کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جراثیم کش سپرے کتنا فائدہ مند ہے؟

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں جراثیم کش سپرےکیا جا رہا ہے۔ مشیر برائے بلدیات کا کہنا ہے کہ یہ سپرے عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق ہے اور اس سے کافی حد تک وائرس کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اہلکار صوبائی سیکٹیریٹ میں سپرے کر رہے ہیں۔ کامران بنگش کا کہنا ہے کہ یہ سپرے پورے صوبے میں کیا جائے گا لیکن جن جگہوں کو زیادہ ضرورت ہے ان کو زیادہ ترجیح دی جائے گی (اے ایف پی فائل)

دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر ایک نیا قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں عوامی مقامات میں جراثیم کش سپرے کیا جا رہا ہے تاکہ در و دیوار یا ہوا میں موجود کرونا کے جراثیم کو ختم کیا جا سکے۔

سوال یہ ہے کہ اس سپرے میں ایسا کیا شامل ہے جس سے اس خطرناک انوکھے وائرس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کیا اس کی کوئی ٹیسٹنگ ہوئی ہے اور کیا یہ اس قدر موثر بھی ہے کہ نہیں؟

یہ جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے کامران بنگش سے رابطہ کیا جو اس وقت صوبے میں محکمہ بلدیات کے سربراہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں  اور جن کے احکامات پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

کامران بنگش نے بتایا کہ اس سپرے میں جو مائع ہے وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار کے مطابق ہے، جس سے بہت حد تک اس وائرس کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سپرے میں کلورین اور متھانول کا فارمولا ڈالا گیا ہےِ اور سات ہزار لیٹر  پانی میں 35 گرام کلورین اور دو اعشاریہ ایک لیٹر متھانول شامل ہے۔

’یہ دونوں مرکبات جراثیم کش ادویات کے طور پر مشہور ہیں۔ جس طرح کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہاتھوں کو دھویا جاتا ہے، اسی طرح ہم عمارتوں، گلی کوچوں اور بازاروں کو اس محلول سے دھو رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کامران بنگش کا مزید کہنا ہے کہ جہاں جہاں قرنطینہ مراکز ہیں وہاں خاص طور پر یہ سپرے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’جیسے ہی یہ وائرس پاکستان میں پھیلنے لگا تو میں نے فوراً اپنے سٹاف کو کہا کہ ان مرکبات کو ضرورت کے حساب سے لاہور سے منگوا کر سٹور کیا جائے۔ جیسے ہی ہمارے صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے لگی، ہم نے سوچا کہ اب یہ صحیح وقت ہے کہ ہر جگہ سپرے کیا جائے۔‘

کامران بنگش کا کہنا ہے کہ یہ سپرے پورے صوبے میں کیا جائے گا لیکن جن جگہوں کو زیادہ ضرورت ہے ان کو زیادہ ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سپرے صرف عوامی مقامات پر کیا جا رہا ہے۔

جراثیم کش سپرے کا استعمال کرونا وائرس کے حوالے سے دیگر ممالک میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ یہاں تک کہ چین اور انڈونیشیا کے ہوائی اڈوں کی کچھ ایسی ویڈیوز بھی منظرعام پر آئی ہیں، جن میں مسافروں کے اوپر سپرے کیا جا رہا ہے۔

تاہم چونکہ جراثیم کش سپرے میں اکثر ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو ماہرین کے مطابق انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہوتے ہیں لہذا طب کے طالب علم اور باشعور سوشل میڈیا صارفین نے ان ویڈیوز کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کیا جراثیم کش سپرے واقعی کرونا وائرس سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے؟

کرونا وائرس کی وبا کے سامنے آنے کے بعد دیکھا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جگہ جگہ سپرے کیا جارہا ہے، جن میں بلیچ اور الکوحل کے مختلف مرکبات کو ڈالا جا رہا ہے۔ جیسے کلورین، متھانول، سوڈیم ہائپوکلورائڈ وغیرہ۔  یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ جراثیم کش مرکبات کرونا وائرس کی دبیز تہہ کو توڑ کر اس کا اثر ختم کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق، کرونا وائرس ہوا میں تین گھنٹے تک موجود رہتا ہے جب کہ سٹین لیس سٹیل اور پلاسٹک پر یہ تین دنوں تک رہتا ہے۔

امریکی جریدے ’سائنس‘ کے ایک آرٹیکل میں ہیلتھ سائنٹسٹ ہوان لیون کا کہنا ہے کہ ابھی تک یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ جراثیم مارنے والے مرکبات کرونا وائرس کو شکست دینے میں مدد دے بھی سکیں گے یا نہیں۔

’وجہ یہ ہے کہ جو سپرے کیے جارہے ہیں ان میں بلیچ شامل ہوتا ہے اور بلیچ بذات خود جب الٹرا وائلٹ شعاعوں میں جاتا ہے تو پھٹ جاتا ہے اور کسی کام کا نہیں رہتا۔ تاہم ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ کرونا وائرس بھی الٹرا وائلٹ شعاؤں کے سامنے ٹک نہیں سکتا اور ختم ہو جاتا ہے۔‘

اگر سائنسدان لیون کی بات مان لی جائے تو امید ظاہر کی جا سکتی ہے کہ گرمیوں میں اس وائرس کا زور ٹوٹ جائے گا، کیونکہ الٹرا وائلٹ شعائیں گرمیوں کے موسم میں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔

احتیاط:

اس رپورٹ میں بتائے گئے مرکبات کو گھر پر خود بنانے سے اجتناب کیا جائے کیونکہ ان میں ذرا سی غلطی انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں یہ الکوحل اور بلیچ کی عام اقسام نہیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت