’جذبہ خیرسگالی‘: افغان صدر کا دو ہزار طالبان قیدی رہا کرنے کا اعلان

افغان طالبان کی جانب سے تین روزہ جنگ بندی کے بعد صدر اشرف غنی نے ’جذبہ خیر سگالی‘کے طور پر دو ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کے غیر متوقع سیز فائر کو قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں (اے ایف پی)

افغان طالبان کی جانب سے تین روزہ جنگ بندی کے بعد صدر اشرف غنی نے ’جذبہ خیر سگالی‘کے طور پر دو ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صادقی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ’صدر اشرف غنی نے دو ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے جس کا مقصد طالبان کی جانب سے عیدالفطر کے دوران جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں جذبہ خیرسگالی کا اظہار کرنا ہے۔‘

اس سے قبل عید کے موقع پر اتوار کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ افغان حکومت طالبان قیدیوں کی رہائی میں جلد تیزی لائی جائے گی۔

صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کے غیر متوقع سیز فائر کو قبول کرتے ہوئے ان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کو اشرف غنی کی جانب سے فوری طور پر قبول کر لیا گیا تھا۔

افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ 'ہم بطور ذمہ دار حکومت ایک قدم بڑھتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ ہم طالبان قیدیوں کی رہائی میں تیزی کو یقینی بنائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت افغان حکومت نے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا تھا جبکہ جواب میں طالبان کی جانب سے ایک ہزار افغان سکیورٹی فورسز اہلکاروں کو رہا کیا جانا تھا۔

قیدیوں کا یہ تبادلہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد کی فضا کو قائم کرنے لیے کیا جا رہا ہے۔  کابل حکومت کی جانب سے ابھی تک ایک ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے جبکہ طالبان تین سو افغان اہلکاروں کو رہا کر چکے ہیں۔

اشرف غنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا حکومتی وفد طالبان کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی اشرف غنی کے سابقہ مخالف عبد اللہ عبداللہ کر رہے ہیں۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان گذشتہ ہفتے ہی طاقت کی تقسیم کا معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد افغانستان میں کئی مہینوں سے جاری سیاسی بحران اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عبد اللہ عبداللہ نے بھی جنگ بندی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کو پہلی ترجیح دی جانی چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’امن افغان عوام کی ترجیح ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جو ان مشکلات کو ختم کر سکتا ہے جن کا سامنا افغان عوام کو طویل عرصے سے ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا