دیگر صوبوں میں غربت کم خیبرپختونخوا میں زیادہ کیوں؟

پی آئی ڈی ای کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح پچھلے چار سالوں کے  مقابلے میں کم ہوئی ہے تاہم دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں غربت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح پچھلے چار سالوں کے مقابلے میں کم ہوئی ہے تاہم دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں غربت میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

پی آئی ڈی ای پاکستان میں معاشی موضوعات پر مخلتف مقالے اور سروے شائع کرتا ہے۔ پاکستان میں 2019  کی غربت کی شرح کا اندازہ لگانے کے لیے اس مقالے کے لیے پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے ملک میں گھرانوں اور افراد کی تعداد استعمال کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سرکاری طور پر 14-2013 میں کاسٹ آف بیسک نیڈز طریقہ کار یعنی کہ ایک گھر کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کتنی رقم چاہیے، کے ذریعے غربت کا اندازہ لگایا تھا۔ اس سروے میں 3030 روپے مقرر کیے گئے تھے کہ اگر کوئی شخص اس سے کم کماتا ہے تو غربت کی لکیر سے نیچے تصور ہوگا۔

اسی لکیر کو 16-2015  میں 3250 روپے کر دیا گیا تھا جبکہ ابھی اس رپورٹ میں اس کو 3776  کر دیا گیا ہے۔ یعنی اس رپورٹ میں غریب سے مراد وہ شخص ہے جو ماہانہ  3776  روپے سے کم کماتا ہے۔

اسی رپورٹ کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں 16-2015  کے مقابلے میں 19-2018  میں غربت کی شرح 24.3  سے کم ہو کر 21.5 ہوگئی ہے یعنی سال 2015  میں ہر 100 افراد میں سے تقریباً 24  افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے لیکن اب یہ تعداد 100 میں سے 21  ہوگئی ہے۔

صوبائی اعدادوشمار پر اگر نظر دوڑائی جائے تو تمام صوبوں میں 2015  کے مقابلے میں اب غربت کی شرح کم ہوگئی ہے تاہم خیبر پختونخوا میں غربت زیادہ ہوئی ہے۔

تمام صوبوں میں پنجاب میں غربت کی شرح سب سے کم 16.3 فیصد ہے یعنی ہر 100  میں 16 افراد غریب ہیں جبکہ بلوچستان سب سے غریب صوبہ ہے جہاں 100  میں سے 40  افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 16-2015 کے مقابلے میں غربت 20.8 فیصد سے کم ہو کر 16.3  فیصد پر آگئی ہے۔ اسی طرح سندھ میں یہ شرح 32.2 سے کم ہو کر 24.6  پر آئی جبکہ بلوچستان میں بھی غربت میں کمی دیکھی گئی ہے اور 2015  کے 42.2 فیصد سے کم ہو کر 40.7  فیصد پر آگئی ہے۔

ڈاکٹر ناصر اقبال پی آئی ڈی ای میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کام کرتے ہیں اور حالیہ رپورٹ انہی نے لکھی ہے۔

جب انڈپینڈںٹ اردو نے ڈاکٹر ناصر سے پوچھا کہ خیبر پختونخوا میں غربت دیگر صوبوں کے مقابلے میں کیوں بڑھی ہے، تو انہوں نے بتایا کہ اس کی مخلتف وجوہات ہیں جس میں ایک 2017 کی مردم شماری ہے کیونکہ ہماری رپورٹ  مردم شماری کے مطابق بنی ہے جبکہ 16-2015 میں 1998 کی مردم شماری کے اعداو شمار استعمال کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر ناصر نے بتایا: ’خیبر پختونخوا میں غربت کی سطح میں اضافے کو مردم شماری کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتے ہیں اور یہ ٹرینڈ دیگر صوبوں میں بھی دیکھا گیا ہے جیسا کہ سندھ میں غربت میں بہت کمی دیکھی گئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کی ایک وجہ قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں ضم ہو جانا ہے جس کا بھی اثر صوبے پر ضرور پڑا ہے۔ تاہم اگر رپورٹ کے اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو وہاں پر خیبرپختونخوا کے لیے الگ اور قبائلی اضلاع کو شامل کرنے کے بعد الگ الگ اعدادوشمار لکھے گئے اور دونوں میں غربت بڑھی ہے۔

ڈاکٹر ناصر نے پورے پاکستان میں غربت کی سطح کم ہونے کے حوالے سے بتایا کہ دو چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے غربت میں کمی اور اضافہ ناپا جاتا ہے جس میں ملک کے شرح نمو کو دیکھا جاتا ہے جبکہ دوسری پالیسی احساس پروگرام جیسے پراجیکٹس شروع کرنا ہوتے ہیں جو غربت میں کمی میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

کیا کرونا وائرس کا پاکستان میں غربت کی سطح پر کوئی مفنی اثر پڑے گا، اس کے جواب میں ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ہمارے ادارے کے اندازے کے مطابق غریب افراد میں تقریباً تین کروڑ افراد کے اضافے کا خدشہ ہے۔

مکمل انٹریو دیکھیے:۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت