پاکستان میں نئی تکنیک سے کرونا وائرس کو لگام دینے کی منصوبہ بندی

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حال ہی میں مغربی دنیا کی ایک نئی طبی تکنیک کو اختیار کرنے کی تجویز پر کام شروع کیا گیا ہے، جس کو 'پول ٹیسٹنگ' کا نام دیا جارہا ہے۔

پول ٹیسٹنگ تکنیک میں ایک بڑے گروپ کے سواب سیمپلز لے کر ان کو آپس میں مکس کرکے ایک ہی ٹیسٹ سے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔(فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور لاک ڈاؤن کا عرصہ طویل ہوجانے کے باعث معاشی و سماجی صورت حال مزید گھمبیر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ڈیڑھ مہینے کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بعض صوبوں اور علاقوں میں ٹیسٹ کی استعداد مطلوبہ ہدف تک نہیں بڑھ پائی ہے۔

ایک طرف اس سلسلے میں جہاں مختلف عوامل کو قصوروار ٹھہرایا جارہا ہے، وہیں ان حالات کے پیش نظر پاکستان میں حال ہی میں مغربی دنیا کی ایک نئی طبی تکنیک کو اختیار کرنے کی تجویز پر کام شروع کیا گیا ہے، جس کو 'پول ٹیسٹنگ' کا نام دیا جارہا ہے۔

پول ٹیسٹنگ تکنیک کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس سے  روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے کرونا ٹیسٹس کی استعداد بہت زیادہ بڑھ جائے گی، جس کی وجہ سے نہ صرف ملک اور عوام کو بہت بڑا معاشی ریلیف ملے گا بلکہ نتائج حاصل کرنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

فوکل پرسن برائے کرونا وائرس ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پنجاب میں پول ٹیسٹ کا طریقہ کار اپنانے کے لیے پانچ لیبارٹریوں میں تجربات شروع ہو چکے ہیں اور کامیابی ملنے کی صورت میں اسے دوسرے صوبوں کی لیبارٹریوں تک بھی پھیلایا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پول ٹیسٹنگ کے اس آئیڈیا کو خیبر پختونخوا میں خاص طور پر بہت پذیرائی ملی کیونکہ پنجاب اور سندھ کے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد کے حوالے  سے یہ صوبہ تیسرے نمبر پر ہے اور یہاں ٹیسٹ کی استعداد اب تک صرف 800 تک بڑھ پائی ہے۔

پول ٹیسٹنگ تکنیک کے بارے میں خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے انڈپینڈنٹ اردو  کو بتایا کہ تقریباً ایک ہفتے پہلے ان کی ڈی جی ہیلتھ طاہر ندیم سے میٹنگ میں اس آئیڈیا پر گفتگو ہوئی، جس کے بعد وہ  اس کو عملی جامہ پہنانے پر متفق ہوئے۔

تیمور جھگڑا نے مزید تفصیل بتائی:’پول ٹیسٹنگ کی اس نئی تکنیک پر پہلے ہی کام ہو رہا ہے۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی لیبارٹری میں ڈاکٹر دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں۔ جیسے ہی وہ مجھے گرین سگنل دیتے ہیں، ہم اس کو سٹینڈرڈ تکنیک کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔‘

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اس وقت جو ایک چیلنج ان کو پیش آرہا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ہر طرف سے انتہائی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 'ہم پر تنقید ہو رہی ہے کہ ہم ٹیسٹ کی استعداد کیوں نہیں بڑھا پا رہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ ہم بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ بے شک دو چار روز زیادہ لگ جائیں لیکن ہم تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کے درست نتائج پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ ‘

صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا نے بتایا کہ  حیات آباد میڈیکل کمپلکس (ایچ ایم سی) سوات اور ایبٹ آباد کی لیبارٹریوں کو بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کے لیے فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید علاقوں کی لیبارٹریوں پر کام جاری ہے۔

پول ٹیسٹنگ تکنیک کیا ہے؟

پول ٹیسٹنگ تکنیک میں ایک بڑے گروپ کے سواب سیمپلز لے کر ان کو آپس میں مکس کرکے ایک ہی ٹیسٹ سے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ ٹیسٹ منفی آئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس پورے گروپ میں کسی کو بھی یہ وائرس نہیں لگا ہے جبکہ مثبت نتائج سامنے آنے کی صورت میں طبی ماہرین مختلف طریقے تجویز کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک طریقہ یہ بتایا جارہا ہے کہ اس گروپ یا پول کو مزید دو حصوں میں تقسیم کرکے ہر گروپ کا ایک ٹیسٹ کیا جائے۔ جس گروپ کے نتائج مثبت آئے اس کے لیے یہی طریقہ کار  دہرایا جائے، یہاں تک کہ پورے گروپ کا رزلٹ سامنے آجائے۔

دوسرا طریقہ یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ پہلی بار مثبت آنے کی صورت میں پول میں موجود لوگوں کو دو ، دو لوگوں میں تقسیم کرکے ٹیسٹ کیے جائیں۔

تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس گروپ کے نتائج مثبت آئیں، اس میں شامل تمام لوگوں کے الگ الگ ٹیسٹ کیے جائیں۔ 

پول ٹیسٹنگ  کا فائدہ یہ ہے کہ اگر پہلی ہی کوشش میں ایک بڑے  گروپ کا رزلٹ منفی آجائے تو  وقت، پیسے اور توانائی کے ضیاع سے بچا جاسکتا ہے۔دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس تکنیک سے روزانہ لاکھوں کی تعداد میں ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔

 موجودہ وقت میں اس نئی تکنیک کو  بیشتر مغربی ممالک کے علاوہ مشرق وسطیٰ، بھارت اور بنگلا دیش میں بھی تجربے سے گزارا  جارہا ہے۔

خیبر پختونخوا میں پول ٹیسٹنگ کس مرحلے میں ہے؟

پول ٹیسٹنگ کی تکنیک اس وقت خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی  لیبارٹری میں تجربات کے مختلف مراحل سے گزر رہی ہے۔

لیبارٹری کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر آصف کا کہنا ہے کہ اس آئیڈیا کو بروئے کار لانے کے لیے مختلف تجربات کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا: 'مثبت اور منفی سواب سیمپلز کو مختلف تعداد میں ایک ساتھ ملا کر نتائج حاصل کیے جارہے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ مثبت کی نشاندہی ہو رہی ہے یا نہیں اور یہ اطمینان بھی ہو سکے کہ مستقبل میں کوئی مثبت ٹیسٹ منفی نہ نکلے۔'

ڈاکٹر آصف نے بتایا کہ پول ٹیسٹنگ کے لیے کسی خاص آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ صرف ایک طریقہ کار اور آئیڈیا ہے جس کو موجودہ لیبارٹری میں ہی مختلف تجربات سے گزار کر اس کی کامیابی یا ناکامی کا اعلان کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق