیسٹیول میں بنوں یونیورسٹی سے شریک ہونے والی پی ایچ ڈی کی طالبہ شمائلہ بھی تھیں، جنہوں نے اپنی یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم محمود عالم (ایم ایس کمپیوٹر سائنس) کی مدد سے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو ان دونوں کے مطابق پاکستان میں پہلے کبھی کسی نے نہیں بنایا۔ 

شمائلہ کا دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا ’میوٹیشن ڈیٹابیس‘ ہے جس کی مدد سے تمام جینیاتی بیماریوں کو ایک جگہ پر اکھٹا کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’دنیا کے دوسرے ممالک اس کو پہلے تیار کرچکے ہیں۔ بھارت نے بالکل یہی ڈیٹا بیس 2010 میں بنایا تھا، سنگاپور نے 2013 میں اور ہم نے 2017 میں پاکستان کے لیے بنایا۔ اس میں کوہاٹ یونیورسٹی سے ڈاکٹر سعد بھی ہمارے ساتھ  شامل ہیں۔ مستقبل میں ہم اس سے جو کام لیں گے وہ یہ ہوگا کہ اکثر مختلف بیماریوں کا ایک سٹینڈرڈ تناسب دیا جاتا ہے، ہم سٹینڈرڈ سے ہٹ کر تفصیلی تناسب نکالنے پر کام کریں گے۔‘

شمائلہ اور محمود نے بتایا کہ وہ باقی ممالک کے ڈیٹا بیسز کے ساتھ اس ڈیٹا بیس کو لنک کرنا چاہتے ہیں، اس بارے میں ان کا تحقیقی مقالہ بھی بین الاقوامی جرنل میں شائع ہوچکا ہے۔

تقریب کے دوران اساتذہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کے اکثر طلبہ پڑھائی میں تو کمزور ہوتے ہیں لیکن پریکٹیکل سائنسی تجربات میں ان کا دماغ بھی چلتا ہے اور ان میں دلچسپی بھی لیتے ہیں۔

آج کل دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے اور مختلف ممالک اپنی نوجوان نسل کو اس راہ پر گامزن کرنے پر زور دے رہے ہیں تاہم پاکستان میں یہ صورت حال کچھ زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتی۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ 2015 کی گلوبل انوویشن انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان 141 ممالک میں 131 ویں نمبر پر تھا۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنس کے میدان میں بچوں اور نوجوانوں کو اتنا بڑا موقع فراہم کرنا یقیناً ایک قابل ستائش کوشش ہے، تاہم اس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس قدر اہم فیسٹیول کے افتتاح اور نہ ہی اختتام پر تشریف لائے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ وہ آئے تو تھے لیکن اسلامیہ کالج کے گیٹ سے ہی واپس لوٹ گئے کیونکہ وہاں اسلامیہ کالج کے طالب علموں کی جانب سے کچھ  احتجاج ہورہا تھا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اسی احتجاج میں سے گزر کر آئے اور فیسٹیول میں شرکت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرکے رخصت ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس