'مجھے بچپن سے ہی فوجی بننے کا بے حد شوق تھا'

خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ سے تعلق رکھنے والے طالب علم محمد عدنان نے کہا کہ فوجی بننے کی خواہش اس لیے ہے کہ میں نہ صرف اپنا بلکہ اپنے علاقے کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں اور میرے علاقے سے اب تک کوئی شخص بھی فوج میں نہیں گیا۔

(پکسابے)

'میٹرک کے بعد جب بھی کوئی فوج میں بھرتی آتی تو اس میں سب سے پہلے میں حصہ لیتا تھا،  لیکن سب کچھ کلیئر ہونے کے بعد کہا جاتا تھا کہ ابھی آپ چلو پھر آپ کو آگاہ کردیا جائے گا اور پھر یوں میں اگلی بھرتی تک اس بارے میں  سوچتا رہتا پر نئی بھرتی تو آجاتی لیکن پرانی بھرتی میں کی گئی دوڑ، اور ٹیسٹ سمیت سلیکشن بارے کوئی جواب  نہ آتا جس کا مجھے انتظار ہوتا۔'

یہ کہنا ہے خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروآ سے تعلق رکھنے والے طالب علم محمد عدنان کا جنہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایسا نہیں کہ میں محض غربت اور بیروزگاری کی خاطر فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہوں کیونکہ وہ تو میں محنت مزدوری کرکے بھی اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال لیتا ہوں لیکن یہ میرا ایک ایسا خواب ہے جو بچپن سے ہی میرے دل و دماغ پر سوار ہے۔ اور اس سپنے کو پانے کے لیے میں گزشتہ کئی سالوں سے جدوجہد کررہا ہوں۔ 

ایک سوال کے جواب میں عدنان نے کہا کہ فوجی بننے کی خواہش اس لیے ہے کہ میں نہ صرف اپنا بلکہ اپنے علاقے کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں بلکہ میرے علاقے سے اب تک کوئی شخص بھی فوج میں نہیں ہے۔

عدنان نے بتایا کہ مجھے جب پتہ چلتا تھا کہ کل فلاں جگہ فوج کی بھرتی ہے تو میں بھرتی والی مقررہ جگہ پر ایک دن پہلے  یا پھر رات کے دو بجے گھر سے نکل کر مقررہ وقت سے پہلے پہنچ جایا کرتا  تھا۔ لیکن بدقسمتی یہ تھی کے بھرتی سال میں ایک بار ہوتی ہے اور جب میں نے دو ہزار سترہ میں پہلی مرتبہ اپلائی کیا تھا تو اس میں سب کچھ کلیئر ہونے کے باوجود میں سلیکٹ نہیں ہوسکا۔

لیکن میں نے سوچا کہ ہار نہیں ماننی کیونکہ جس دن میں نے ہار مان لی وہ میری شکست کا دن ہوگا۔

کچھ عرصہ پہلے ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ہمارے ضلع کی فوجی چھاونی میں بھرتی ہورہی تھی جس میں بہت زیادہ رش تھا جس کی وجہ سے پولیس نے بھرتی کے لیے آئے ہوئے تمام نوجوانوں پر لاٹھی چارج کردیا اس بھگدڑ میں دو نوجوان مارے گئے اور مجھ سمیت متعدد زخمی ہوگئے۔

تو جب میں گھر آیا تو میری والدہ کو یہ سب پہلے سے پتہ چل چکا تھا کیونکہ میرے محلہ کے کچھ نوجوان بھی گئے تھے  اور انہیں جب بھگدڑ کا پتہ چلا تو وہ راستے میں تھے اور واپس آگئے تھے۔

میری والدہ نے مجھے کہا کہ بیٹا اب بس آپ نے دوبارہ  نہیں جانا لیکن میں نے ماں سے کہا امی آپ بجائے مجھے دعا دینے کے منع کررہی ہیں ذرا سوچیں ان ماؤں کے لخت ہائے جگر کے بارے میں جو سرحدوں اور دہشتگردی کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔ 

عدنان نے مزید بتایا کہ اب مجھے کچھ قریبی لوگ طعنے دیتے ہیں کہ تم اور فوجی سپاہی بنو گے؟ پہلے اپنی شکل تو دیکھو اس پر دل بہت مایوس ہوتا ہے اور اکثر رو دیتا ہوں  کیونکہ اس کی اصل وجہ میرا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے بےحس لوگ اس قسم کے طعنے دیتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگلے بندے کے دل پر کیا گزرے گی۔

نہ صرف یہ بلکہ مجھے چھیڑنے کے لیے عدنان فوجی بلاتے ہیں۔ اور یہ وہ طنزیہ کہتے ہیں۔ 

عدنان کے مطابق فوج میں بھرتی ہونے کے لیے عمر کی حد بائیس سال ہے اور میں جب پہلے پہل بھرتی کی کوشش میں تھا تو چونکہ میں نے پڑھ رکھا تھا اور یہ بات میرے ذہن میں کھٹکتی بھی تھی کہ اس میں تو بائس سال تک میں کوشش کرسکتا اور اگر میں کامیاب نہ ہوسکا تو پھر تو میری یہ سپاہی بننے کی خواہش دم توڑ جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دوران میری ایک اہلکار سے بھرتی کے دوران ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس پر رہنمائی لی جس پر انہوں نےکہا آپ فوج کے ساتھ ایف سی میں بھی کوشش کرو کیونکہ جب آپ ایک دفعہ بھرتی ہوجاؤ گے تو  اس کے بعد فوج میں بھی آسکتے ہو۔

بس پھر میں نے فوج کے ساتھ ایف سی میں بھی کوششیں شروع کردیں۔ لیکن کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ کیونکہ شاید دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی سفارشی کلچر اور میرٹ نہیں ہوتا۔

 عدنان کہتے ہیں کہ میں  بڑا پرجوش تھا کہ اس سال انشاءاللہ نئی بھرتی میں حصہ لے کر ضرور کامیاب ہوجاونگا اور میں کئی ماہ سے اس کی تیاری بھی کررہا تھا جیسے کہ دوڑ لگانا اور اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا وغیرہ وغیرہ لیکن کرونا کی وجہ سے ہونے والی تمام بھرتیاں منسوخ ہوگئی اور اب میری عمر بھی بائیس سال سے اوپر ہوگئی۔

اسی طرح ایف سی میں بھی عمر کی حد 23سال ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کرونا وائرس اتنی جلدی جانے والا نہیں ہے اور نہ فی الحال کوئی بھرتیاں شروع کرنے کا چانس ہے پس اب دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ کرونا نے میرا فوجی سپاہی بننے کا سپنا توڑ دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ