پاکستانی کرکٹ: ہر نئے دن ایک نیا انکشاف

جس تیزی سے فکسنگ کی خبریں آرہی ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ کرکٹ بورڈ سے لےکرکھلاڑیوں تک ہر ایک کرکٹ کم فکسنگ زیادہ کھیلتا تھا۔

(ٹوئٹر)

سلیم ملک کی زبان کیا کھلی سارا پنڈورا بکس ہی کھلنے لگا ۔ جس کو جو کچھ بھی یاد ہے اس نے میڈیا پر نشر کرنا شروع کردیا۔ 

کہیں کسی کے فکسنگ کے اعترافات تو کہیں دوسروں پر الزامات اس روانی سے برس رہے ہیں کہ میڈیا کو سمجھ نہیں آرہا ہے کس کوکہاں جگہ دیں۔ خبروں کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے رپورٹرز کے دروازوں پر خبریں خود چل کر آ  رہی ہیں۔

ہر نیا دن ایک نیا انکشاف لے کر آرہا ہے اور جس تیزی سے فکسنگ کی خبریں آرہی ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ کرکٹ بورڈ سے لےکرکھلاڑیوں تک ہر ایک کرکٹ کم فکسنگ زیادہ کھیلتا تھا۔

تازہ ترین انکشاف میں سابق فاسٹ بولر سرفراز نواز نے وسیم اکرم پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے 1999 کے ورلڈ کپ میں تین میچزفکس کیے تھے جبکہ وقار یونس، مشتاق احمد اور انضمام الحق بھی فکسنگ میں ملوث تھے۔

سلسلہ سلیم ملک سے شروع ہوا وہ تو تلاش معاش میں آئے تھے لیکن بات ماضی پر شروع ہوگئی۔

ایک نشریاتی ادارے سےبات کرتے ہوئیے اپنے اوپر الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور الزام کے دفاع میں سابق کپتان راشد لطیف کا حوالہ دیا کہ وہ اپنے سابقہ بیان سے کنارہ کش ہوچکے ہیں جب کہ راشد لطیف نے بیان دیا کہ وہ آج بھی اپنے الزامات پر قائم ہیں۔

واضح رہے راشد لطیف نے الزام لگایا تھا کہ سلیم ملک نے جنوبی افریقہ میں ہارنے کے لیے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا غلط فیصلہ عمداً کیا تھا۔

ابھی ان الزامات کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سابق چئیرمین کرکٹ بورڈ  خالد محمود نے بیان دیا کہ 1999 ورلڈ کپ کا فائنل فکس تھا جس میں پاکستان نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

خالد محمود کا بیان اس لیے معنی خیز ہے کہ اس ورلڈ کپ کے چند دنوں بعد کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس میں 1999 فائنل کی ٹیم کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔

خالد محمود کے بولتے ہی ایک اور سابق سیکریٹری کرکٹ بورڈ عارف علی عباسی کو جوش آیا اور انھوں نے سلیم ملک کی حمایت میںبیان دے ڈالا۔

عارف عباسی نے باسط علی کو گھسیٹ لیا اور کہا کہ وہ فکسنگ میں ملوث تھے  جس کی رپورٹ اس وقت کے مینیجر انتخاب عالم نےکی تھی تاہم رپورٹ صرف زبانی تھی اس لیے کسی کارروائی کے قابل نہ تھی۔

باسط علی جنھوں نے راشد لطیف کے ساتھ مل کر فکسنگ کے راز افشا کیے تھے اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر کیسے چپ رہتے،  فوراًتردید کردی کہ یہ عارف عباسی جھوٹ بول رہے ہیں اور انتخاب عالم نے ایسی کوئی رپورٹ نہیں دی تھی۔

انتخاب عالم نے موقف اختیار کیا کہ میں ضعیفی کے باعث بھول چکا ہوں اور تصدیق نہیں کرسکتا۔

باسط علی اس سے قبل ایک بھارتی اخبار سے انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ٹیم کا ماحول وسیم اکرم نے عمران خان کےاشارے پر خراب کیا تھا اور جاوید میاں داد کو جلد ریٹائر کرانے میں وسیم اکرم کا ہاتھ تھا۔

باسط علی کہتے ہیں کہ 1996 کے ورلڈ کپ میں جاوید میاں داد کے لیے جگہ نہیں بن رہی تھی اور وہ اپنی زندگی کا چھٹا ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے تھے انھوں نے پوری ٹیم سے پوچھا تھا کیا کوئی میرے لیے جگہ خالی کرسکتا ہے تو سب خاموش رہے اس وقت میں نے ہاں کردی تھی، میں عظیم کرکٹر کو مایوس نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

باسط علی کوئی ورلڈ کپ نہ کھیل سکے۔

جسٹس عبدالقیوم کمیشن میں سلیم ملک کے ساتھ پابندی کا شکار ہونے والے عطاالرحمن بھی سامنے آگئے ہیں اور بیس سال گزرنےکے بعد ان کو ہوش آیا ہے ، کہتے ہیں کہ میں راشد لطیف کے الزامات کا جواب دینے کو تیار ہوں وہ میرے سامنے آکر بات کریں۔

سابق وکٹ کیپر راشد لطیف کے بیان اور مبینہ طور پر ایک کیسٹ کی بنیاد پر کمیشن نے سلیم ملک اور عطاالرحمن پر پابندی لگائی تھی جب کہ وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد اور انضمام الحق پر جرمانے کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راشد لطیف کی حیثیت کو مشکوک بنانے کے لیے سابق چئیرمین خالد محمود نے ان کے بیانات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

میچ فکسنگ کے گھوٹالے کو لیکر جو شرفا شہر تبرے کے تازیانے ایک دوسرے پر برسارہے ہیں اس نے شکوک اور گہرے کردیے ہیں۔

سرفراز نواز ان سارے جرائم کی جڑ وسیم اکرم کو قرار دیتے ہیں جو ٹیم میں گروہ بندی سے فکسنگ تک میں ملوث ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ  قیوم کمیشن میں اگر وسیم اکرم پر تاحیات پابندی لگادی گئی ہوتی تو یہ عفریت عمر اکمل تک نہ پہنچتا۔ ان کا الزام ہے کہ وسیم اکرم کے بھائی ندیم اکرم بکیز سے رابطہ میں رہتے تھے جنھیں پولیس نے حراست میں بھی لیا تھا ۔

سرفراز نواز کے الزامات کہاں تک صحیح ہیں یہ تو وسیم اکرم بتاسکتے ہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ 90 کی دہائی میں پاکستان ٹیم کی حالت اس قدر خراب تھی کہ ہر سیریز میں نیا کپتان بنایا جاتا تھا مگر ٹیم قابو میں نہیں آتی تھی، ٹیم واضح طورپر دو گروپ میں تقسیم تھی۔

گروپنگ کا سلسلہ اس دور میں جو شروع ہوا وہ عرصہ تک قائم رہا جس کے اثرات ہر سیریز میں نظر آتے رہے ہیں۔

گروپنگ کی بات سلیم ملک نے بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقار یونس وسیم اکرم کی کپتانی سے خوش نہ تھے اس لیے ٹیم میں دوگروپ بن گئے تھے۔ ان کا موقف ہے کہ انھیں کپتانی دونوں گروپ کو توڑنے کے لیے دی گئی تھی لیکن ماضی بتاتا ہے کہ گروپنگ تو نہ ٹوٹی البتہ فکسنگ کا جال بچھ گیا۔

جب 2010 میں سلمان بٹ کمپنی فکسنگ کیس میں پکڑی گئی تو محمد عامر نے بیان دیا تھا کہ سلمان بٹ فکسنگ کے لیے اتنے پراعتماد تھے کہ لاپرواہی برتتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم سے پہلے فکسنگ کرنے والے کون سے پکڑے گئے جو ہم پکڑے جائیں گے۔

شرجیل خان، ناصر جمشید، خالد محمود اور عمر اکمل بھی اسی لیے فکسنگ کرتے ہوئے پریشان نہیں ہوئے کیونکہ وہ ماضی کے ان بڑےکرکٹرز کو دیکھ رہے تھے جو فکسنگ بھی کرتے تھے اور قومی ہیرو بھی تھے۔

بڑھاپے میں جب اعضا وجوارح مضمحل ہوجاتے ہیں اور انسان گوشہ نشین ہوجاتا ہے تو اس کے پاس سوچنے کاوقت بہت ہوتا ہے اورماضی کی باتیں فلیش بیک میں چلنے لگتی ہیں ۔

یہی کچھ پاکستان کرکٹ کے بابوؤں عارف علی عباسی، خالد محمود اور سرفراز نواز کے ساتھ ہورہا ہے۔  پرانی کتابیں دماغ کے دریچوں میں کھل رہی ہیں اور بوسیدہ کاغذوں کی شکستہ تحریروں کی مانند اپنی یادیں مجتمع کرکے زمانے کی نذر کرنا چاہتے ہیں ۔

سرفراز نواز لرزتے ہوئے لہجے میں جب وسیم اکرم کو میچ فکسنگ کی پاکستان ٹیم میں جڑ قرار دیتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ یہی وہ کھلاڑی ہیں جو جب کسی گلی سے گزر جائیں تو جم غفیر جمع ہوجاتا ہے اور لوگ فکسنگ کو بھول کر سیلفیوں کے سیشن کرنے لگتےہیں۔

سرفراز صاحب ! آپ اس قوم سے وسیم اکرم کے محاسبے کی بات کررہے ہیں جس نے قومی خزانے لوٹنے والے بڑے بڑے مداریوں کو یہی کہہ کر سر پر بٹھالیا کہ کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے ۔

تو آپ بھی بھول جایے کس نے کب کہاں فکسنگ کی ہے، بس نتیجے پر نظر رکھیے اور انجوائے کیجیے ۔ اگر کبھی کرکٹ کی روح پرلگنے والے زخموں کو دھونا پڑے تو اس شعر سے دھو لیجیے گا۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ