’امریکیوں نے مجھ پر افغانستان میں تشدد کیا، اب انہیں جواب دینا ہو گا‘

گوانتانامو بے میں قید احمد ربانی کہتے ہیں کہ اگر امریکہ تشدد کرنے والے اپنے ہی لوگوں سے پوچھ گچھ نہیں کرنے دے گا تو پھر اسے دوسرے ملکوں سے جواب طلبی کا حق نہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین  گوانتانامو بے کے قیدیوں کے لباس میں احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں (اے ایف پی)

مجھے پیٹ پر لاتیں کھانے کی عادت ہو چکی تھی کہ ایک دم لاتیں پڑنا رک گئیں۔ کل ہی مجھے علم ہوا کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) نے امریکی افواج کی جانب سے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

کابل کی ’تاریک جیل‘ میں مجھ پر تشدد کرنے والے امریکی سمجھتے تھے کہ وہ بغیر روک ٹوک جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اب امکان ہے کہ شاید ان کا احتساب ہو۔ یہ یقینی طور پر ایک تاریخی لمحہ ہے۔ تشدد کرنے والے امریکی شاید پہلی بار عالمی انصاف کا سامنا کریں گے۔

میں ان سینکڑوں لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے شکایات درج کروائیں، لیکن میں گوانتانامو بے میں وہ واحد شخص تھا جو اپنا نام عام ہونے پر رضامند تھا۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ باقی افراد نام کیوں نہیں ظاہر کرنا چاہتے تھے لیکن مجھے انجام کی پروا نہیں۔ وہ میرے ساتھ ایسا کیا کر سکتے ہیں جو انہوں نے پہلے نہ کیا ہو؟

امریکہ نے پاکستانیوں کو میری قیمت ادا کی تھی جب انہیں بتایا گیا کہ میں بدنام زمانہ دہشت گرد حسن گل ہوں۔ وہ مجھے بیڑیوں میں قید کر کے کراچی سے کابل کے ’تاریک قید خانے‘ لا آئے۔ انہوں نے مجھ پر 540 دن اور رات ناقابل بیان تشدد کیا۔ حیران کن طور پر انہوں نے بعد میں اصلی حسن گل کو پکڑ لیا لیکن اسے جانے دیا اور اس دوران ایک معصوم ٹیکسی ڈرائیور گوانتانامو بے بھیج دیا گیا، جہاں مجھے 17 سال رکھا گیا۔

یہ حقائق متنازع نہیں اور امریکی سینیٹ میرے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی تصدیق 2014 کی سی آئی اے تشدد رپورٹ میں کر چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے وعدہ کیا ہے کہ ’ان جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے گا تاکہ ان جرائم کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہ تنہا یہ ہدف حاصل نہیں کرسکتے‘ اور باقیوں کو اس میں ان کی مدد کرنی ہو گی۔

تو میں باقی افراد کے ساتھ مل کر دنیا کی سب سے طاقتور قوم کو للکارنے کے لیے تیار ہو گیا، باوجود اس کے کہ میں ان کی حراست میں ہوں اور ابھی تک میرے ساتھ یہ بدسلوکی کی جا رہی ہے۔

مجھے بھوک ہڑتال کرتے چھ سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ میں مقدمہ چلائے بغیر اس قید کے خلاف پرامن احتجاج کر رہا ہوں۔ گوانتانامو بے میں ہر روز مجھے اذیت ناک طریقے سے زبردستی خوراک دی جاتی ہے۔ اس طریقے کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر ’ظالمانہ، تضحیک آمیز اور غیر انسانی‘ قرار دے چکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مجھ پر تشدد جاری ہے۔

میرے وکیل نے استغاثہ کو ثبوت فراہم کیے، جنہوں نے فیصلہ کیا اس تحقیقات کو آگے بڑھانا چاہیے لیکن پھر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے ان کے فیصلے کو بدل دیا۔

مجھے لگا تھا یہ بھی باقی سب چیزوں کی طرح ختم ہو جائے گا، جہاں طاقت ور کا قانون چلتا ہے اور امریکہ مجھ پر گوانتانامو کے ’تاریک قیدخانے‘ میں بغیر کسی روک ٹوک کے تشدد کرتا رہے گا، لیکن میں خوش ہوں کہ عالمی کریمنل کورٹ نے ثابت کیا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

میں گوانتانامو بے میں کچھ زیادہ نہیں کر سکتا۔ میں اپنی اہلیہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ میں کبھی اپنے بیٹے جواد کو نہیں چھو سکا کیونکہ وہ میرے اغوا کے بعد پیدا ہوا تھا۔ لیکن میں اپنے وکیل کے فراہم کردہ سامان سے پینٹنگ بناتا رہا ہوں۔ تو میں نے سوچا کہ میں ان ججوں کے لیے، جو ایک چیز کر سکتا ہوں وہ ان کی ہمت کو سلام پیش کرنا ہے اور میں ان کے لیے پینٹنگ بنا سکتا ہوں۔

میں اپنی اہلیہ اور بچوں کی تصاویر بناتا ہوں جس میں وہ زمین پر بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے امریکی فوجی مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گوانتانامو بے لے جا رہے ہیں۔

میں بیڑیوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑ دیا جاؤں گا۔ میرے کپڑے پھاڑ دیے جائیں گے اور پوری دنیا کے سامنے میری تذلیل کی جائے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ ان تصاویر کو عدالت کی جانب سے اس عمارت میں کہیں لگانے کا کہا جائے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ ایسے جرائم کے متاثرین کے لیے ان کے اقدامات کیا معنی رکھتے ہیں۔

یہاں ایک بڑا اصول کار فرما ہے جو کہ زیادہ ضروری ہے۔ اگر امریکہ اپنے شہریوں پر قانون کا نفاذ نہیں کرے گا جب وہ قید خانوں میں تشدد کرتے ہیں تو وہ دوسروں کو کیسے ذمہ دار ٹھہرا سکے گا؟

ہم سوال پوچھتے ہیں کہ روسی صدر ولادی میر پوتن ان لوگوں کو لندن کی گلیوں میں کیوں نہ قتل کروائے جنہیں وہ ناپسند کرتے ہیں؟ شامی صدر بشار الاسد اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیوں نہ کریں؟

میں ان لوگوں سے بدلہ لینے میں دلچسپی نہیں رکھتا، جنہوں نے مجھے کلائیوں سے باندھ کر کئی دنوں تک لٹکتا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے میرا کاندھا اپنی جگہ سے نکل گیا۔ میں یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ انہیں جیل بھیج دیا جائے۔ مجھے رقم بھی نہیں چاہیے۔

اگر وہ مجھے تشدد برداشت کرنے کے ہر سال کے بدلے 10 لاکھ ڈالرز بھی دیں تو یہ میرے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتے، لیکن مجھے صرف تین الفاظ سے خوشی حاصل ہو سکتی ہے ’ہم معافی چاہتے ہیں۔‘ مجھے خوشی ہوگی اگر میری تکالیف کو سامنے لایا جائے تاکہ کسی اور کو کبھی بھی اس ڈراؤنے خواب سے نہ گزرنا پڑے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا