کرونا وائرس کے خلاف طلبہ کی ممکنہ ذمہ داری

نوجوانوں خاص طور پر طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے شہروں میں محنت کش مزدور طبقے کے لیے کھانے پینے اور کرونا وائرس سے بچاؤ کے احتیاطی اقدامات کی فراہمی یقینی بنائیں۔

کراچی یونیورسٹی کے طالبات یوم آزادی کی تیاریوں میں مصروف (اے ایف پی فائل)

پڑھے لکھے اور باشعور نوجوان کسی بھی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور اگر کسی قوم پر آفت طاری ہو تو بھی نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس آفت کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار نبھائیں۔

کرونا وائرس جیسی عالمی آفت، جس نے اب دنیا بھر کے دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور جس کے سبب ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں، چین میں موت کا رقص رچانے کے بعد ایران، اٹلی، سپین، امریکہ اور اب پاکستان بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے کے درپے ہے۔

غفلت اور غیرذمہ داری کی نشاندہی پر وقت ضائع کرنے کا ابھی کوئی موقع نہیں ہے۔ یہ وقت غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظرانداز کر کے بحیثیت قوم اس بیماری اور اس کے نتیجے میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کا ہے۔

دنیا بھر کے نوجوانوں کی کوششوں اور کاوشوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستانی نوجوان جو ملک کی مجموعی آبادی کا 65 فیصد ہیں انہیں اس مشکل مرحلے میں اپنے آس پاس اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق اس آفت اور اس سے وابستہ مشکلات پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار نبھانا ہوگا۔

معروف استاد، انسانی حقوق کے کارکن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کا فرض ہے کہ دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے راشن وغیرہ کا بندوبست کرے کیونکہ کرونا کے باعث ملک بھر میں اس وقت ہر طرح کی کاروباری، سماجی، تعمیراتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اس سے دیہاڑی دار مزدور جو پہلے ہی غربت کے ہاتھوں مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں اب ایسے حالات میں بالکل بے یارو مددگار ہو کر رہ گئے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خود اپنی تقریر میں کہا کہ ملک میں جس طرح حالات پیدا ہو رہے ہیں اس کے سبب ملک کی چھ کروڑ سے زائد آبادی کو بھوک اور قحط کا سامنا درپیش ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ حقیقت ہے کہ کوئی ایک فرد یا ادارہ کروڑوں افراد کی بھوک کو حل نہیں کرسکتا تاہم یہ بھی سچ ہے پاکستانی ریاست کے پاس بھی اس قدر استطاعت نہیں کہ وہ اپنے ملک کے غریب اور محنت کش طبقے کی جسے اس وقت  کرونا کے خلاف احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ مالی مدد کی بھی سخت ضرورت ہے، مکمل امداد کا اہتمام کر سکے یا اگر حکومت کے پاس استطاعت ہے بھی تو شاید اس ملک کے دیہاڑی دار محنت کش  کی مشکلات کا مداوا موجودہ مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

اس صورت حال میں جہاں ہر شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے صاحب حیثیت لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیے آسانیوں کا اہتمام کرتے ہوئے دیہاڑی دار محنت کشوں کے لیے بھی کوئی امداد کا اہتمام کریں وہیں نوجوانوں خاص طور پر طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے شہروں میں محنت کش مزدور طبقے کے لیے کھانے پینے اور کرونا وائرس سے بچاؤ کے احتیاطی اقدامات کی فراہمی یقینی بنائیں۔

ملک بھر میں اس وقت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پاس سرکاری سطح پر تصدیق شدہ 174 یونیورسٹیاں ہیں جو کہ سو سے زائد شہروں میں واقع ہیں۔ ان تمام یونیورسٹیز کے طلبہ کو ملک کی معروف قائد اعظم یونیورسٹی کے طلبہ سے سبق سیکھتے ہوئے ان کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے آج سے اسلام آباد بھر کے مزدوروں کو کھانا، ڈیٹول صابن، ماسک اور دیگر احتیاطی و لازمی اقدامات کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

طلبہ کی اس کاوش کے روح رواں ایک سابق قائد شبیرحسین ہیں جو اس سے پہلے بھی ’سفر مہربانی‘ کے عنوان سے قائد اعظم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل سابق طلبہ کی جانب سے دی گئی مالی امداد کے ذریعے سینکڑوں طلبہ کی فیسوں اور دیگر ضروریات میں معاونت کا فریضہ سرانجام دے چکے ہیں۔

رمضان المبارک میں ان لوگوں کی طرف سے شروع کیا گیا ’مذہبی آہنگی کا افطار دسترخوان‘ ملکی و غیرملکی میڈیا کی کوریج کے ذریعے ملک بھر میں شہرت پا چکا ہے جہاں افطار کے لیے کیے گئے اہتمام میں مسلم و دیگر مذاہب کے طلبہ ایک ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ یہ طلبہ سردیوں کے موسم میں اسلام آباد میں ایسے مسافر و مزدوروں کے لیے بستر وغیرہ کا اہتمام بھی کرتے ہیں جنہیں سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر سردیوں کی رات گزارنی پڑ جاتی ہے۔

اگر ملک بھر کی جامعات کے طلبہ اپنے اپنے شہروں میں دیہاڑی دار مزدوروں کی مالی معاونت اور خوراک کی فراہمی کا اہتمام شروع کر دیں تو ہم بحیثیت قوم آئندہ دنوں میں پڑنے والی بہت سی مشکلوں سے بچ جائیں گے۔ ایسی صورت میں جب ملک کی ریاستی مشینری کرونا وائرس سے لڑائی میں مصروف ہوگی اس وقت اگر اجتماعی سطح پر لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوگیا تو شاید ہی کوئی ہو جو اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔

قارئین کو خوفزدہ کرنا مقصود نہیں مگر اطلاعاََ عرض ہے کہ  امریکہ میں جہاں لوگ کھانے پینے کی اشیا خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں وہیں لوگوں کی بڑی تعداد اسلحہ بھی خرید رہی ہے کہ اگر بھوک بڑھ گئی  اور اشیائے خوردنوش کی فراہمی رک گئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ غریب لوگ امیروں کے گھروں پر کھانے کی خاطر حملہ آور ہو جائیں۔ امرا کا یہ خوف محض افسانہ نہیں حقیقت ہے۔

آفت کے ان دنوں میں مدد کے لیے آگے بڑھیے کیونکہ یہ انسانیت کا درس ہے۔ ہتھیار جمع کر کے اپنی خوراک کا تحفظ حیوانیت سے بھی بدتر فعل ہے۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں بھی  بحیثیت قوم ہفتہ یا مہینہ بھر کے راشن کے ساتھ چند رائفلیں اور گولیاں بھی خریدنے کی ضرورت پڑ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس