پاکستان نے جمعرات کو امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ ’جلد‘ پاکستانیوں کے لیے ویزے کا اجرا دوبارہ شروع کر دے گا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کو بریفنگ میں کہا کہ پاکستان امریکہ میں ویزوں کے اجرا کی حالیہ معطلی کو اندرونی جائزے کے حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔
امریکہ نے بدھ کو پاکستان سمیت 75 ممالک کے تارکین وطن کے ویزوں پر کارروائی کو معطل کرنے کا اعلان کیا، جو 21 جنوری سے شروع ہو گی۔
اس سلسلے میں امریکی سٹیٹ دپارٹمنٹ نے کہا کہ ’ان ممالک کے تارکین وطن اکثر عوامی فلاح کے پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔’
ایک بیان میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا تھا کہ پابندی اس وقت تک فعال رہے گی جب تک امریکہ اس بات کو یقینی نہیں بناتا کہ نئے تارکین وطن امریکی عوام سے دولت نہیں نکالیں گے۔‘
حالیہ مہینوں میں پاکستان کے واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات کے باوجود اس اقدام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ’رپورٹس‘ کے سامنے آنے کا اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر یہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر تارکین وطن کے ویزوں کی کارروائی کے اندرونی جائزے کے بارے میں ایک مختصر بیان تھا کہ وہ اس پر عمل کر رہے ہیں۔‘
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم مزید تفصیلات جاننے کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔ یہ ایک ڈویلیپ ہوتی اطلاع ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں۔
’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکی امیگریشن پالیسیوں اور نظام پر نظرثانی کا ایک داخلی جاری عمل ہے اور امید ہے کہ تارکین وطن کے ویزوں کی معمول کی کارروائی جلد دوبارہ شروع ہو جائے گی۔‘
ویزا پروسیسنگ کی معطلی سے ان ہزاروں پاکستانیوں کے سفر، مطالعہ اور روزگار کی منصوبہ بندی میں تاخیر ہو سکتی ہے، جو سالانہ امریکی ویزا حاصل کرتے ہیں۔
ویزوں کے اجرا پر پابندی امریکی پبلک چارج رول سے منسلک ہے، جو اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ تارکین وطن کے حکومتی امداد پر انحصار کرنے کا امکان ہے یا نہیں۔
ایران
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
’ہم ایران کو نہ صرف ایک ہمسایہ ملک بلکہ عالمی برادری کے ایک اہم رکن کے طور پر بڑی اہمیت دیتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ایران میں حالیہ احتجاج عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات کے باعث شروع ہوئے، جنہیں بین الاقوامی پابندیوں نے مزید سنگین بنا دیا۔
’ہم امید کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت کی جانب سے تاجروں اور عوام کے لیے اعلان کردہ معاشی امدادی اقدامات مشکلات میں کمی کا باعث بنیں گے، اور ہم ان کوششوں کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کو یقین ہے کہ ایرانی قوم ان مشکلات پر قابو پا لے گی اور مزید مضبوط ہو کر ابھرے گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کی موجودہ صورت حال میں وہاں سفر کے خواہش مند پاکستانیوں سے متعلق ترجمان نے کہا کہ ’اس ضمن میں آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے اس سے قبل ایک سفری ایڈوائزری جاری کی تھی۔ ہم اس کی دوبارہ یاددہانی کراتے ہیں کہ ایران کا سفر کرنے کے خواہشمند پاکستانی شہری اس ایڈوائزری کو مدنظر رکھیں اور اپنی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی احتیاط برتیں۔‘
انہوں نے کہا کہ تہران میں ہمارا سفارت خانہ، سفیر اور ان کی ٹیم ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کی فلاح و بہبود اور سلامتی کے لیے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں۔
غزہ
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ابتدا ہی سے غزہ امن عمل میں سرگرم رہا ہے اور عرب و اسلامی ممالک کے اس گروپ کا حصہ رہا ہے جو اس مسئلے پر کام کر رہا ہے۔
’ہم نے غزہ امن منصوبے اور بعد ازاں اس کی توثیق کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت کی، جس کا مقصد معصوم فلسطینی جانوں کو بچانا، جنگ بندی برقرار رکھنا، بڑے پیمانے پر انسانی امداد کو یقینی بنانا اور غزہ سے قابض افواج کے مکمل انخلا کو ممکن بنانا تھا۔‘
ترجمان نے کہا کہ جہاں تک بین الاقوامی استحکامی فورس (آئی ایس ایف) کا تعلق ہے، اس بارے میں میرا مؤقف وہی ہے جو گذشتہ ہفتے بیان کیا گیا تھا۔ تاحال کوئی خودمختار فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہماری معلومات کے مطابق آئی ایس ایف کا مینڈیٹ ابھی طے نہیں پایا۔