’پاکستان کی 99 فیصد خواتین ان لغویات کو رد کرتی ہیں‘

’کیوں کہ ان کے نعرے دراصل یہ ہیں: ہمارا گھر، ہماری مرضی، میری تعلیم و تربیت، میری مرضی، میرا وراثتی حق، میری مرضی، جہیز کا بوجھ ہر باپ کے کندھے سے اٹھا دو۔۔ یہ ہے میری مرضی، شادی سے پہلے میری رضامندی لازمی پوچھو۔۔ یہ ہے میری مرضی۔‘

’ نہ کہ عورت مارچ کی چار گھنٹے کی تفریح مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا مخالف فریق بنا کر لا کھڑا کرے۔‘(اے ایف پی)

مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ جب تک اس گاڑی میں عزت، محبت، خلوص، اعتماد اور باہمی تعاون کا ایندھن موجود رہتا ہے، تب تک اس کو کوئی زوال نہیں۔ جونہی ان اجزا میں سے کوئی بھی کم ہوتا ہے، زندگی کا لطف ختم ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے تمام حلقوں میں 2018 میں شروع ہونے والے اور اب ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن پر منائے جانے والے عورت مارچ کے حوالے سے خوب گرماگرم بحث کا سلسلہ چل نکلا۔

کچھ لوگ اس کے شدید حامی اور کچھ اس کے شدید مخالف۔ شدت کا عنصر دونوں مکتبہ فکر میں بدرجہ اتم موجود۔ اگرچہ دونوں حلقے اب تک ایک دوسرے کو اپنا نقطہ نظر سمجھانے سے قاصر ہیں لیکن دونوں طرف سے اس بات پر باہمی اتفاق رائے موجود ہے کہ خواتین کے حقوق سے کسی کو انکار نہیں البتہ دینِ اسلام، جو عورت کو سب سے زیادہ حقوق دیتا ہے، ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے طریقہ کار میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحث میں چند اوصاف محض مردوں کے ساتھ منسلک کیے جا رہے ہیں اور چند خصوصیات صرف خواتین کے نام کی جا رہی ہیں۔ اس ناچیز نکتے پر کوئی غور نہیں کر رہا کہ اچھا یا برا انسان ہوتا ہے، کسی بھی اچھائی یا برائی کو محض ایک جنس کے ساتھ مشروط کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ کوئی انسان بھی مکمل نہیں۔ ہر شخص خطا کا پتلا ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔
پاکستان میں خواتین کی آبادی 51 فیصد ہے اور اگرچہ مذہب اور ریاستی قوانین کی رو سے خواتین کو حقوق تو بہت میسر ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ خواتین کو اپنی روزمرہ زندگی میں بےشمار مسائل درپیش ہوتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہیں مرد کی انا آڑے آ جاتی ہے تو کہیں عورت ہی عورت کے حقوق سلب کرنے آن پہنچتی ہے۔ کہیں اس کو معاشرتی مجبوریوں کی بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں تو کہیں اس کے کان میں سرگوشی کر دی جاتی ہے، ’ارے پگلی، لوگ کیا کہیں گے‘۔ کہیں جہیز کا فقدان اس کی گردن میں طوق بن کر زندگی اجیرن کرتا ہے، کہیں اس کے آگے بھائی کی محبت کی جھولی پھیلا دی جاتی ہے کہ جائیداد میں حصہ مانگنے کا مطلب ہے کہ وہ خود غرض ہے اور بھائی سے زیادہ اس کو دولت عزیز ہے۔ کہیں بیٹا پیدا نہ کر پانے کی پاداش میں طلاق کا تحفہ دے دیا جاتا ہے تو کہیں زیادہ بیٹیوں کی پیدائش اس کا عیب تصور کیا جاتا ہے۔
کہیں معاشرے کی طرف سے طے کردہ عمر تک شادی کے بندھن میں نہ بندھنا اس کی ناکامی گنی جاتی ہے تو کہیں ظالم شوہر سے مار پیٹ پر سوال کرنا گستاخی گنا جاتا ہے۔
چند دیہی علاقوں میں تو تفریق کا یہ عالم دیکھا گیا ہے کہ بچوں میں خوراک کی تقسیم بھی اس نقطہ نظر کے تحت کی جاتی ہے کہ آخر نسل تو بیٹے سے چلنی ہے نا۔ اس کی زیادہ دیکھ بھال کی جائے۔ اور بیٹی کو اس لیے زیادہ پڑھانے لکھانے کی ضرورت نہیں کہ اس نے آگے جا کر بھی کسی کا گھر ہی سنبھالنا ہے۔ کچھ لوگوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ اگر لڑکی زیادہ پڑھ لکھ گئی تو سوال کرنے لگے گی، ایسے سوال، جن کے جواب شاید یہ مرد عورت میں تفریق کرنے والا تنگ نظر معاشرہ نہ دے پائے، لہٰذا اتنا بااختیار کرنا ہی کیوں جہاں عورت اپنے اختیار سے آگاہ ہو جائے اور اختیار کو بانٹنے کا حوصلہ نہ رکھنے والے شاید لاجواب ہو جائیں۔
یہ ہیں وہ عذاب جو پاکستان کی خواتین کی اکثریت کو نہ چاہتے ہوئے بھی سہنے پڑتے ہیں۔ وہیں دوسری جانب مرد بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ کسی کو سارا دن خون پسینہ ایک کر کے گھر والوں کےلیے کما کر لانے پر بھی ’تم سے تو اتنا نہیں ہوتا ہے کہ مجھے مہنگی شاپنگ کروا دو۔ میری سہیلی کا بیگ دیکھا تھا؟ پورے 5 لاکھ کا تھا۔ پر تم تو رہنے ہی دو میاں۔ لوگوں کے شوہر محنت کرتے ہیں اور منہ مانگی چیز بیوی کے قدموں میں لا دھرتے ہیں۔ تم پتہ نہیں سارا دن کیا کرتے ہو‘ جیسے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ کہیں وہ ماں اور بیوی کے درمیان بیڈمنٹن کی چڑیا بن کر زندگی گزار رہا ہے تو کہیں وہ بیٹی کی شادی کےلیے بندوبست کرنے کی سوچ میں ہلکان ہے۔ مرد پر دہرا ستم یہ ہے کہ وہ اپنی پریشانی کسی سے کہہ کر معاشرے کے طےشدہ معیار کی خلاف ورزی نہیں کر پاتا، کیونکہ بچپن سے جو سن رکھا ہے کہ مضبوط مرد روتے نہیں۔ کاش اسے یہ سکھایا ہوتا کہ، ’مضبوط مرد رلاتے نہیں۔‘
مرد اور عورت ایک دوسرے کا درد بھی ہیں اور دوا بھی۔ عورت مارچ کی افادیت تب ہو جب یہ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کو زیادہ احسن طریقے سے سمجھنے اور ایک دوسرے پر اعتماد اور عزت کی ڈوری کو تھام پر مل کر زندگی کے مسائل کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دے۔ نہ کہ ’میرا جسم، میری مرضی‘ جیسے عجیب و غریب نعرے لگانے والی 35، 36 آدم بیزار خواتین کا ایک گروہ، جن سے شاید ان کے گھر والے خود نالاں ہوں، ان کی عورت مارچ کی چار گھنٹے کی تفریح مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا مخالف فریق بنا کر لا کھڑا کرے۔
پاکستان کی 99 فیصد خواتین ان لغویات کو رد کرتی ہیں کیونکہ انکے نعرے دراصل یہ ہیں: ’ہمارا گھر، ہماری مرضی، میری تعلیم و تربیت، میری مرضی، میرا وراثتی حق، میری مرضی، جہیز کا بوجھ ہر باپ کے کندھے سے اٹھا دو۔۔ یہ ہے میری مرضی، شادی سے پہلے میری رضامندی لازمی پوچھو۔۔ یہ ہے میری مرضی، میرا بیٹا پیدا ہو یا بیٹی، مجھے سوال کرنے کی جرات کیوں ہو کسی میں ۔۔ یہ ہے میرے اللہ‎ کی مرضی۔‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادارتی نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے اور انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ