’سیاہ فام مظاہرین سے امریکی پولیس کے بدترین سلوک پر غصہ آتا ہے‘

امریکی ریاست مینیسوٹا میں پولیس کے ہاتھوں 46 سالہ سیاہ فارم شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد تین دنوں سے پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔

میناپولس میں جاری مظاہروں میں پولیس  کی شیلنگ میں زخمی ہونے والے ایک شخص(اے ایف پی)

امریکی ریاست مینیسوٹا میں پولیس کے ہاتھوں 46 سالہ سیاہ فارم شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے 24 گھنٹے بعد میناپولس شہر میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور غم وغصے کا اظہار کیا۔

جارج فلوئیڈ کو پیر کے روز پولیس کو ایک سٹور پر جعلسازی کے بارے میں موصول ہونے والی ایک ٹیلی فون کال کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ 

یہ واضح نہیں ہے کہ اُن کی گرفتاری اور سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والی ویڈیو کے درمیانی عرصے میں کیا ہوا تھا۔ لیکن ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فلوئیڈ کو ہتھکڑی لگی ہوئی ایک پولیس افسر نے اُن کی گردن پر گھٹنا رکھ کر انہیں سات منٹ کے اذیت ناک وقت تک زمین پر لگائے رکھا۔ حالانکہ فلوئیڈ بےبسی کی حالت میں پولیس افسر کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اُن کی جان کی پروا کی جائے۔

فلوئیڈ نے مشکل سے سانس لیتے ہوئے کہا: 'میں سانس نہیں لے سکتا۔' اُن کی اس التجا سے ایرک گارنر کے آخری الفاظ کی خوف ناک یاد تازہ ہو گئی جب 2014 میں نیو یارک پولیس کے افسر ڈینیئل پنٹالیو نے غیرقانونی طورپر ایرک کا گلا دبا دیا تھا۔ جس طرح گارنر کے آخری الفاظ پولیس کے سیاہ فام لوگوں کے خلاف عام بہمیانہ رویے کے خلاف ایک نعرہ بن گئے، اسی طرح ایک قریبی ہسپتال میں فلوئیڈ کی موت کے بعد شہر میں احتجاج شروع ہو گیا۔

مظاہرین نے اپنے آپ اور دوسروں کو کرونا (کورونا) وائرس سے بچانے کے لیے ماسک پہن رکھے تھے۔ مظاہرہن میں زیادہ تر سیاہ فام شامل تھے۔ ابتدا میں مظاہرین شکاگو ایونیو کے بلاک نمبر 3700 میں اکٹھے ہوئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فلوئیڈ کو گرفتار کیا گیا اور اُن کی موت واقع ہوئی۔ مظاہرین نے 'میں سانس نہیں لے سکتا' کا نعرہ لگایا۔

اس غم وغصے کےاظہار کے جواب میں مظاہرین سے نمٹنے کے سامان سے لیس پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، روشنی والے دستی بم اور ربڑ کی گولیاں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

مظاہرین نے اُس مقام، جہاں فلوئیڈ نے اپنی آخری سانسیں لی، سے میناپولس پولیس کے تیسرے انتظامی علاقے (Precinct) کی عمارت کی طرف مارچ کیا۔

(پولیس کے رویے کے خلاف جمعرات کو شہر میں تیسرے روز تک پرتشدد احتجاج جاری ہے جس میں اب تک ایک ہلاکت بھی پیش آچکی ہے۔ ریاستی حکومت نے مظاہروں کو روکنے کے لیے نیشنل گارڈ کو بلا لیا ہے۔)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلوئیڈ کے جان سے جانے اور مظاہرین کے ساتھ پولیس کے وحشیانہ سلوک سے میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ میرا دل ٹوٹ گیا ہے لیکن میں کئی سال سے حیرت زدہ ہوں۔ میں سلوک میں اُس فرق کو دیکھتی ہوں جو پولیس نے اِن مظاہرین کے ساتھ رواں رکھا جو ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے اور جو پولیس نے اُن سفید فام مظاہرین کے ساتھ کیا جو لوگوں کو کرونا (کورونا) وائرس میں مبتلا کرنے کا حق دینے مطالبہ کر رہے تھے۔ میں اس بات پر شدید غصہ ہوں۔

تیس اپریل کو یہ سفید فام 'مظاہرین' ریاست مشیگن کی قانون ساز اسمبلی کے باہر اکٹھے ہو گئے اور اپنی زندگی بچانے کے لیے گھروں میں رہنے کے حکم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اُن میں بہت اے کے 47 رائفلوں سے مسلح تھے جب کہ دوسروں نے نازیوں کا نشان سواستیکا، علیحدگی پسند (کنفیڈریٹ) ریاستوں کے جھنڈے اور پھندے اٹھا رکھے تھے۔

جواب میں ریاست مشیگن کی گورنر گریچن وِٹمر نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر اپنے پالیسی بیان میں کہا: 'ہماری قانون ساز اسمبلی کے باہر جو کچھ ہوا اس میں سے کچھ  بےہودگی سے کچھ بدترین نسل پرستی اور اس ملک میں ہماری تاریخ کے کچھ تاریک حصوں کی تصویر کشی کی۔'

اگرچہ  اُن مطاۃرین کے رویے پرآن لائن بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی اور مذاق اڑایا گیا لیکن کرونا  وائرس کے معاملے میں حقیقت چھپائے جانے پر یقین رکھنے والے ان مظاہرین کو ریاستی تحفظ فراہم  کیا گیا۔ لیکن فلوئیڈ کی موت کے بعد پولیس افسروں نے خالی ہاتھ احتجاج کرنے والوں پر ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ پولیس نے ایسے سفید فام مظاہرین کو محض 'روکے رکھا' جن کے پاس اصلی گولیاں تھیں۔ انہوں نے کھلے عام ایسے ہتھیار اٹھا رکھے تھے جو گوشت اور ہڈیاں توڑ دیتے، جان سے مار دیتے اور معذور بنا دیتے ہیں۔

مشیگن میں سرعام ہتھیار اٹھا کر چلنا قانونی ہے۔ یہاں تک انہیں قانون ساز ادارے کی عمارت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے، 'بشرطیکہ جب تک کسی شخص نے قانونی ارادے کے ساتھ ہتھیار اٹھا رکھا ہو اور اُسے چھپایا نہ گیا ہو۔'

لیکن امریکہ یا کم ازکم سیاہ فام امریکہ میں 'قانونی' ہونے کا کوئی مطلب نہیں رہا۔

اس امریکہ میں عالمی وبا کے دنوں میں عوامی مقامات پر ہجوم کرنا، ماسک نہ لگانا اور بعض اوقات یہاں تک کہ جان بوجھ کر لوگوں کے چہرے پر تھوکنا قانونی ہے۔ تھوکنے سے ایک ایسا مسلسل عمل شروع  ہونے کا امکان ہوتا ہے جو ہزاروں کو بیماری میں مبتلا کر اور مار دے۔ ایسا لگتا ہے کہ سب کی حفاظت کے لیے ماسک لگانا اور ایک اور سیاہ فام کی موت کے بعد تھانے کی جانب مارچ کرنا، ایک بار پھر محض اپنے لیے بھیک مانگنا کہ ہمیں مارنا بند کیا جائے یہ سب قانونی نہیں۔

میں جب یہ لکھ رہی ہوں، میرے لوگوں اور ہمارے اتحادیوں پر آنسو گیس استعمال کی جا رہی ہے اور انہیں ایسے طریقوں سے وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا جو مکمل طور پر شہری حقوق کی تحریک کی بلیک اینڈ وائیٹ تصویر جیسے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی سوائے اس کے کہ آج ہم جو تصویریں دیکھ رہے ہیں وہ سمارٹ فونز سے لی گئی اور رنگین ہیں۔ 

مجھے اپنی بات واضح کرنے دیں۔ میں نہیں چاہتی کہ  پولیس کسی کو بھی تشدد کا نشانہ بنائے۔ سفید فام اور مسلح مظاہرین کو بھی نہیں جنہوں نے علیحدگی پسند ریاستوں کے پرچم اٹھا رکھے ہوں۔ میری خواہش ہے کہ مستقبل میں سفید فام برتری کے قائل افراد سے لے کر نسل پرست پولیس اہلکاروں تک، کسی قسم کا کوئی تشدد نہ ہو۔ لیکن مجھے مظاہرین کے ساتھ سلوک میں امتیاز پر غصہ آتا ہے۔ انصاف کے لیے لڑنے والا گروپ اپنی جلتی ہوئی آنکھوں کو دودھ کے گیلنوں کے ساتھ سکون پہنچا رہا ہے۔ دوسروں کو بیمار کرنے کے لیے لڑنے والے گروپ کی وائٹ ہاؤس کے موجودہ مکینوں کی جانب سے مدد کی جا رہی ہے۔

ایک گروپ لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے اپنے حق کے لیے لڑ رہا تھا تاکہ وہ حجام کے سیلون میں جا سکے۔ دوسرا گروپ سانس لینے کے حق کے لیے جدوجہد میں مصروف تھا۔ اس کے باوجود اس گروپ کو وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر