کرونا مریضوں کے لیے آئسولیشن مرکز کیسا ہوتا ہے؟

حکومت سندھ نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے کے لیے کراچی سے کچھ دور ایک سرکاری ہسپتال کو آئسولیشن مرکز بنا دیا۔

صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے کرونا وائرس (کووڈ-19) کے مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ یا طبی طور پر علیحدہ رکھنے کے لیے کراچی شہر سے 40 کلو میٹر دور گڈاپ ہسپتال کو آئسولیشن مرکز مختص کردیا ہے۔

 یہ فیصلہ کراچی اور سندھ کے عوام کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا۔ شہر کے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کرونا متاثرین کے لیے آئسولیشن وارڈز قائم تو ہیں مگر یہاں مستقل آمد و رفت کے باعث دوسرے مریضوں کو اس وبا سے بچانا مشکل ہو گا۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی کے مطابق پرہجوم ہسپتالوں میں کرونا وائرس باآسانی دوسروں میں منتقل ہوتا ہے اس لیے حکومت نے کرونا متاثرین کو گنجان آبادی سے دور گڈاپ ہسپتال میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ ایک اچھا قدم ہے۔

50 بستروں اور 20 افراد کے سٹاف پر مشتمل اس سرکاری ہسپتال میں آئسولیشن سینٹر کا کام مکمل ہونے کے بعد جنرل او پی ڈی کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور یہاں عام افراد کی آمد و رفت ممنوع ہو گی۔

انڈس ہسپتال کی مدد سے گڈاپ ہسپتال میں موجود بیڈز کی تعداد میں اضافہ کر کے اب 120 بیڈز لگا دیے گئے ہیں۔ دو فلورز پر مشتمل اس ہسپتال میں گراؤنڈ فلور پر کرونا وائرس کے پیچیدہ مریضوں کے لیے ایک آئی سی یو یونٹ بنایا گیا ہے، جس میں ونٹیلیٹر سمیت تمام ضروری سامان موجود ہے۔

ہسپتال کے پہلے فلور پر مرد اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ وارڈز بنائے گئے ہیں جن میں سے ہر وارڈ میں تقریباً 40 سے 45 بیڈز ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گڈاپ ہسپتال آئسولیشن سینٹر میں کرونا وائرس کے کیسز کے لیے خاص طور پر تعینات سینیئر میڈیکل افسر ڈاکٹر محمد زکریا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہاں مریضوں کو 14 سے 15 دن تک میڈیکل کیئر میں رکھا جائے گا۔ ’جب تک مریض پوری طرح سے صحت یاب نہیں ہوجاتے انہیں واپس کراچی جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر مریض زیادہ ہوگئے تو بیڈز کی تعداد میں اضافہ کردیا جائے گا۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک بار یہاں کرونا وائرس کے متاثرین آنا شروع ہو گئے تو اس ہسپتال کو عام افراد اور دوسرے مریضوں کے لیے بند کردیا جائے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ جنرل وارڈز میں کرونا وائرس کے مریضوں کو علیحدہ رکھنے کے لیے پردے کیوں نہیں لگائے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ پردوں کی ضروت نہیں، صحت یاب ہونے والے مریضوں کو ویسے بھی باقی مریضوں سے علیحدہ کردیا جائے گا۔

’جہاں تک ڈاکٹروں کی بات ہے تو اس وقت 20 سے 25 ڈاکٹر ڈیوٹی پر ہیں، ان کے علاوہ 30 ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل عملہ جلد آجائے گا۔

’گڈاپ ہسپتال آئسولیشن سینٹر کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں سے آنے والے کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے تیار ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت