'خواتین متاثر ہو رہی ہیں، چیف جسٹس ای عدالتیں بنائیں'

کرونا وائرس کے باعث دیگر عدالتوں سمیت فیملی کورٹس میں زیر سماعت مقدمات بھی التوا کا شکار ہیں، جس پر وکلا کی ایک تنظیم نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو خط لکھ کر ای عدالتیں بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

کرونا وائرس کی وبا کے خطرے کے پیش نظر زیادہ تر عدالتیں بند ہو گئی ہیں اور کسی قسم کے مقدمات کی پیروی نہیں کی جارہی (فائل تصویر: اے ایف پی)

پشاور کی رہائشی ایک خاتون کو کچھ عرصہ قبل طلاق ہوئی اور اب وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے والد کے گھر مقیم ہیں۔ انہوں نے ایک سال قبل پشاور کی فیملی عدالت میں درخواست جمع کروائی تھی کہ ان کا سابق شوہر بچوں کا نان نفقہ  نہیں اٹھاتا اس لیے عدالت انہیں پابند کرے کہ وہ یہ خرچہ اٹھائیں۔

یہ کیس گذشتہ ایک سال سے پشاور کی فیملی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اب کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظرعدالتوں کی بندش کی وجہ سے یہ کیس مزیدتاخیر کا شکار ہے۔

مذکورہ خاتون کے وکیل سیف اللہ کاکاخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچوں سمیت خاتون کے خرچے کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے ۔

انہوں نے بتایا: 'خاتون کے سابق شوہر نے دوسری شادی کر رکھی ہے۔ ان کے بچوں کے مستقبل اور تعلیم کا بھی مسئلہ ہے کیونکہ خاتون کے مطابق ان کے شوہر ان کا اور بچوں کا خرچہ نہیں اٹھاتے، لہذا وہ عدالت سے انصاف مانگ رہی ہیؐں۔'

مذکورہ خاتون کی طرح اسی نوعیت کے سینکڑوں مقدمے عدالت میں زیر التوا ہیں، جن کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے تاہم کرونا وائرس کی وبا کے خطرے کے پیش نظر زیادہ تر عدالتیں بند ہو گئی ہیں اور کسی قسم کے مقدمات کی پیروی نہیں کی جارہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں وکلا کی کاکاخیل فرم نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے  نام خط لکھ کر ان سے استدعا کی ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے چونکہ عدالتی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں اس لیے ای کورٹ کے مکینزم پر کام کیا جائے تاکہ انصاف کے متلاشی، جن میں خاص طور پر خواتین اور بچے شامل ہیں، انہیں جلد از جلد انصاف مل جائیں۔

کاکاخیل فرم کے سربراہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل میاں محب  اللہ کاکاخیل نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ اگرچہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پورے ملک میں عدالتی کارروائیاں تقریباً بند ہیں اور صرف ارجنٹ کیسز پر سماعت کی جاتی ہے، لیکن فیملی عدالتوں کی بندش کی وجہ سے خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔

درخواست میں مزید لکھا گیا ہے: 'خاص طور پر وہ خواتین جن کے کیسز نان نفقے کے حوالے سے ہیں یعنی شوہر کی طرف سے طلاق یافتہ بیوی اور ان کے بچوں کو خرچہ نہیں دیا جاتا تو وہ بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ اگر ان میں سے کچھ خواتین اگر ملازمت کرتی بھی ہیں تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ متاثر ہو ہے ہیں۔'

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں میاں محب اللہ کاکاخیل نے بتایا  کہ ہم نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو  یہ مشورہ دیا ہے کہ ای عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔

ای عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں؟

کاکاخیل نے بتایا کہ اس قسم کی عدالتیں سپریم کورٹ کی سطح پر قائم ہیں جو چیف جسٹس پاکستان کے بینچ میں موجود ہیں اور اس بینچ میں کوئی بھی وکیل کسی بھی شہر سے اپنا کیس عدالت کے سامنے رکھ کر اس کی پیروی کر سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ میں یہ مکینزم بنانا چاہیے کہ وکیل درخواست آن لائن جمع کروائیں، متعلقہ جج صاحبان کو درخواست کی آن لائن کاپی مل سکتی ہے جبکہ پٹیشن کے لیے جو حلف نامہ ضروری ہوتا ہے وہ بھی آن لائن جمع ہو سکتا ہے اور مقدمے کی فیس کسی بھی آن لائن ریٹیل جیسا کہ ایزی پیسہ کے ذریعے جمع ہو سکتی ہے۔

محب اللہ کاکا خیل نے مزید وضاحت کی: 'عموماً پٹیشن کی ہارڈ کاپیز مدعی، ججوں اور وکلا کے لیے بنائی جاتی ہیں تو وہ بھی آن لائن ہو سکتی ہے یا اس کے لیے کوئی ایپ بھی بنائی جاسکتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار دفتر میں حلف نامے کے لیے نادرا سے تصدیق کی جاتی ہے تو وہ بھی آن لائن کی جاسکتی ہے کیونکہ جس طرح زیادہ تر کمپنیوں کا ریکارڈ نادرا کے ساتھ منسلک ہے تو عدالت بھی نادرا کے ساتھ منسلک ہو کر اس کی تصدیق کروا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ای عدالت سے لوگوں کو جلد انصاف مل سکے گا اور عدالت میں موجود سٹاف ممبران سمیت جج صاحبان اور وکلا کرونا کی وبا سے محفوظ رہیں گے۔

آج کل عدالت نے کیا سیٹ اپ بنایا ہے؟

اس سوال کے جواب میں اسی فرم کے نمائندہ اور پشاور ہائی کورٹ کے وکیل سیف اللہ کاکاخیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پشاور ہائی کورٹ میں سنگل رکنی بینچ ضروری مقدمات کو سن رہا ہے جن میں ضمانت یا حکم امتناع جیسے مقدمات شامل ہیں۔

سیف اللہ نے مزید بتایا کہ مقامی عدالتوں میں دو سیشن ججز بیٹھتے ہیں جو ضروری نوعیت کے مقدامت سنتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیملی کورٹس سمیت کسٹم عدالتیں، محتسب عدالتیں، کنزیومر کورٹس اور دیگر سب عدالتیں بند ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان