ماسک پہنیں یا نہ پہنیں؟ امریکہ کا متوقع یو ٹرن

بیماریوں کی روک تھام کے معتبر امریکی ادارے سی ڈی سی نے کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ہدایت دی تھی کہ عام لوگوں کو کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اب بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ بدلنے پر غور کر رہے ہیں۔

کوئی تو وجہ ہے کہ جنوبی کوریا میں ہر کوئی ماسک پہنے نظر آتا ہے (روئٹرز)

دس مارچ کو امریکی ریاست واشنگٹن کی سکاگٹ کاؤنٹی کے ایک چرچ میں مذہبی مناجاتیں گانے والے گروپ نے فیصلہ کیا کہ انہیں معمول کا ریاض جاری رکھنا چاہیے۔

اس کاؤنٹی میں ابھی کرونا (کورونا) وائرس نہیں پہنچا تھا اس لیے انہیں زیادہ تشویش نہیں تھی۔ مقررہ وقت پر 60 افراد ماؤنٹ ورنن کے پریس بائٹرین چرچ پہنچ گئے۔ انہوں نے احتیاطاً ہاتھ نہیں ملائے اور گانوں کی مشق کرتے ہوئے آپس میں فاصلہ بھی برقرار رکھا۔ اس دوران نہ کوئی کھانسا نہ کسی کو چھینک آئی۔ ڈھائی گھنٹے تک ایک ہال میں گیت گانے کے بعد رات نو بجے سبھی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔

تین ہفتے بعد پتہ چلا کہ ان 60 میں سے 45 افراد کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، تین ہسپتال میں داخل ہیں اور دو دم توڑ چکے ہیں۔

اس واقعے کے بعد دو باتیں واضح ہو گئی ہیں کہ کرونا وائرس کو پھیلنے کے لیے ہاتھ ملانا یا بہت قریب رہنا ضروری نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ظاہری علامات کے بغیر بھی وائرس ایک شخص سے دوسرے تک ہوا کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی دوران امریکہ میں اس بحث کو ہوا ملی ہے کہ آیا کرونا وائرس کی عالمگیر وبا کے دوران ہر شخص کو ماسک پہننا چاہیے یا نہیں۔

بیماریوں کی روک تھام کے امریکی ادارے سی ڈی سی اور عالمی ادارۂ صحت دونوں یہ کہہ چکے ہیں کہ ماسک صرف طبی عملے اور مریضوں کو پہننا چاہیے، عام لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کر کے ہر شخص کو ماسک پہننے کا مشورہ دینے پر غور کر رہے ہیں۔

’کھلا تضاد‘

امریکہ میں صحت کے بارے میں سرکاری ترجمان سرجن جنرل ہوتا ہے۔ اس نے پچھلے ماہ ایک ٹویٹ کے ذریعے لوگوں کو ہلکے پھلکے انداز میں مشورہ کیا تھا کہ وہ ماسک نہ خریدیں:

’لوگو، ماسک خریدنا بند کر دو! یہ عام لوگوں کو کرونا وائرس کا شکار ہونے کے لیے موثر نہیں ہیں، لیکن اگر طبی عملہ انہیں بیماروں کی مدد کے لیے حاصل نہ کر سکے تو اس سے وہ خود اور ہمارا معاشرہ خطرے میں پڑ جائے گا!‘

بہت سے لوگوں نے نشاندہی کی کہ اس ٹویٹ میں ’کھلا تضاد‘ موجود ہے۔ اگر ماسک طبی عملے کو بیمار ہونے سے بچا سکتا ہے تو عام لوگوں کو کیوں نہیں؟

دوسری طرف اس بات میں بھی زیادہ وزن نظر نہیں آتا کہ صرف مریضوں کو ماسک پہننا چاہیے۔ اوپر چرچ والی مثال کے علاوہ حالیہ ہفتوں میں کئی اور رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے لوگوں میں علامات ظاہر ہونے میں پانچ دن سے دس دن لگ سکتے ہیں لیکن اس دوران وہ دوسرے لوگوں میں وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ بعض لوگوں میں سرے سے کسی قسم کی کوئی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں، تو پھر انہیں کیسے پتہ چل سکے گا کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں ماسک پہن کر دوسروں کو بیمار کرنے سے بچانا چاہیے؟

علامات کے بغیر بیماری کی منتقلی

انڈپینڈنٹ اردو نے حال ہی میں سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا انٹرویو کیا، جن میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے اندر نہ کھانسی نہ بخار نہ سانس کی تکلیف، کسی قسم کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔ وہ تو وزیر ہیں اس لیے انہوں نے ٹیسٹ کروا لیا، لیکن ہر شخص نہ تو ٹیسٹ کروا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ملک کے پاس اتنی سہولیات موجود ہیں کہ وہ ہر شہری کا ٹیسٹ کروائے۔

سیول کی یونیورسٹی کالج آف میڈیسن میں متعدی بیماریوں کے پروفیسر اور جنوبی کوریا کے ممتاز کرونا ماہر پروفیسر کم وو جُو کہتے ہیں کہ ’مغرب میں لوگ ماسک پہنے نظر نہیں آتے، مجھے یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے۔ امریکی سرجن جنرل اور عالمی ادارۂ صحت دونوں کہتے ہیں کہ لوگوں کو ماسک کی ضرورت نہیں، لیکن میں اس سے اختلاف کروں گا۔۔۔ اگر ماسک فائدہ مند نہ ہوتے تو ہسپتالوں میں ڈاکٹر کیوں پہنتے؟‘

پروفیسر جُو کے مطابق ’جنوبی کوریا میں کرونا وائرس تیزی سے نہ پھیلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر کوئی ماسک پہنتا ہے اور ہاتھ دھوتا ہے۔‘

آپ چین، جنوبی کوریا، سنگاپور، جاپان، ہانگ کانگ کی سڑکوں کی تصویریں دیکھیں تو ہر کسی کے منہ پر ماسک بندھا نظر آئے گا۔ اس کے مقابلے پر یورپ اور امریکہ میں لوگوں کی اکثریت اب بھی کھلے منہ گھومتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔

دوسری طرف دنیا کا نقشہ دیکھیں کہ کن ملکوں نے کرونا وائرس کی وبا پر کسی حد تک بند باندھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور کون سے اس کی یلغار تلے دبے ہوئے ہیں تو یہ تقسیم مزید نمایاں ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔

امریکہ میں عوام کو ماسک نہ پہننے کی تاکید کے پیچھے غالباً یہ خدشہ نظر آتا ہے کہ صحت مند لوگ غیر ضروری طور پر ماسک گھروں میں اتنی مقدار میں ذخیرہ نہ کر لیں کہ طبی عملے کے لیے ان کی قلت نہ ہو جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ماسک پہننے کا کوئی فائدہ نہیں۔

لیکن ماسک کون سا پہننا چاہیے، طبی ماسک این 95 یا عام سرجیکل ماسک سے بھی گزارا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے تھوڑی سی سائنس جاننا ضروری ہے۔

قطرہ یا ذرہ، سائنس کیا کہتی ہے؟

آپ نے کرونا وائرس کی ایک شخص سے دوسرے کو منتقلی کی خبروں میں دو لفظ سنے ہوں گے، ایک قطرہ ہے اور دوسرا ذرہ یا ایروسول۔

  • قطرہ (droplet)

جب کوئی کھانستا ہے، چھینکتا ہے تو اس کے منہ سے پانی کے مہین قطرے نکل کر آس پاس کی فضا میں پھیل کر تھوڑی دیر بعد زمین پر گر جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ باتیں کرنے کے دوران بھی تھوک کے باریک قطرے منہ سے نکلتے رہتے ہیں، کسی کے منہ سے کم اور کسی سے زیادہ۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت کے مطابق عام طور پر ان قطروں کا سائز پانچ مائیکران سے زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک میٹر کے فاصلے تک ہوا میں سفر کرنے کے بعد زمین پر گر جاتے ہیں۔

  • ذرہ (aerosol)

اس کے مقابلے پر ذرے  پانچ مائیکران سے چھوٹے ہوتے ہیں جو ہلکے ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر تک ہوا میں معلق رہ سکتے ہیں اور دور تک سفر کر سکتے ہیں۔  

’مغرب میں لوگ ماسک پہنے نظر نہیں آتے، مجھے یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے۔ امریکی سرجن جنرل اور عالمی ادارۂ صحت دونوں کہتے ہیں کہ لوگوں کو ماسک کی ضرورت نہیں، لیکن میں اس سے اختلاف کروں گا۔۔۔ اگر ماسک فائدہ مند نہ ہوتے تو ہسپتالوں میں ڈاکٹر کیوں پہنتے؟: پروفیسر کم وو جو

چونکہ کرونا وائرس نیا ہے اس لیے اس کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ عام فلو کے وائرس کی طرح صرف مریضوں کے منہ یا ناک سے نکلنے والے پانی کے ننھے قطروں کے ذریعے دوسروں تک منتقل ہوتا ہے یا پھر خسرہ کے وائرس کی طرح انتہائی باریک ذرات کی شکل میں پھیلتا۔

یہ جاننا اس لیے اہم ہے کہ اگر کرونا وائرس ذرات کی شکل میں منتقل ہوتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے عام ماسک بالکل بےکار ہیں، کیوں کہ یہ ذرے سرجیکل ماسک سے بھی آسانی سے گزر سکتے ہیں، اور ان سے بچنے کے لیے این 95 ماسک ضروری ہے۔

دوسری طرف اگر وائرس قطروں کے ذریعے پھیلتا ہے تو پھر عام ماسک سے بھی بچت ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں وبائی امراض کے ماہر پروفیسر اوٹو یانگ نے ’لائیو سائنس‘ کو بتایا کہ اگرچہ ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس ایروسول کی شکل میں ہوا میں معلق رہ سکتا ہے مگر یہ تحقیق لیبارٹری میں کی گئی تھی جہاں سائنس دانوں نے مشین کے ذریعے وائرس کے ذرات چھوڑنے کا تجربہ کیا تھا۔ لیکن اس کے مقابلے پر کو وڈ 19 کے مریضوں کے منہ سے اتنی مقدار میں وائرس کے ذرے نکلنا محال ہے۔

ڈاکٹر یانگ نے کہا کہ سارس وائرس کے بارے میں حتمی طور پر معلوم ہے کہ وہ قطروں کی صورت میں منتقل ہوتا ہے، اور حالیہ کرونا وائرس اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے قوی امکان ہے کہ اس کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ بھی قطرے ہی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ عام سرجیکل ماسک بھی کرونا وائرس سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی بڑھتی ہوئی تعداد اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ ماسک پہننے کا فائدہ ہے، اور توقع ہے کہ مغربی ادارے اس بارے میں جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کر لے۔ 

لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ماسک پہن کر لوگ دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکل جائیں اور سماجی دوری اور ہاتھ دھونے جیسی ناگزیر ہدایات پر عمل کرنا چھوڑ دیں۔ ماسک اضافی تحفظ دے سکتا ہے، دوسری احتیاطوں کا نعم البدل نہیں ہے۔

ماخذ: سی این این، این بی سی، گارڈین، لائیو سائنس، ایشین باس یو ٹیوب چینل (پروفیسر جو کا انٹرویو)، ایٹلانٹک میگزین، بزنس انسائیڈر

زیادہ پڑھی جانے والی صحت