وہ ’خوش قسمت‘ جگہ جہاں خیبر والوں کو انٹرنیٹ سگنلز ملتے ہیں

قبائلی اضلاع میں 2016 میں فوجی آپریشن کے بعد انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا، تاہم پشاور سے چھ کلومیٹر دور ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں ریکالئی کے مقام پر انٹرنیٹ کے سگنلز موجود ہیں۔

قبائلی اضلاع میں 2016 میں فوجی آپریشن کے بعد انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔ موبائل سروس بھی کچھ وقت کے لیے بند کی گئی تھی، لیکن اسے بعد میں بحال کردیا گیا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق 2016 میں پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر جب حالات کشیدہ ہوئے تو پاکستانی آرمی کی گاڑیوں اور دیگر اسلحے کے لے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جس کے فوری بعد انٹرنیٹ کو بند کیا گیا۔

لیکن اس بندش سے علاقے کے طلبہ اور اساتذہ کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ آج کل تقریباً ہر طالب علم مطالعے کے لیے انٹرنیٹ سے معلومات اکٹھی کرتا ہے۔

طالب علم عبدالباسط کہتے ہیں کہ ’یہ اکیسویں صدی ہے، لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور ہمارے علاقے میں انٹرنیٹ نہیں ہے۔‘

لیکن پشاور سے چھ کلومیٹر دور ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں ایک مقام پر انٹرنیٹ کے سگنلز موجود ہیں۔ اس علاقے کو ریکالئی کہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس علاقے کے تقریباً تین سے چار سو کے قریب افراد خلیجی ممالک، امریکہ اور یورپ میں محنت مزدوری کے لیے گئے ہیں اور ان کے خاندان والوں کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے ان سے بات کرنا سستا پڑتا ہے، اس لیے یہاں کے باشندے اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں۔

دوسری جانب انٹرنیٹ کی وجہ سے مقامی دکانداروں کے کاروبار پر بھی بہت اچھا اثر پڑا ہے کیونکہ مقامی نوجوان انٹرنیٹ کو اس مخصوص مقام پر کنیکٹ کرکے ان دکانوں پر آکر بیٹھتے ہیں کیونکہ دیگر جگہوں پر وہ اپنے دوستوں اور رشہ داروں سے بات تو کر سکتے ہیں لیکن سوشل میڈیا ویب سائٹس کو دیکھنا برا سمجھا جاتا ہے۔

ریکالئی میں محمد خیال کی بھی دکان ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میں دکان میں 24 گھنٹے موجود ہوتا ہوں۔ میں سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے کہ فیس بک وغیرہ دیکھتا ہوں، میچز بھی دیکھتا ہوں اور خبریں اور معلومات بھی حاصل کرتا ہوں۔ بیرون ممالک میں ہمارے رشتہ دار ہیں ان سے بھی رابطہ ہوجاتا ہے۔‘

گذشتہ انتخابات میں قبائلی علاقوں کے زیادہ تر ووٹرز کا مطالبہ انٹرنیٹ کی بحالی کا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے انتخابی جلسوں کے دوران انٹرنیٹ کی بحالی کے وعدے بھی کیے تھے لیکن تا حال زیادہ تر ضم شدہ اضلاع کے افراد انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی