ملالہ کی گریجویشن: اب ارادے کیا ہیں؟

معلوم نہیں ملالہ گریجویشن کے بعد مزید تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں یا نہیں لیکن میری اطلاعات کے مطابق اب ان کی پوری توجہ ملالہ فنڈ پر ہو گی۔

اس سکرین گریب میں 16 مئی کو ملالہ یوسفزئی ایک ویڈیو پیغام میں امریکی ہائی سکول سے گریجویٹ ہونے والے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں (اے ایف پی)

جتنا کچھ ملالہ کو ان کی مختصر زندگی میں ملا ہے انہوں نے کبھی بھی اس کی خواہش نہیں کی تھی اور نہ خدا سے یہ کہا تھا کہ انہیں انگلینڈ پہنچا دیں، یا نوبیل انعام دلوا دیں یا پھر شہرت مل جائے۔ یہ سب تو ان کی صلاحیت اور بالخصوص ان کے والدین کی قربانیوں کے ذریعے انہیں ملا مگر ملالہ ہمیشہ ایک چیز کی دعا ضرور کرتی تھیں کہ ’اے اللہ میرا قد پانچ فٹ سے لمبا کر دے۔‘

ملالہ اپنی آپ بیتی میں لکھتی ہیں کہ جب ’میں 13 سال کی ہوئی تو میرا قد بڑھنا رک گیا۔ میں ہمیشہ اپنی عمر سے بڑی نظر آتی تھی لیکن اچانک میری تمام سہیلیاں مجھ سے لمبی ہوگئیں۔ میں اپنی کلاس کی 30 لڑکیوں میں سب سے چھوٹے قد والی تین لڑکیوں میں سے ایک تھی اور جب میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہوتی تھی تو مجھے بہت شرمندگی ہوتی۔‘

وہ لکھتی ہیں: ’میں اللہ تعالی سے لمبی ہونے کی دعا کرتی تھی۔ میں اپنے پیمانے اور پنسل کے ساتھ اپنی خواب گاہ کی دیوار پر خود کو ناپتی تھی۔ میں ہر صبح اس کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو جاتی، یہ جانچ پڑتال کرنے کے لیے کہ آیا میں بڑی ہوئی ہوں کہ نہیں۔ لیکن پنسل کا نشان ضدی ہو کر پانچ فٹ پر رک گیا تھا۔

میں نے اللہ میاں سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر میں تھوڑی سی بھی اور لمبی ہو جاؤں تو میں روزانہ کی پانچ نمازوں کے علاوہ رضاکارانہ طور پر قرآن کی تلاوت بھی کیا کروں گی۔‘

یہ دس، بارہ سال کی بچی ہمیشہ اللہ سے یہ دعا بھی کرتی تھی کہ اے خدا! مجھے طاقت دے کہ میں ظلم کے خلاف بولوں اور حوصلہ دے تاکہ عورتوں کے حقوق کے لیے کھڑی ہو سکوں، ہمیشہ بچوں کے لیے آواز بلند کرسکوں، اور یہ جو لوگ دہشت بن رہے ہیں اس کے خلاف ایک علامت بن جاؤں۔ اور پھر ایسا ہی ہو، آج وہ دہشت کے خلاف ایک ایسی توانا آواز ہیں جنہیں پوری دنیا ایک علامت کے طور پر جانتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرونا وبا کے سبب ملالہ کے امتحانات بھی آن لائن ہو رہے ہیں۔ یوٹیوب نے ملالہ یوسفزئی سے درخواست کی کہ چونکہ ان سمیت بہت سارے طالب علموں کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل ہو رہی ہے تو اس حوالے سے وہ کلاس 2020 کے لیے اپنے کچھ تصورات بیان کریں۔ ملالہ نے کلاس 2020 کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کو چھوڑیں کہ آپ نے اس بحران میں کیا کھویا بلکہ اس کے ذریعے آپ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ آپ نے اپنی تعلیم حاصل کی، اب وقت آگیا ہے کہ آپ باہر جائیں اور اسے دنیا کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔‘

 

ملالہ کی اس سال گریجویشن مکمل ہو رہی ہے اور انہوں نے جو مضامین پڑھے وہ سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات ہیں۔ معلوم نہیں کہ وہ گریجویشن کے بعد مزید تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں یا نہیں لیکن میری اطلاعات کے مطابق اب ملالہ یوسفزئی کی تمام تر ترجیحات ملالہ فنڈ کے لیے ہوں گی اور اب وہ اس پر ہی کام کریں گی تاکہ ان کے مقصد کے مطابق وہ ان تمام بچے بچیوں کے لیے تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکیں جو کسی بھی وجہ سے غیر تعلیم یافتہ ہیں یا سکول سے باہر ہیں۔

ملالہ کو تعلیم مکمل کرنے پر سوشل میڈیا کے صارفین داد بھی دے رہے ہیں۔ پروفیسر طاہر ملک نے ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’آپ کا یہ خواب پورا ہوا، امید ہے کہ آپ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کے لیے زیادہ توجہ کے ساتھ جدوجہد کریں گی۔‘

صارف اسوا زینب نے لکھا: مبارک ہو ملالہ کو گریجویشن پر، مجھے امید ہے کہ اس اعلیٰ تعلیم کو پسماندہ لڑکیوں اور معاشروں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تعلیم معاشروں میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر فواد چوہدری سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کا ملالہ کے لیے نیک تمناؤں کے ساتھ مبارک باد کا سلسلہ جاری ہے۔ ملالہ نے خود بھی یوٹیوب کی طرف سے دی گئی مبارک باد پر لکھا ہے کہ ابھی چار امتحان باقی ہیں لیکن آپ کا بہت بہت شکریہ۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس