کرونا ویکسین کے لیے ایک ارب ڈالر کا معاہدہ: اثر پذیری پر شکوک

آکسفورڈ ویکسین گروپ کے سربراہ پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے خبردار کیا کہ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ سائنسدان کب تک اس ویکسین کے موثر ہونے کے تصدیق کر سکیں گے۔

(اے ایف پی)

برطانیہ کے سائنس دانوں نے کرونا وائرس کے لیے موثر ویکسین کی تیاری کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے یہ ویکسین کب وسیع تر آبادی کے لیے دستیاب ہو گی۔ 

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ اگر آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی کووڈ 19 ویکسین کا  انسانوں پر تجربہ کامیاب ثابت ہوا تو رواں سال ستمبر تک برطانیہ کے لیے اس ویکسین کی تین کروڑخوراکیں دستیاب ہوسکتی ہیں۔ 

تاہم آکسفورڈ ویکسین گروپ کے سربراہ پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے خبردار کیا کہ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ سائنسدان کب تک اس ویکسین کے موثر ہونے کے تصدیق کر سکیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آکسفورڈ ویکسین گروپ کے تعاون سے اس ویکسین پر کام کرنے والی عالمی دوا ساز کمپنی ایسٹرازینیکا نے ایک روز قبل ہی کرونا وائرس کی ویکسین کی 40 کروڑ خوراکوں کی فراہمی کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کر دیے تھے۔ 

دوسری جانب حکومت نے بیرون ممالک سے برطانیہ پہنچنے والے افراد پر 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنے کی پابندی لگا دی ہے اور ایسا نہ کرنے والوں کو ایک ہزار پاؤنڈ تک کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔
جمعے کو برطانیہ میں جمعے کو کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہو گئی جب کہ 36 ہزار سے زائد افراد اس مہلک وائرس کے باعث موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دوران برطانوی حکومت  نےعوام سے اپیل کی ہے کہ بینک ہالیڈے سے قبل سماجی دوری کے اصولوں پر عمل پیرا رہیں۔

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے خبردار کیا کہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی ساحل مقامات عوام سے بھر گئے ہیں اور چند لوگ احتیاط سے کام نہیں لے رہے۔

وزیر اعظم بورس جانسن کے سرکاری ترجمان نے ویسٹ منسٹر میں بریفنگ کے دوران بتایا: تمام تر شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عوام کی اکثریت اب بھی قواعد پر عمل پیرا ہے اور ایسا کرنے سے زندگیاں بچانے میں مدد مل رہی ہے اور ہم اس کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم ان قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں جو عوام دے رہے ہیں لیکن اب جب کہ ویک اینڈ قریب ہے تو ہم سب کو اپنی ان کوششوں کی تجدید کرنی ہوگی اور سماجی دوری کے قوانین کی پاسداری کرتے رہنا ہو گی۔'

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق