جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

ہماری عدالت عظمی میں ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ ابھی بھی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔

(اے ایف پی)

کہا جاتا ہے کہ ہر اچھے کام کی سزا ضرور ملتی ہے۔ یہی سزا پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کی تاریک صبح راولپنڈی جیل میں پھانسی کی صورت میں دی گئی۔

انہوں نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا جو کہ اب بھی تقریبا 47 سال کے بعد مختلف شرارتوں اور ملاوٹوں کے باوجود قائم ہے۔ اور بہت سارے مہم جووں کی خواہشات کے باوجود ان میں جرات نہیں ہوئی کہ اس کو ختم کر دیں یا مکمل طور پر تبدیل کریں۔ اس قومی یکجہتی کو قائم رکھنے کی دستاویز بنانے کے کارنامے کی سزا تو اس کے معمار کو ضرور ملنا تھی۔

وزیر اعظم بھٹو نے 90 ہزار قیدیوں کو بھارتی قید خانوں سے رہائی دلوائی اور انہیں اپنے خاندانوں سے واپس ملایا۔ انسانیت کی یہ عظیم خدمت یقینا سزا کے لائق تھی سو وہ ہمارے وزیراعظم ہنسی خوشی قبول کرتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول گئے۔

1971 کی جنگ میں بھارت نے مغربی پاکستان میں 13 ہزار مربع میل کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا جسے ایک کامیاب سفارت کاری کے بعد واگزار کرایا گیا۔ پاکستانی مفتوحہ علاقے جنگ کے صرف کچھ ماہ بعد واپس لینا یقینا ایک بہت بڑی بین الاقوامی سفارتی کامیابی تھی اور اس کے لیے وزیر اعظم بھٹو کو سزا دینا لازم تھا سو وہ کسی بھی معافی کی اپیل کیے بغیر تختہ دار کی طرف روانہ ہوئے۔

انہوں نے شکست خوردہ ملک اور قوم کو سہارا دیا اور ان میں شکست اور ملک کے ٹوٹنے سے مایوسی کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ ایسی کرشمہ ساز شخصیت کو اس عظیم جدوجہد اور اس میں کامیابی کا معاوضہ تو ادا کرنا تھا۔

مسلمان ملکوں میں اتحاد، ان کی بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنا اور اسلامی ممالک کی تنظیم کا لاہور میں اجلاس بلا کر پاکستان کا نام شکست اور ٹوٹنے کے صرف دو سال بعد بلند کرنا ایک اور بڑا کارنامہ تھا جو کہ قابل سرزنش تھا اور جیل کی تاریکی میں تختہ دار کا حقدار بنا۔

فوج کی ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ کو سرعام نہ کرنا وزیر اعظم بھٹو کا ایک اور دانائی پر مبنی فیصلہ تھا۔ اس سے فوج کے وقار اور اعتماد میں اضافہ ہوا لیکن ایک منتقم المزاج جنرل اسے سمجھنے سے قاصر رہا اور افواج پاکستان کے محسن کو تختہ دار کر راستہ دکھایا۔

شکست خوردہ ملک کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ایٹمی طاقت بننے کا عزم اور اس پر تیزرفتاری سے کام ایک اور بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کے لیے جدوجہد اور مالی و انسانی وسائل کی فراہمی جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بننے میں اہم کردار ادا کیا یقینا قابل سرزنی تھا سو وہ سر، ذوالفقار علی بھٹو نے پیش کر دیا۔

عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وزیر اعظم بھٹو کا ایک اور کارنامہ تھا۔ اپنے قیادتی کردار اور عرب ملکوں کے سربراہوں سے ذاتی دوستانہ تعلقات کی وجہ سے وہ پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک لاکھوں نوکریوں کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوئے جس سے نہ صرف ملک میں سماجی خوشحالی کا ایک دور شروع ہوا بلکہ ملکی معیشت کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہونا شروع ہوگیا۔ اس قومی ترقیاتی منصوبے کا خالق یقینا کم ازکم سزائے موت کا تو حق دار تھا۔

عوام کو سستی رہائش مہیا کرنے کے منصوبے وزیر اعظم بھٹو کی ایک اور بہت بڑی کامیابی تھی۔ کئی شہروں میں نئی آبادیاں قائم کی گئیں اور عوام کو بہتر رہائشی سہولتیں مہیا کی گئیں۔ صرف پشاور میں اسلام آباد طرز کا اور تقریبا اسی رقبے کا ایک نیا شہر حیات آباد کے نام سے تعمیر کیا گیا جس میں اب لاکھوں لوگ آباد ہیں۔ اس نئی آبادی میں ایک نیا صنعتی علاقہ بھی قائم کیا گیا جس سے صوبے میں معاشی ترقی کے علاوہ ہزاروں لوگوں کے لیے لیے روزگار کا انتظام ہوا۔ بلاشبہ ایسے فلاحی منصوبے ایک وزیر اعظم کے عدالتی اور سیاسی قتل کے لیے کافی اہم گواہ تھے۔

وزیر اعظم بھٹو کے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام میں عام مزدوروں کا استحصال زوروشور سے جاری تھا۔ اسے ختم کرنے کے لیے اور مزدوروں کی زندگی میں معاشی استحکام لانے کے لیے بڑی بڑی صنعتوں کو قومیایا گیا۔ گو اس فیصلے کو نوکر شاہی کی نااہلی کی وجہ سے صحیح طریقے سے نافذ نہ کرنے کی صورت میں معیشت کو شدید نقصان ہوا لیکن اس میں وزیراعظم کی نیت پر کسی طرح بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کا مقصد صرف غریبوں کی زندگی میں بہتری اور استحکام لانا تھا لیکن یہ نیک نیتی بھی قابل تعزیر ٹھہری۔

ذوالفقار علی بھٹو کی المناک موت نے پاکستانی معاشرے کو سیاسی طور پر مکمل تقسیم کر دیا اور یہ تقسیم 43 سال بعد بھی اس ملک کو سیاسی استحکام سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ اس شہادت نے ملک کے کلیدی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بھی متزلزل کر دیا۔ جس طرح عدالتوں نے اس مقدمے کو چلایا اور جس طرح اس مقدمے کے دوران قانون کی دھجیاں بکھیری گئیں یہ اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔

ہماری قانونی تاریخ میں پہلی مرتبہ قتل کا مقدمہ ہائی کورٹ سے شروع کیا گیا اور سپریم کورٹ تک اس قانونی عمل کے قتل پر جوں تک نہیں رینگی۔ پانچ ماہ پر محیط عدالتی کارروائی محض ایک ڈھونگ تھی۔ خوفزدہ گواہوں نے جو شہادتیں دیں وہ دوسروں کی باتوں پر مشتمل تھیں۔ اس کے باوجود شہادتیں جرم ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ اسی بنا پر سپریم کورٹ کے سات میں سے تین ججوں نے سزائے موت کے فیصلے سے اختلاف کیا اور ایک مرحوم چیف جسٹس تو یہ اعتراف اور انکشاف بھی کر چکے ہیں کہ وزیر اعظم کے عدالتی قتل کے لیے ان پر بڑا دباؤ تھا۔ یہ دباؤ کس کا تھا اور کیا ان ججوں کو ایک لمحے کے لیے بھی انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے انصاف کرنے کا خیال دل میں نہیں آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا اس ادارے نے جو اپنے ہی سابق سربراہ کے اعتراف کے مطابق اس قتل میں معاون ثابت ہوا، کبھی ادارے کے طور پر پشیمانی یا ندامت ہوئی۔ اور کبھی اس ادارے نے اس ناانصافی اور عدالتی ظلم پر عوام سے یا ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان سے معافی مانگی یا اس کے بارے میں سوچا بھی؟ باوقار راستہ تو یہی تھا لیکن ہماری عدالت عالیہ میں ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ ابھی بھی فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔

انصاف کے اس قتل کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور ان کی میراث کو کینگرو عدالتوں کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو کا اب تک کوئی نام لیوا نہیں ہوتا۔ بھٹو کے خلاف یہ سارے الزامات بعد کی سوچ تھے کیونکہ بغاوت کی وجہ یہ الزامات تو نہیں تھے۔ بعد میں طالع آزما آمر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اور عوامی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے عدالتی قتل کا راستہ اختیار کیا۔

سیاسی قیادتوں کو ختم کرنے کے لیے یا بدنام کرنے کے لیےاب بھی عدالتوں کو احتساب کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ہماری تاریخ کا سبق ہے کہ عوامی رہنماؤں کو متنازع عدالتی فیصلے نہیں بلکہ صرف عوامی عدالتیں ہی ختم کر سکتی ہیں۔

ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سیاستدان کامل نہیں اور ان سے خدائی صفات کی امید نہیں رکھنی چاہیں۔ اگر وہ اپنی کارکردگی میں ناکام ہوتے ہیں تو عوام انہیں اپنے ووٹ سے باہر نکال سکتے ہیں نہ کہ ان کے خلاف سازشوں کے جال بنے جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ