چڑیا مجھے قرنطینہ میں قید دیکھ کر کیا سوچتی ہو گی؟

وہ سوچتی ہے کہ ہمارے علاقے ہمیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے یا زندگی کا دائرہ مزید تنگ کرنے کے لیے اشرف المخلوقات نے پھر کوئی چال چلی ہے؟

ہمارے ہونے نے پرندوں کے معاشرے میں کتنا خوف ہراس پھیلادیا(پکسا بے)

کرونا (کورونا) وائرس نے ابھی پاکستان کی طرف پیش قدمی نہیں کی تھی۔ اُس شہر کی سہم ناکیاں سمجھنے میں ابھی وقت تھا، جس کی فصیل پر موت بال پھیلائے بیٹھی تھی۔

ابھی کچھ دن تھے اُس ڈاکٹر کی خاموشیوں کا اندازہ کرنے میں، جو یہ سوچ رہا تھا کہ مریض کو زندگی دینے کا صلہ کیا اب مجھے موت کی صورت میں ملے گا۔

یہ وہ دن تھے جب بادلوں نے مرگلہ کی چوٹیوں کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا اور شہرِ اقتدار مسلسل بھیگ رہا تھا۔ شہر چار دن سے جھل تھل ایک تھا اور سردی کا نقطہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ دوپہر کا وقت گہری شام کے منظر میں ڈھلا ہوا تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ گھاس کا ایک تنکا چونچ میں پکڑی ایک چڑیا پھڑ پھڑاتی ہوئی آئی اور ہمارے گیزر کی اوٹ میں اتر گئی۔

غور کیا تو گھاس کا ایک بڑا ذخیرہ پہلے سے وہاں موجود تھا، جو ظاہر ہے اسی چڑیا نے باد وباران کی مشکل منزلیں عبور کر کے یہاں تک پہنچایا تھا۔ مدت سے تنکہ تنکہ جوڑ کر یہ اپنا آشیانہ کر رہی تھی۔ ہزار درد یکجا کر کے مِیر نے جس طرح دیوان کیا تھا۔

اس کا سیدھا سا مطلب یہی تھا کہ وبا کے دنوں میں پنچھیوں کو محبت ہو گئی ہے، زُلف سر کرنے کے لیے اب وہ شبستان تعمیر کر رہے ہیں۔ یعنی راول جھیل کی ٹھنڈی شاموں میں چونچ لڑانے والے جوڑے نے دور ایک گیزر کی اوٹ میں کسی گرم علاقے کا انتخاب کر لیا ہے۔   

خیال یکایک اُن چڑیوں کی طرف چلا گیا جنہوں نے قلعہ احمد نگر کی اُس کال کوٹھڑی میں گھونسلہ بنا لیا تھا جہاں برطانوی استعمار نے ابوالکلام آزاد کو قید رکھا ہوا تھا۔ چڑیوں کا چہچہانا کسے برا لگتا ہے، مگر لکھتے وقت یہ حضرتِ آزاد کی یکسوئی کو متاثر کرتی تھی۔

گھونسلے سے گرنے والے تنکے اور گرد ایک نازک مزاج قیدی کے لیے الگ سے وبالِ جان تھا۔ مولانا نے ہوا پیمائیوں کو کچھ دن تو ٹھنڈے پیٹوں بردشت کیا، مگر اڑانیں حد سے گزریں تو ناریل چٹخ گیا۔ سامان سے چھتری نکالی اور اعلانِ جنگ کر دیا۔ سرد جنگ کو گرم تعاقب میں بدل تو دیا مگر دستیاب سامانِ جنگ پر بھروسہ غلط ثابت ہوا۔ کہاں فضائی دستوں کی چُست اڑانیں اور کہاں چھتری کی نارسائیاں۔

حضرتِ آزاد ایک بانس اٹھا کر لائے، کافی دیر تک محاذ گرم رکھنے کے بعد دشمن کو پسپا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اِس بار مولانا نے سرحدوں کے اُس پار تک حریف کا تعاقب کیا۔ فضاؤں میں دور تک اطمینان پھیل گیا تب کہیں لوٹ کے مولانا مورچے کو آئے۔ ابھی کمر کھولی نہیں تھی کہ فضائیہ پھر سے سر پہ منڈلاتی ہوئی محسوس ہوئی۔

جب تک مولانا سر اٹھا کے دیکھتے، وہ مفتوحہ علاقہ واپس اپنے قبضے میں لے چکی تھی۔ مولانا نے خواستہ نخواستہ ساری کُمک جمع کی اور فیصلہ کن جنگ کا طبل بجا دیا۔ تابڑ توڑ حملے کیے، ایک ایک سپاہی کا تعاقب کیا، ترکش میں جتنے تیر تھے سارے آزما لیے، جتنی جنگی چالیں تھیں سب لڑا لیں مگر گوریلا لڑاکوں سے کب کوئی جیتا ہے۔ انجامِ کار مولانا نے ہتھیار ڈال دیے۔

تشدد، دھونس، مار دھاڑ اور ملٹری آپریشن کے ذریعے کمزور فریق کو دبانے کی کوشش میں اور کچھ نہیں ہوتا، ایک دن اپنے ہی پاؤں اکھڑتے ہوئے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ عقل مند وہی ہے جو کمزور فریق کے ساتھ بات کرے، اس کے جینے اور رہنے کے حق کو تسلیم کرے، اس کو ملکیت، اپنائیت اور شراکت کے احساس میں مبتلا کرے۔

محرومیوں کا ازالہ نہیں ہوتا تو خانہ جنگی اور افرا تفری کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ خطرہ جب تک برقرار رہتا ہے اعصاب، مزاج اور خزانے پر بوجھ رہتا ہے۔ سیانے لوگ چھوٹی سی ایک بات کو جنگ کا بڑا سا میدان بنا کر اپنے وسائل نہیں جھونکتے۔ مولانا کو بات سمجھ آ گئی، ہتھیار رکھے اور دُکھوں کے ازالے کے لیے آب و دانے کا بندوبست کر لیا۔

روازانہ کی بنیاد پر وہ دری پر دانے ڈالتے گئے، ایک ہی دسترخوان سبھی کے لیے سجاتے  گئے، اپنے رویے سے آشیانے کے تحفظ کی ضمانت دیتے گئے، محبت کا دائرہ پھیلاتے گئے، جو بات بگڑی تھی وہ پھر سے بناتے گئے اور رفتہ رفتہ وہ ہستی کا سامان ہو ہی گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بغاوت کا ماحول ہرو برو ہو گیا، بیرونی مداخلت کا امکان ختم ہو گیا، تیسرا ہاتھ  بے روزگار ہو گیا، علاقہ دو لخت ہونے سے بچ گیا اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال قابو میں آ گئی۔

ہم نے گیزر کی چھاؤں میں بنے آشیانے کو پھونکنے کی بجائے تعمیر میں حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ حصہ بھی کیا ڈالنا تھا بس یہ یقین دلانا تھا کہ ہم نکاح نامہ طلب کریں گے اور نہ تجاوزات کے نام پر تعمیر میں رخنے ڈالیں گے۔ ویسے بھی یہ علاقہ چڑیوں کا ہی تو ہے، ہم تو مسلط ہونے والا جارح لشکر ہیں جس نے دوسروں کی زمینوں پر اپنی کالونیاں تعمیر کر دی ہیں۔

ہم نے باہر سے آ کر اندر والوں سے مالیہ وصول کیا ہے۔ ہم نے ان کی تہذیب میں رخنے ڈالے ہیں، ہم نے موسموں کی چال بدلی ہے، ماحول کو ہم نے آلودہ کیا ہے، زمینیں ہم نے اجاڑی ہیں، پانی ہم نے ضائع کیا ہے، سبزے پر زہر ہم نے چھڑکا ہے، دریا ہم نے سکیڑے ہیں، سمندر میں زہر ہم نے گھولا ہے، فضاؤں میں گرد ہم نے اڑائی ہے، ہواؤں میں برقی لہریں ہم نے چھوڑی ہیں، جنگلوں میں آگ ہم نے لگائی ہے، درخت ہم نے اکھیڑے ہیں، پہاڑ ہم نے ادھیڑے ہیں، دھواں ہم نے چھوڑا ہے، بارود ہم نے بچھایا ہے، چاند تاروں پر کالک ہم نے ملی ہے، زمین اور سورج کا فرق ہم نے ختم کیا ہے۔

ہماری کیا اوقات کہ ہم چڑیوں کا آنگن ناپنے کی کوشش بھی کریں۔ حساب کتاب پر آئے تو انسانی سامراج کے لیے پانی کی ایک ایک بوند کا اور گھونسلے کے ایک تنکےکا حساب دینا مشکل ہو جائے گا۔

کیا کرونا وائرس کو کبھی علم ہو پائے گا کہ یونہی گزرتے گزرتے کتنے ستم اس نے ڈھا دیے تھے۔ اُس کی آمد سے رن کچھ ایسا کانپا تھا کہ لوگ سہم کر دیواروں سے لگ گئے تھے۔ پہیے سے پہیہ ملا کر جن شاہراہوں پر گاڑیاں دوڑتی تھیں وہاں سناٹے بول رہے تھے۔ لوگوں نے آمد و رفت، نقل وحمل،  کام کاروبار، میل ملاپ سب معطل کر دیا تھا۔

شاہ و گدا، امیر و فقیر، طبیب و مریض سب اپنے ہی سائے سے گھبرائے ہوئے تھے۔ ہاتھ ملانے، منہ لگانے اور  گلے ملنے سے بھی دنیا رہ گئی تھی۔ خواب گاہوں تک میں وحشتیں پھیل گئی تھیں۔ کوچہ و بازار سنسان تھے، مے خانے اور عبادت خانے ویران تھے، لوگوں میں فاصلے اور ذہنوں میں خدشے تھے۔ یعنی ہزاروں سال تک انسان نے بول چال، حال احوال، میل جول، خیر خبر اور لین دین کی جو ثقافت تلقین کی تھی، ایک صبح اٹھے تو اس کے بالکل برعکس زندگانی تجویز کر رہے تھے۔    

میں نے کچھ دیر چڑیا کی چھوٹی سی آنکھ میں بیٹھ کر بڑے سے انسان کو غور سے دیکھا۔ پھر واپس اپنی جگہ بیٹھ کر کرونا کا تصور کیا۔ کرونا کی جو تصویر ابھر کے سامنے آئی وہ حضرتِ انسان کی صورت سے زیادہ بھیانک نہیں تھی۔ کبھی ہمیں اندازہ ہو پایا کہ آتے جاتے ہم نے کسی کی دنیا میں کتنی قیامتیں ڈھا دی ہیں؟

ہم جان پائیں گے کہ ہمیں دیکھ کر چوپائے سہم کیوں جاتے ہیں اور پرندے اڑ کیوں جاتے ہیں؟ کبھی پتہ چل سکے گا کہ ہم نے راستے نکالتے ہوئے کتنے آشیانے اجاڑ دیے اور گھر بساتے ہوئے کتنے نشیمن پھونک دیے۔ ہمارے قدموں کی آہٹ سن کر بے زبان کیوں اپنے بچوں کو گود سے پھینک کر بھاگ جاتے ہیں۔

ہمارے شوق نے کتنے فاصلے کھڑے کیے اور ہمارے ہونے نے پرندوں کے معاشرے میں کتنا خوف ہراس پھیلایا۔ ہمارے علم وفہم سے جانوروں کے رزق پر کتنا فرق پڑا اور ہمارے عظیم منصوبوں نے کتنی نسلیں نایاب کر دی ہیں۔

کرونا نے بہت ظلم ڈھائے ہوں گے، مگر ایسا تو کبھی نہیں کیا ہو گا کہ چڑیوں کے ایک جھنڈ کو پنجرے میں قید کرے، پھر سڑک کنارے کھڑے ہو کر دنیا سے کہے کہ خدا کو خوش کرنا ہو تو آؤ میری مٹھی گرم کرو اور اِن چڑیوں کو آزاد کر دو۔ کرونا کتنا ہی ذہین ہو جائے، کتنا ہی پڑھ لکھ لے، کیا وہ اپنے گناہ کو ثواب بنا کر بیچنے والا کوئی خیال تخلیق کر سکتا ہے؟

ایسی بستی میں چڑیا کسی انسان پر بھروسہ کرے بھی تو کیوں کرے۔ طبعیت بہت اندر کہیں شرمندہ سی ہوجاتی ہے جب چڑیا ہاتھ میں چاول کے دانے دیکھ کر بھی اعتبار نہیں کرتی۔ محبت اور ہمدردی کے سارے اظہاریے آزما لینے کے بعد بھی لگتا ہے وہ گردن جھٹک کر کہہ رہی ہو، خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا؟  

عرفان عرفی کی کہانی ’چڑیا‘ میں ایک بیٹی کا باپ روز چڑیوں کو پنجرے میں قید کرتا ہے، سڑک پر جاتا ہے اور انہیں آزاد کروا کر پیسے دو پیسے جوڑ لیتا ہے۔ بیٹی روز انتظار کرتی ہے کہ بابا واپس آئیں گے تو میں پنجرے میں بچ رہنے والی چڑیوں کے ساتھ کھیلوں گی۔ ایک شام پنجرے میں قید چڑیا کو دیکھتے دیکھتے اچانک بیٹی کو ایک خیال آیا اور اس کا ننھا سا دل لہو سے بھر گیا۔ سوچنے لگی، میں بھی تو گھر کے پنجرے میں قید ایک چڑیا ہوں جو اڑ نہیں سکتی۔

گیزر کی اوٹ میں آشیانہ ابھی زیر تعمیر ہے۔ عشق و مستی کا جہاں آباد ہونے میں ابھی وقت ہے۔ تعمیر کا یہ سودا پورا ہو جائے تو پوری کہانی میں آپ کو سناؤں گا۔ ابھی تو معاملہ یہ ہے کہ نئے پڑوسیوں سے رسم و راہ کیسے بڑھائی جائے۔ بات یہاں تک ضرور پہنچ گئی ہے کہ چاول ہاتھ میں دیکھ کر چڑیا اب گھبرا کے اڑتی نہیں ہے، مگر بے اعتباری کے واضح اشارے وہ اب بھی دیتی ہے۔

ایک قدم بڑھاتی ہے، بڑھاتے ہی دو قدم پیچھے ہوجاتی ہے۔ ایک آنکھ میں الفت کے دیے جل پڑے ہیں، دوسری آنکھ کے اندیشے بھی مگر کچھ بول رہے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے شاید اسے وقت درکار ہے کہ باندھنا اور باندھ کر کھولنے کی وہ روایت کیا ہوئی۔ آج کل فضاؤں میں اتنا سکون، جنگل میں اتنا قرار، ماحول میں اتنا اطمینان اور مزاجوں میں اتنا ٹھہراؤ کیوں ہے؟

ایسا کیا ہوا کہ نیلا آسمان اب صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ ہوا اتنی کِھلی کِھلی سی کیوں ہے اور فضا اتنی دُھلی دُھلی سی کیوں ہے۔ چشمِ حیراں دور کہیں طور پر رکھی ہوئی تختی اتنی آسانی سے کیسے پڑھ پا رہی ہے۔ پانیوں کے رنگ اور ذائقے اتنے بدل کیسے گئے ہیں۔ ہمارے رقبے ہمیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے یا زندگی کا دائرہ مزید تنگ کرنے کے لیے اشرف المخلوقات نے پھر کوئی چال چلی ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟

عرفان عرفی کی کہانی میں بیٹی نے چڑیا کو پنجرے میں قید دیکھ کر کچھ سوچا تھا۔ میں آزاد چڑیا کو دیکھ کر سوچ رہا ہوں کہ مجھے قرنطینہ میں قید دیکھ کر یہ کیا سوچتی ہو گی۔     

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ