کرونا وائرس: 30 کروڑ بچے سکول جانے سے قاصر

یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں 13 ممالک میں سکول بند ہو چکے ہیں، جس سے ساڑھے 29 کروڑ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔

اٹلی نے 107 ہلاکتوں کے بعد کرونا کی وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے تمام  تعلیمی اداروں کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا حکم  دے دیا(اے ایف پی)

چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے جہاں 95 ہزار افراد متاثر ہیں اور اب تک 3200 اموات ہو چکی ہیں، وہیں دنیا بھر میں تقریباً 30 کروڑ بچے وائرس کی وجہ سے سکول جانے سے قاصر ہیں۔

سکولوں کی بندش کا تازہ ترین قدم یورپ کے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی میں اٹھایا گیا، جہاں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے 10 روز کے لیے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئیں، جہاں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 107 اطالوی شہری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ وائرس 80 سے زیادہ ممالک تک پہنچ چکا ہے جن میں اٹلی، جنوبی کوریا اور چین سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ دنیا بھر میں 95 ہزار افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 3200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

چین میں، جہاں سے اس وبا کا آغاز ہوا تھا، تمام سکول تاحال غیرمعینہ مدت کے لیے بند ہیں اور جیسے جیسے یہ وائرس دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچتا گیا وہاں وہاں دیگر عوامل کے علاوہ تعلیم پر بھی اس کے منفی اثرات پڑے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے بدھ کو کہا کہ دنیا بھر میں 13 ممالک میں سکول بند ہو چکے ہیں جس سے ساڑھے 29 کروڑ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیسکو کے مطابق نو ملکوں کی مقامی حکومتیں بھی جزوی طور پر سکولوں کی بندش کر رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبے سندھ میں 13 مارچ جبکہ بلوچستان میں 15 مارچ تک سکول بند رہیں گے۔ پاکستان میں اب تک پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے دو کا تعلق کراچی سے ہے۔

اگرچہ عالمی بحرانوں کے دوران عارضی طور پر سکولوں کی بندش کوئی نئی بات نہیں، تاہم یونیسکو کے سربراہ آڈری ایزولے کا کہنا ہے: ’موجودہ تعلیمی تعطل کی عالمی سطح اور رفتار غیر معمولی ہے اور اگر یہ سلسلہ طول پکڑ جاتا ہے تو یہ تعلیم کے حق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔‘

اٹلی نے 107 ہلاکتوں کے بعد کرونا کی وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے بدھ کو تمام سکولوں اور یونیورسٹیوں کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جنوبی کوریا نے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے، تعلیمی تعطل میں 23 مارچ تک توسیع کی ہے۔

جاپان کے وزیراعظم مارچ کے آخر اور اپریل کے اوائل تک موسم بہار کے وقفے کے دوران کلاسوں کو منسوخ کرنے کے مطالبے کے بعد تقریباً تمام سکولوں کو بند کرنے کا حکم دے چکے ہیں۔

فرانس میں بھی اس ہفتے متاثرہ علاقوں میں واقع لگ بھگ 120 سکول بند ہیں۔

اگرچہ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو ابھی تک ’عالمی وبا‘ قرار نہیں دیا، تاہم جرمن وزیرِ صحت نے زور دیا ہے کہ یہ مہلک وائرس ایک عالمی وبا کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔

جرمن وزیرِ صحت جینز سپان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا: ’کرونا وائرس کے حوالے سے صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اب تک جو چیز واضح ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں یہ وبا تاحال اپنےعروج تک نہیں پہنچی۔‘ 

دوسری جانب سعودی عرب نے بدھ کو کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے خدشات کے باعث عمرے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی قدم ہے جس سے اس سال حج کے لیے بھی غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے بیرون دنیا سے عمرے کے لیے سفر پر پابندی عائد کرنے کے بعد سعودی سلطنت نے اپنے شہریوں اور مقامی رہائشیوں کے عمرے پر بھی پابندی لگا دی۔  

سعودی سرکاری پریس ایجنسی نے وزارت داخلہ کے حکام کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے شہریوں اور ریاست کے باشندوں کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے عمرے پر عارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کی ایک ٹویٹ کے مطابق لوگوں کو مدینہ میں مسجد نبوی کی زیارت سے بھی روک دیا گیا۔ سعودی عرب نے بدھ کو اپنے دوسرے شہری میں کرونا وائرس کی تصدیق کی جو حال ہی میں ایران سے واپس لوٹے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت