سقوط ڈھاکہ اور چینی مافیا کی رپورٹ

پاکستان میں اگلا واقعہ سقوط ڈھاکہ کا نہیں ہوگا بلکہ یہ ملک ہی تحلیل ہو جائے گا۔ اس لیے آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم مل کر چل سکتے ہیں یا ہر صوبہ اپنے اپنے راستے پر چل نکلے۔

ڈھاکہ میں قومی پریڈ کا ایک منظر (اے ایف پی)

میں سب سے پہلے آپ سب کو اور آپ کے اہل خانہ کو دلی عید مبارک پیش کرتا ہوں۔ یہ رمضان مشکل گزرا لیکن انشا اللہ آنے والے دن بہتر ہوں گے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتیں مختلف موقعوں پر سقوط ڈھاکہ کا ذکر ضرور کرتی ہیں، خاص طور پر جب ان کی اپنی پارٹی یا پارٹی مالکان کے مفادات خطرے میں ہوں۔ ابھی چند دن پہلے ایک دفعہ پھر شہباز شریف نے اس کا ذکر کیا۔

سقوط ڈھاکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا اندوہناک واقعہ ہے جسے یاد کر کے ہر پاکستانی شدید غم اور غصہ محسوس کرتا ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ بات کہی کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کا تعلق غیرفطری تھا اور اس قسم کی جغرافیائی ساخت کا ایک بھی ملک دنیا میں موجود نہیں جہاں ملک کے دو حصے ہزاروں میل دور ہوں۔

میرا ہمیشہ یہ خیال رہا کہ جلد یا بدیر دونوں حصوں کو علیحدہ ہونا تھا۔ اگر یہ معاملہ محبت، اخوت اور امن کے ساتھ ہو جاتا تو دونوں ملکوں کے لیے بہتر تھا۔ خانہ جنگی اور جنگ کی صورت میں علیحدگی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات آج تک معمول پر نہیں آ سکے۔

سقوط ڈھاکہ کی مکمل ذمہ داری فوج پر ڈالنا بھی منطقی نہیں اور حقائق بتاتے ہیں کہ فوج، سیاست دان اور بیوروکریٹ تمام اس علیحدگی میں برابر کے شریک تھے۔ چونکہ فوج عنان حکومت کو سنبھالے ہوئے تھی اسی لیے لازمی طور پر اس کی ذمہ دار قرار پائی۔

تقریباً 40 سال گزرنے کے بعد آج ہمیں اس بات کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے اس تاریخی واقعے سے کوئی سبق سیکھا یا نہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پاکستانی خود کو بہت عقل مند اور بنگالیوں کو کمتر سمجھتے تھے لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ ہم غلط تھے۔ آج کا بنگلہ دیش کئی معاملات میں پاکستان سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہم سے زیادہ باشعور اور عقل مند نکلے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بنگلہ دیش اپنے قیام کے وقت آبادی میں ہم سے زیادہ تھا لیکن انہوں نے کامیابی سے اس پر قابو پایا اور ہم آبادی میں ان سے کافی آگے نکل آئے ہیں۔ ان کی معیشت بھی ہم سے آگے بڑھ چکی ہے۔ ان کی برآمدات ہم سے 150 فیصد زیادہ ہیں اور ان کے زرمبادلہ کے ذخائر ہم سے 300 فیصد زیادہ ہیں۔ ان کی شرح خوندگی 72.89 فیصد ہے جبکہ ہماری 58 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے۔

یقیناً بنگلہ دیش کو آج بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر ہمارے مسائل بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ ان تمام اعداد و شمار کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بنگالہ دیشیوں نے علیحدگی کا فیصلہ ٹھیک کیا۔

آج اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھا؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری فوج، سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے ان غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج بھی استحصالی نظام مضبوطی سے جاری ہے۔ چینی مافیا کی جو فرانزک رپورٹ سامنے آئی ہے کیا وہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں؟ اشرافیہ امیر سے امیر ہو رہی ہے اور ملک اور عوام غربت کی نئی حدوں کو چھو رہے ہیں۔

ہم ہر 10 سال بعد ایک مارشل لا یا مارشل لا جیسی صورت حال سے گزرتے ہیں۔ آٹھارویں ترمیم سے سیاسی پارٹیوں کی باریاں تو لگ گئیں مگر عوام محروم ہی رہی۔ بلدیاتی نظام ناپید ہے اور صرف کاغذوں میں قائم ہے۔ بنگلہ دیش علیحدگی کے وقت چار صوبوں پر مشتمل تھا۔ اب وہاں آٹھ صوبے ہیں۔

ہم آج تک یہی فیصلہ نہیں کر پائے کہ کیا نئے صوبے بننے چاہیے یا نہیں۔ ہم 1971 سے اب تک غیرملکی آقاؤں کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن اس کے بدلے ہمیں کیا ملا؟ چند بلین ڈالرز جبکہ کئی سو بلین ڈالرز کا نقصان اور کئی ہزار فوجی اور سویلین جان سے گئے۔ نہ ہم داخلی پالیسی میں آزاد ہیں اور نہ خارجہ۔

دوسرا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں سقوط ڈھاکہ جیسا دوسرا واقعہ ہو سکتا ہے؟ میں نے ہمیشہ یہ بات کہی کہ اس قوم کو عوام نے اکھٹا رکھا ہوا ہے۔ سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کا بس چلے تو اب تک اس ملک کے کئی حصے ہو چکے ہوتے۔ فوج میں ملک کے ہر خطے کے سپاہی موجود ہیں اس لیے یہ ایک قومی ادارہ ہے لیکن فوج بھی استحصالی رویہ رکھتی ہے اور اسے اپنے رجحانات پر نظرثانی کرنی ہوگی۔

پاکستان میں اگلا واقعہ سقوط ڈھاکہ کا نہیں ہوگا بلکہ یہ ملک ہی تحلیل ہو جائے گا۔ اس لیے آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم مل کر چل سکتے ہیں یا ہر صوبہ اپنے اپنے راستے پر چل نکلے۔ عوام مل کر رہنا چاہتی ہے لیکن سیاست دانوں کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات سے اٹھ نہیں پا رہے۔ اس لیے اب ایک قومی سیاسی مذاکرات فوراً ہونے چاہییں تاکہ ہم اس ملک کو بہتر طور پر منظم کر سکیں اور آگے لے کر جا سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ