وزیر اعظم نیب کے وسیع اختیارات سے مطمئن نہیں ہیں: فواد چوہدری

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب اپنا دائرہ کار اتنا نہ پھیلائے کہ اُن کو پتہ ہی نہ چلے کہ کون سا کیس کدھر ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ نیب نے اپنا دائرہ کار بہت وسیع کر لیا ہے جس سے وزیر اعظم عمران خان بھی مطمئن نہیں ہیں۔

کئی دنوں سے آپوزیشن کی جانب سے قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے حکومت کو بھیجے گئے مسودے کی باتیں گردش میں ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے وفاقی وزیر فواد چوہدری سے اُن کی وزارت، سائنس ایںڈ ٹیکنالوجی، سے ہٹ کر چند سیاسی معاملات پر خصوصی بات چیت کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ نیب ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے، نہ ہی نیب میں چئیرمین سے لے کر چپڑاسی تک کوئی تعیناتی تحریک انصاف کی حکومت نے کی ہے اور ان کے پاس کیسز بھی ہماری حکومت کے آنے سے پہلے کے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’جس طرح سے نیب کو پھیلا دیا گیا ہے وزیر اعظم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ نیب اپنا دائرہ کار اتنا نہ پھیلائے کہ اُن کو پتہ ہی نہ چلے کہ کون سا کیس کدھر ہے۔ نیب نے اپنا دائرہ کار اتنا وسیع کر لیا کہ روزانہ ایک نئی گرفتاری اور نیا کیس نکل رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’نیب کے وسیع دائرہ کارسے نہ وزیر اعظم مطمئن ہیں اور احتساب کا جو عمل چل رہا ہے اُس سے نہ تحریک انصاف کے کارکن خوش ہیں۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ نیب کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے قوانین میں ترامیم کی جا رہی ہیں اور اگر کرونا کی وبا کے حالات پیدا نہ ہوتے تو حکومت اب تک نیب کے قوانین میں ترمیم کر چکی ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’نیب میں غیر معمولی کیسز کی غیر معمولی تحقیقات کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ن لیگ کے ساتھ ڈیل پر فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ سے کوئی ڈیل نہیں ہے۔ ’اب ن لیگ سیاست میں نہیں ہے۔ ابھی اُن کو پارٹی کے اندرونی مسائل درپیش ہیں۔ ن لیگ کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ میاں نواز شریف کےبعد پارٹی قیادت کون سنبھالے گا مریم نواز، شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی یا کوئی اور؟‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ لیڈرز ہیں اگر لیڈر ہٹ جائے تو پارٹی ختم ہو جاتی ہے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف واحد پارٹی ہے جس میں موروثی سیاست نہیں ہے بلکہ ایک جماعت کے طور پر سیاسی جماعت ہے۔

فواد چوہدری کے اس جواب پر ہم نے اُن سے اگلاسوال کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ کابینہ اور اہم عہدوں پر منتخب لوگ کم اور منظور نظر لوگ زیادہ ہیں۔ تو کیا تحریک انصاف بطور پارٹی اتنی مضبوط ہے کہ جماعت بنانے کے لیے انہیں باہر سے نئے چہرے لانے کی ضرورت پڑ رہی ہے؟ اس سوال پر فواد چوہدری نے جواب دیا کہ ’پارلیمنٹری فارم آف گورنمنٹ میں آپ پارلیمنٹرین کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔‘

لیکن انہوں نے اہم عہدوں پر فائز منظور نظر افراد کے حوالے سے سوال کا جواب نہیں دیا۔

وفاقی وزیر سے سوال کیا گیا کہ کرونا وائرس کی ایمرجنسی صورت حال میں بھی حکومت اب تک تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر کیوں نہ لا سکی؟ اور سندھ اور وفاق کا تنازع کیا ہے؟  اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بیانات کا مختلف ہونا یا یہ کہنا کہ سندھ کا نظریہ وفاق سے مختلف ہے اس سے کوئی قیامت نہیں آ جاتی بلکہ یہ تو جمہوری رویہ ہے کہ ہر ایک کی اپنی رائے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی پرتمام سیاست دانوں کے نمائندے ایسے بیان دیتے رہتے ہیں لیکن جہاں  تک بات فیصلہ سازی کی ہے، جیسے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر، تو وفاق، تمام صوبوں اور افواج پاکستان کی نمائندگی ہے اور وہاں اجلاس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی بلکہ باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا: ’جیسے وزیراعظم چاہتے تھے کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کُھلے لیکن صوبے نہیں چاہتے تو پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کھولی گئی۔ اس لیے ایسا نہیں ہے کہ فیصلے مل جُل کر نہیں ہو رہے۔ یہ تاثر صرف میڈیا کی حد تک ہے۔‘

کرونا وائرس کے حوالے سے کیا حالات قابو میں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے ابھی ارتقائی مرحلہ ہے پاکستان میں 26 فروری کو پہلا کیس آیا لیکن باقی دنیا سے حالات پھر بھی بہت بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر 46 دن میں صورت حال واضح ہوتی ہے۔ پہلے 46 دن تو حالات پاکستان کے قابو میں رہے اور اگلے 46 میں دیکھتے ہیں حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔

مکمل انٹرویو دیکھیے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست