کرتارپور راہداری مذاکرات، اب تک کی پیش رفت کیا ہے؟

کرتارپور کی سرزمین بھارت کی تحویل میں دینے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں، یہ گوردوارہ صرف سکھوں کے مذہبی رسومات کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ محمد فیصل

ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق کرتارپور راہداری کے قیام کا مقصد پاکستان اور بھارت میں موجود سکھ برادری کو قریب لانا ہے۔ فائل تصویر: اے ایف پی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری سے سکھ  یاتریوں کی آمدورفت کا طریقہ کار طے کرنے کے حوالے سے بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں اٹاری کے مقام پر ہونے والے پہلے اجلاس میں طے پایا ہے کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کا اگلا دور19 مارچ 2019 کو ہوگا جبکہ بھارتی وفد 2 اپریل 2019 کو اجلاس کے لیے پاکستان آئے گا۔

کرتارپور راہداری کے مسودے پر مذاکرات کے لیے پاکستان کا ایک وفد واہگہ سرحد کے راستے بھارت کے اٹاری کمپلیکس پہنچا، جہاں راہداری کے معاہدے اور اس کے تکنیکی امور کو انجام دینے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

تکنیکی سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان راہداری بنانے کی شاہراہ اور اس کی گزرگاہ کی تعمیر سمیت دیگر امور طے کیے گئے۔

بھارتی سرحد کے قریب پاکستان کے علاقے نارووال میں 28 نومبر 2018 کو کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا گیا تھا جبکہ 21 جنوری 2019 کو پاکستان نے بھارت کو کرتارپور راہداری کا مسودہ بھجوایا۔

پاکستانی صحافیوں کو ویزہ دینے سے انکار

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ’گزشتہ برس 30 سے زائد بھارتی صحافیوں نے کرتارپور منصوبے کی کوریج کی تھی۔ بھارتی صحافیوں نے وزیراعظم سے بھی ملاقات کی تھی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا تھا۔ لیکن افسوس ناک بات ہے کہ بھارت نے پاکستانی صحافیوں کو کرتارپور اجلاس کے لیے ویزے جاری نہیں کیے۔‘

پاکستان کی جانب سے دس صحافیوں نے امرتسر کے ویزے کی درخواست دی تھی، جس کا بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کہتے ہیں کہ ’کرتارپور راہداری کے قیام کا مقصد پاکستان اور بھارت میں موجود سکھ برادری کو قریب لانا ہے۔ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور کرتارپور راہداری اُسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کرتارپور راہداری درحقیقت امن کی راہداری ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی واقع ہو گی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے یہ بھی بتایا کہ ’کرتارپور کی سرزمین بھارت کی تحویل میں دینے کی جو باتیں کی جا رہی ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ کرتارپور گوردوارہ صرف سکھوں کے مذہبی رسومات کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا انتظام اور کنٹرول حکومت پاکستان کے پاس ہوگا۔‘

کرتارپور راہداری کے انتظامات

سرحد پار سے دوربین کے ذریعے کرتارپور کا دیدار کرنے والوں کے لیے ساڑھے چار کلومیٹر کی سڑک سارا فاصلہ سمیٹ دے گی اور سکھ یاتریوں کو کرتارپور آنے کے لیے ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

بھارت سے سرحد پار کرنے والے سکھ زائرین کی بارڈر ٹرمینل تک پیدل یا گاڑیوں کے ذریعے رسائی ممکن ہو گی۔ سرحد عبور کرنے کے بعد زائرین سرحد سے ملحقہ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کریں گے اور پارکنگ کے ساتھ بنائے گئے ٹرمینل پر امیگریشن کروا کر مقررہ دورانیے کا خصوصی پرمٹ حاصل کریں گے۔

پرمٹ حاصل کرنے کے بعد شٹل سروس کے ذریعے زائرین کو گوردوارے سے ملحق مخصوص پارکنگ تک پہنچایا جائے گا، جہاں بائیو میٹرکس کے بعد زائرین گوردوارے میں داخل ہو کر اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کر سکیں گے۔

بھارت میں بھی کرتارپور راہداری کا 30 فیصد کام مکمل

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی پنجاب کے ضلع گورداس پورکاعلاقہ ڈیرہ بابا نانک کرتارپور راہداری کے لیے زیروپوائنٹ طے کیا گیا ہے اور یہی راہداری کے لیے حد تصور ہوگی۔

پاکستانی سرحد کے قریب مسافر ٹرمینل بلڈنگ کمپلیکس میں سکھ یاتریوں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمینل کے قریب ہی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی اور تعمیر کا یہ کام جلد مکمل کیا جائے گا۔ ٹرمینل کے لیے 50 ایکڑ زمین مختص کی گئی ہے، جس پر کام 2 مرحلوں میں مکمل ہوگا، پہلے مرحلے میں 15 ایکڑ زمین پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ اس ٹرمینل پر روزانہ 5 ہزار سکھ یاتریوں کو کسٹم اور امیگریشن کی سہولیات ملیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان